خاندانی حالات

-: نسب نامہ

-: نسب نامہ

حضورِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نسب شریف والد ماجد کی طرف سے یہ ہے:

حضرت محمد صلی الله عليه وسلم بن عبدالله بن عبدالمطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مره بن کعب بن لوی بن غالب بن فهر بن مالک بن نضر بن کنانه بن خزيمه بن مدرکه بن الياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان ۔

(بخاری ، ج ۱، باب مبعث النبی صلی الله تعالیٰ عليه و سلم)

:اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کا شجرۂ نسب یہ ہے

حضرت محمد صلی الله تعالیٰ عليه و سلم بن آمنه بنت وهب بن عبد مناف بن زهره بن کلاب بن مره ۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والدین کا نسب نامہ ’’ کلاب بن مرہ ‘‘ پر مل جاتا ہے اور آگے چل کردونوں سلسلے ایک ہو جاتے ہیں۔ ’’ عدنان‘‘ تک آپ کا نسب نامہ صحیح سندوں کے ساتھ باتفاق مؤرخین ثابت ہے اس کے بعد ناموں میں بہت کچھ اختلاف ہے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم جب بھی اپنا نسب نامہ بیان فرماتے تھے تو ’’عدنان‘‘ ہی تک ذکر فرماتے تھے۔

(کرمانی بحواله حاشيه بخاری ، ج ۱، ص۵۴۳)

مگر اس پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ ’’عدنان‘‘ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں، اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرزند ارجمند ہیں۔

-: خاندانی شرافت

-: خاندانی شرافت

حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خاندان و نسب نجابت و شرافت میں تمام دنیا کے خاندانوں سے اشرف و اعلیٰ ہے اور یہ وہ حقیقت ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدترین دشمن کفار مکہ بھی کبھی اس کا انکار نہ کر سکے۔ چنانچہ حضرت ابو سفیان نے جب وہ کفر کی حالت میں تھے بادشاہ روم ہر قل کے بھرے دربار میں اس حقیقت کا اقرار کیا کہ

‘‘ هو فينا ذو نسب ’’

یعنی نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ’’عالی خاندان‘‘ ہیں۔

(بخاری ج۱ ص۴)

حالانکہ اس وقت وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بد ترین دشمن تھے اور چاہتے تھے کہ اگر ذرا بھی کوئی گنجائش ملے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات پاک پر کوئی عیب لگا کر بادشاہ روم کی نظروں سے آپ کا وقار گرا دیں۔ مسلم شریف کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ’’ کنانہ ‘‘ کو برگزیدہ بنایا اور ’’ کنانہ ‘‘ میں سے ’’ قریش ‘‘ کو چنا ، اور ’’ قریش ‘‘ میں سے ’’ بنی ہاشم ‘‘ کو منتخب فرمایا، اور ’’ بنی ہاشم ‘‘ میں سے مجھ کو چن لیا۔

(مشکوٰة فضائل سيد المرسلين)

بہر حال یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ

لَه النَّسْبُ الْعَالِیْ فَلَيْسَ کَمِثْلِه

حَسِيْبٌ نَسِيْبٌ مُنْعَمٌ مُتَکَرَّمٗ

یعنی حضورِ انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کا خاندان اس قدر بلند مرتبہ ہے کہ کوئی بھی حسب و نسب والا اور نعمت و بزرگی والا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے مثل نہیں ہے۔

-: قریش

-: قریش

حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے خاندانِ نبوت میں سبھی حضرات اپنی گوناگوں خصوصیات کی وجہ سے بڑے نامی گرامی ہیں۔ مگر چند ہستیاں ایسی ہیں جو آسمان فضل و کمال پر چاند تارے بن کر چمکے۔ ان با کمالوں میں سے ’’ فہر بن مالک ‘‘ بھی ہیں ان کا لقب ’’ قریش ‘‘ ہے اور ان کی اولاد قریشی ’’ یا قریش ‘‘ کہلاتی ہے۔

