خاندانی حالات


نسب نامہ:۔

Ewaan-e-Kasra
نسب نامه

حضورِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نسب شریف والد ماجد کی طرف سے یہ ہے:

حضرت محمد صلی الله عليه وسلم بن عبدالله بن عبدالمطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مره بن کعب بن لوی بن غالب بن فهر بن مالک بن نضر بن کنانه بن خزيمه بن مدرکه بن الياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان ۔

(بخاری ، ج ۱، باب مبعث النبی صلی الله تعالیٰ عليه و سلم)

اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کا شجرۂ نسب یہ ہے:

حضرت محمد صلی الله تعالیٰ عليه و سلم بن آمنه بنت وهب بن عبد مناف بن زهره بن کلاب بن مره ۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والدین کا نسب نامہ ’’ کلاب بن مرہ ‘‘ پر مل جاتا ہے اور آگے چل کردونوں سلسلے ایک ہو جاتے ہیں۔ ’’ عدنان‘‘ تک آپ کا نسب نامہ صحیح سندوں کے ساتھ باتفاق مؤرخین ثابت ہے اس کے بعد ناموں میں بہت کچھ اختلاف ہے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم جب بھی اپنا نسب نامہ بیان فرماتے تھے تو ’’عدنان‘‘ ہی تک ذکر فرماتے تھے۔

(کرمانی بحواله حاشيه بخاری ، ج ۱، ص۵۴۳)

مگر اس پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ ’’عدنان‘‘ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں، اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرزند ارجمند ہیں۔

خاندانی شرافت :۔

حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خاندان و نسب نجابت و شرافت میں تمام دنیا کے خاندانوں سے اشرف و اعلیٰ ہے اور یہ وہ حقیقت ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدترین دشمن کفار مکہ بھی کبھی اس کا انکار نہ کر سکے۔ چنانچہ حضرت ابو سفیان نے جب وہ کفر کی حالت میں تھے بادشاہ روم ہر قل کے بھرے دربار میں اس حقیقت کا اقرار کیا کہ ’’هو فينا ذو نسب‘‘ یعنی نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ’’عالی خاندان‘‘ ہیں۔ (بخاری ج۱ ص۴)

حالانکہ اس وقت وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بد ترین دشمن تھے اور چاہتے تھے کہ اگر ذرا بھی کوئی گنجائش ملے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات پاک پر کوئی عیب لگا کر بادشاہ روم کی نظروں سے آپ کا وقار گرا دیں۔