’’ فہر بن مالک ‘‘ قریش اس لئے کہلاتے ہیں کہ ’’ قریش ‘‘ ایک سمندری جانور کا نام ہے جو بہت ہی طاقتور ہوتا ہے، اور سمندری جانوروں کو کھا ڈالتا ہے یہ تمام جانوروں پر ہمیشہ غالب ہی رہتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتا چونکہ ’’ فہر بن مالک ‘‘ اپنی شجاعت اور خداداد طاقت کی بنا پر تمام قبائلِ عرب پر غالب تھے اس لئے تمام اہل عرب ان کو ’’ قریش ‘‘ کے لقب سے پکارنے لگے۔ چنانچہ اس بارے میں ’’ شمرخ بن عمرو حمیری ‘‘ کا شعر بہت مشہور ہے کہ

وَ قُرَيْشٌ هیَ الَّتِیْ تَسْکُنُ الْبَحْرَ

بِها سُمِّيَتْ قُرَيْشٌ قُرَيْشًا

یعنی ’’ قریش ‘‘ ایک جانور ہے جو سمندر میں رہتا ہے۔اسی کے نام پر قبیلۂ قریش کا نام ’’ قریش ‘‘ رکھ دیا گیا۔

(زرقانی علی المواهب ج ۱ ص۷۶)

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے ماں باپ دونوں کا سلسلۂ نسب ’’ فہر بن مالک ‘‘ سے ملتا ہے اس لئے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ماں باپ دونوں کی طرف سے ’’ قریشی ‘‘ ہیں۔

-: ہاشم

-: ہاشم

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پَر دادا ’’ ہاشم ‘‘ بڑی شان و شوکت کے مالک تھے۔ ان کا اصلی نام ’’ عمرو ‘‘ تھا انتہائی بہادر، بے حد سخی، اور اعلیٰ درجے کے مہمان نواز تھے۔ ایک سال عرب میں بہت سخت قحط پڑ گیا اور لوگ دانے دانے کو محتاج ہو گئے تو یہ ملکِ شام سے خشک روٹیاں خرید کر حج کے دنوں میں مکہ پہنچے اور روٹیوں کا چورا کر کے اونٹ کے گوشت کے شوربے میں ثرید بنا کر تمام حاجیوں کو خوب پیٹ بھر کر کھلایا۔ اس دن سے لوگ ان کو ’’ ہاشم ‘‘(روٹیوں کا چورا کرنے والا) کہنے لگے۔

(مدارج النبوة ج۲ ص ۸)

چونکہ یہ ’’ عبدمناف ‘‘ کے سب لڑکوں میں بڑے اور با صلاحیت تھے اس لئے عبد مناف کے بعد کعبہ کے متولی اور سجادہ نشین ہوئے بہت حسین و خوبصورت اور وجیہ تھے جب سن شعور کو پہنچے تو ان کی شادی مدینہ میں قبیلہ خزرج کے ایک سردار عمرو کی صاحبزادی سے ہوئی جن کا نام ’’ سلمیٰ ‘‘ تھا۔ اور ان کے صاحبزادے ’’ عبد المطلب ‘‘ مدینہ ہی میں پیدا ہوئے چونکہ ہاشم پچیس سال کی عمر پاکر ملک شام کے راستہ میں بمقام ’’ غزہ ‘‘ انتقال کر گئے۔ اس لئے عبدالمطلب مدینہ ہی میں اپنے نانا کے گھر پلے بڑھے، اور جب سات یا آٹھ سال کے ہو گئے تو مکہ آکر اپنے خاندان والوں کے ساتھ رہنے لگے۔

-: عبدالمطلب

-: عبدالمطلب

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے دادا ’’ عبدالمطلب ‘‘ کااصلی نام ’’ شیبہ ‘‘ ہے۔ یہ بڑے ہی نیک نفس اور عابد و زاہد تھے۔ ’’ غار حرا ‘‘ میں کھانا پانی ساتھ لے کر جاتے اور کئی کئی دنوں تک لگاتار خداعزوجل کی عبادت میں مصروف رہتے۔ رمضان شریف کے مہینے میں اکثر غارِ حرا میں اعتکاف کیا کرتے تھے، اور خداعزوجل کے دھیان میں گوشہ نشین رہا کرتے تھے۔ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نورِ نبوت ان کی پیشانی میں چمکتا تھااور ان کے بدن سے مشک کی خوشبو آتی تھی۔ اہل عرب خصوصاً قریش کو ان سے بڑی عقیدت تھی۔ مکہ والوں پر جب کوئی مصیبت آتی یا قحط پڑ جاتا تو لوگ عبدالمطلب کو ساتھ لے کر پہاڑ پر چڑھ جاتے اور بارگاہِ خداوندی میں ان کو وسیلہ بنا کر دعا مانگتے تھے تو دعا مقبول ہو جاتی تھی۔ یہ لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے سے لوگوں کو بڑی سختی

کے ساتھ روکتے تھے اور چور کا ہاتھ کاٹ ڈالتے تھے۔ اپنے دسترخوان سے پرندوں کو بھی کھلایا کرتے تھے اس لئے ان کا لقب ’’ مطعم الطیر ‘‘ (پرندوں کو کھلانے والا) ہے۔ شراب اور زنا کو حرام جانتے تھے اور عقیدہ کے لحاظ سے ’’ موحد ‘‘ تھے۔ ’’ زمزم شریف ‘‘ کا کنواں جو بالکل پٹ گیا تھا آپ ہی نے اس کو نئے سرے سے کھدوا کر درست کیا، اور لوگوں کو آب زمزم سے سیراب کیا۔ آپ بھی کعبہ کے متولی اور سجادہ نشین ہوئے ۔اصحاب فیل کا واقعہ آپ ہی کے وقت میں پیش آیا ۔ایک سو بیس برس کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی۔

(مدارج النبوة ج۲ ص ۸)

-: اصحابِ فیل کا واقعہ

-: اصحابِ فیل کا واقعہ

حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی پیدائش سے صرف پچپن دن پہلے یمن کا بادشاہ ’’ ابرہہ ‘‘ ہاتھیوں کی فوج لے کر کعبہ ڈھانے کے لئے مکہ پر حملہ آور ہوا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ’’ ابرہہ ‘‘ نے یمن کے دارالسلطنت ’’ صنعاء ‘‘ میں ایک بہت ہی شاندار اور عالی شان ’’ گرجا گھر ‘‘ بنایا اور یہ کوشش کرنے لگا کہ عرب کے لوگ بجائے خانہ کعبہ کے یمن آ کر اس گرجا گھر کا حج کیا کریں۔ جب مکہ والوں کو یہ معلوم ہوا تو قبیلہ ’’ کنانہ ‘‘ کا ایک شخص غیظ و غضب میں جل بھن کر یمن گیا،اور وہاں کے گرجا گھر میں پاخانہ پھر کر اس کو نجاست سے لت پت کر دیا۔ جب ابرہہ نے یہ واقعہ سنا تو وہ طیش میں آپے سے باہر ہو گیا اور خانہ کعبہ کو ڈھانے کے لئے ہاتھیوں کی فوج لے کر مکہ پر حملہ کر دیا۔ اور اس کی فوج کے اگلے دستہ نے مکہ والوں کے تمام اونٹوں اور دوسرے مویشیوں کو چھین لیا اس میں دو سو یا چار سو اونٹ عبدالمطلب کے بھی تھے۔

(زرقانی ج۱ ص۸۵)

عبدالمطلب کو اس واقعہ سے بڑا رنج پہنچا۔ چنانچہ آپ اس معاملہ میں گفتگو کرنے کے لئے اس کے لشکر میں تشریف لے گئے۔ جب ابرہہ کو معلوم ہوا کہ قریش کا سردار اس سے ملاقات کرنے کے لئے آیا ہے تو اس نے آپ کو اپنے خیمہ میں بلا لیا اور جب عبدالمطلب کو دیکھا کہ ایک بلند قامت ،رعب دار اور نہایت ہی حسین و جمیل آدمی ہیں جن کی پیشانی پر نورِ نبوت کا جاہ و جلال چمک رہا ہے تو صورت دیکھتے ہی ابرہہ مرعوب ہو گیا۔ اور بے اختیار تخت شاہی سے اُتر کر آپ کی تعظیم و تکریم کے لئے کھڑا ہو گیا اور اپنے برابر بٹھا کر دریافت کیا کہ کہیے، سردار قریش! یہاں آپ کی تشریف آوری کا کیا مقصد ہے؟ عبدالمطلب نے جواب دیا کہ ہمارے اونٹ اور بکریاں وغیرہ جو آپ کے لشکر کے سپاہی ہانک لائے ہیں آپ ان سب مویشیوں کو ہمارے سپرد کر دیجیے۔ یہ سن کر ابرہہ نے کہا کہ اے سردارِ قریش! میں تو یہ سمجھتا تھا کہ آپ بہت ہی حوصلہ مند اور شاندار آدمی ہیں ۔مگر آپ نے مجھ سے اپنے اونٹوں کا سوال کرکے میری نظروں میں اپنا وقار کم کر دیا۔ اونٹ اور بکری کی حقیقت ہی کیا ہے؟ میں تو آپ کے کعبہ کو توڑ پھوڑ کر برباد کرنے کے لئے آیا ہوں، آپ نے اس کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کی۔ عبدالمطلب نے کہا کہ مجھے تو اپنے اونٹوں سے مطلب ہے کعبہ میرا گھر نہیں ہے بلکہ وہ خدا کا گھر ہے۔ وہ خود اپنے گھر کو بچا لے گا۔ مجھے کعبہ کی ذرا بھی فکر نہیں ہے۔ یہ سن کر ابرہہ اپنے فرعونی لہجہ میں کہنے لگا کہ اے سردار مکہ! سن لیجیے! میں کعبہ کو ڈھا کر اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا، اور روئے زمین سے اس کا نام و نشان مٹا دوں گا کیونکہ مکہ والوں نے میرے گرجا گھر کی بڑی بے حرمتی کی ہے اس لئے میں اس کا انتقام لینے کے لئے کعبہ کو مسمار کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ عبدالمطلب نے فرمایا کہ پھر آپ جانیں اور خدا جانے۔ میں آپ سے سفارش کرنے والا کون؟ اس گفتگو کے بعد ابرہہ نے تمام جانوروں کو واپس کر دینے کا حکم دے دیا۔ اور عبدالمطلب تمام اونٹوں اور بکریوں کو ساتھ لے کر اپنے گھر چلے آئے اور مکہ والوں سے فرمایا کہ تم لوگ اپنے اپنے مال مویشیوں کو لے کر مکہ سے باہر نکل جاؤ ۔ اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ کر اور دروں میں چھپ کر پناہ لو۔ مکہ والوں سے یہ کہہ کر پھر خود اپنے خاندان کے چند آدمیوں کو ساتھ لے کر خانہ کعبہ میں گئے اور دروازہ کا حلقہ پکڑ کر انتہائی بے قراری اور گریہ و زاری کے ساتھ دربار باری میں اس طرح دعا مانگنے لگے ک

لَاهمَّ اِنَّ الْمَرْئَ يَمْنعُ رَحْلَه فَامْنَعْ رِحَالَكَ

وَانْصُرْ عَلٰی اٰلِ الصَّلِيْبِ وَعَابِدِيْه اَ لْيَوْمَ اٰلَكَ

اے اللہ ! بے شک ہر شخص اپنے اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے۔ لہٰذا تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما، اور صلیب والوں اور صلیب کے پجاریوں (عیسائیوں) کے مقابلہ میں اپنے اطاعت شعاروں کی مدد فرما۔ عبدالمطلب نے یہ دعا مانگی اور اپنے خاندان والوں کو ساتھ لے کر پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اور خدا کی قدرت کا جلوہ دیکھنے لگے۔ ابرہہ جب صبح کو کعبہ ڈھانے کے لئے اپنے لشکر جرار اور ہاتھیوں کی قطار کے ساتھ آگے بڑھا اور مقام ’’ مغمس ‘‘ میں پہنچا تو خود اس کا ہاتھی جس کا نام ’’ محمود ‘‘ تھا ایک دم بیٹھ گیا۔ ہر چند مارا، اور بار بار للکارا مگر ہاتھی نہیں اٹھا۔ اسی حال میں قہر الٰہی ابابیلوں کی شکل میں نمودار ہوا اور ننھے ننھے پرندے جھنڈ کے جھنڈ جن کی چونچ اور پنجوں میں تین تین کنکریاں تھیں سمندر کی جانب سے حرم کعبہ کی طرف آنے لگے۔ ابابیلوں کے ان دل بادل لشکروں نے ابرہہ کی فوجوں پر اس زور شور سے سنگ باری شروع کر دی کہ آن کی آن میں ابرہہ کے لشکر، اور اس کے ہاتھیوں کے پرخچے اڑ گئے۔ ابابیلوں کی سنگ باری خداوند قہار و جبار کے قہر و غضب کی ایسی مار تھی کہ جب کوئی کنکری کسی فیل سوار کے سر پر پڑتی تھی تو وہ اس آدمی کے بدن کو چھیدتی ہوئی ہاتھی کے بدن سے پار ہو جاتی تھی۔ ابرہہ کی فوج کا ایک آدمی بھی زندہ نہیں بچا اور سب کے سب ابرہہ اور اس کے ہاتھیوں سمیت اس طرح ہلاک و برباد ہو گئے کہ ان کے جسموں کی بوٹیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین پر بکھر گئیں ۔ چنانچہ قرآن مجید کی ’’ سورۂ فیل ‘‘ میں خداوند قدوس نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:

یعنی(اے محبوب) کیا آپنے نہ دیکھا کہ آپکے رب نے ان ہاتھی والوں کا کیا حال کر ڈالا کیا انکے داؤں کو تباہی میں نہ ڈالا اور ان پر پرندوں کی ٹکڑیاں بھیجیں تا کہ انہیں کنکر کے پتھروں سے ماریں تو انہیں چبائے ہوئے بھُس جیسا بنا ڈالا ۔

جب ابرہہ اور اس کے لشکروں کا یہ انجام ہوا تو عبدالمطلب پہاڑ سے نیچے اترے اور خدا کا شکر ادا کیا۔ ان کی اس کرامت کا دور دور تک چرچا ہو گیااور تمام اہل عرب ان کو ایک خدا رسیدہ بزرگ کی حیثیت سے قابل احترام سمجھنے لگے۔

-: حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

-: حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

یہ ہمارے حضور رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے والد ماجد ہیں ۔یہ عبد المطلب کے تمام بیٹوں میں سب سے زیادہ باپ کے لاڈلے اور پیارے تھے۔ چونکہ ان کی پیشانی میں نور محمدی اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ جلوہ گر تھا اس لئے حسن و خوبی کے پیکر، اور جمالِ صورت و کمال سیرت کے آئینہ دار، اور عفت و پارسائی میں یکتائے روزگار تھے۔ قبیلۂ قریش کی تمام حسین عورتیں ان کے حسن و جمال پر فریفتہ اور ان سے شادی کی خواست گار تھیں۔ مگر عبدالمطلب ان کے لئے ایک ایسی عورت کی تلاش میں تھے جو حسن و جمال کے ساتھ ساتھ حسب و نسب کی شرافت اور عفت و پارسائی میں بھی ممتاز ہو۔ عجیب اتفاق کہ ایک دن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شکار کے لئے جنگل میں تشریف لے گئے تھے ملک شام کے یہودی چند علامتوں سے پہچان گئے تھے کہ نبی آخرالزماں کے والد ماجد یہی ہیں۔ چنانچہ ان یہودیوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بارہا قتل کر ڈالنے کی کوشش کی۔ اس مرتبہ بھی یہودیوں کی ایک بہت بڑی جماعت مسلح ہو کر اس نیت سے جنگل میں گئی کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تنہائی میں دھوکہ سے قتل کر دیا جائے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مرتبہ بھی اپنے فضل و کرم سے بچا لیا۔ عالم غیب سے چند ایسے سوار ناگہاں نمودار ہوئے جو اس دنیا کے لوگوں سے کوئی مشابہت ہی نہیں رکھتے تھے،ان سواروں نے آ کر یہودیوں کو مار بھگایا اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بحفاظت ان کے مکان تک پہنچا دیا۔ ’’ وہب بن مناف ‘‘ بھی اس دن جنگل میں تھے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھا، اس لئے ان کو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بے انتہا محبت و عقیدت پیدا ہو گئی، اور گھر آ کر یہ عزم کرلیا کہ میں اپنی نورِ نظر حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے کروں گا۔ چنانچہ اپنی اس دلی تمنا کو اپنے چند دوستوں کے ذریعہ انہوں نے عبدالمطلب تک پہنچا دیا۔ خدا کی شان کہ عبدالمطلب اپنے نورِ نظر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے جیسی دلہن کی تلاش میں تھے، وہ ساری خوبیاں حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت وہب میں موجود تھیں۔ عبدالمطلب نے اس رشتہ کو خوشی خوشی منظور کر لیا۔ چنانچہ چوبیس سال کی عمر میں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح ہو گیااور نور محمدی حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منتقل ہو کر حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شکم اطہر میں جلوہ گر ہو گیا اور جب حمل شریف کو دو مہینے پورے ہو گئے تو عبدالمطلب نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کھجوریں لینے کے لئے مدینہ بھیجا، یا تجارت کے لئے ملک شام روانہ کیا، وہاں سے واپس لوٹتے ہوئے مدینہ میں اپنے والد کے ننہال ’’ بنو عدی بن نجار ‘‘ میں ایک ماہ بیمار رہ کر پچیس برس کی عمر میں وفات پا گئے اور وہیں ’’ دارِ نابغہ ‘‘ میں مدفون ہوئے۔

(زرقانی علی المواهب ج ۱ ص۱۰۱ و مدارج جلد۲ ص۱۴)

قافلہ والوں نے جب مکہ واپس لوٹ کر عبدالمطلب کو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیماری کا حال سنایا تو انہوں نے خبر گیری کے لئے اپنے سب سے بڑے لڑکے ’’ حارث ‘‘ کو مدینہ بھیجا۔ان کے مدینہ پہنچنے سے قبل ہی حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راہی ملک بقا ہو چکے تھے۔ حارث نے مکہ واپس آ کر جب وفات کی خبر سنائی تو سارا گھر ماتم کدہ بن گیااور بنو ہاشم کے ہر گھر میں ماتم برپا ہو گیا ۔خود حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے مرحوم شوہر کا ایسا پُر درد مرثیہ کہا ہے کہ جس کو سن کر آج بھی دل درد سے بھر جاتا ہے ۔روایت ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات پر فرشتوں نے غمگین ہو کر بڑی حسرت کے ساتھ یہ کہا کہ الٰہی ! عزوجل تیرا نبی یتیم ہو گیا ۔حضرت حق نے فرمایا: کیا ہوا؟ میں اس کا حامی و حافظ ہوں ۔

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ترکہ ایک لونڈی ’’اُم ایمن‘‘ جس کا نام ’’برکہ‘‘ تھا کچھ اونٹ کچھ بکریاں تھیں، یہ سب ترکہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ملا۔ “اُمِ ایمن” بچپن میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دیکھ بھال کرتی تھیں کھلاتیں، کپڑا پہناتیں، پرورش کی پوری ضروریات مہیا کرتیں، اس لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تمام عمر “اُم ایمن” کی دل جوئی فرماتے رہے اپنے محبوب و متبنٰی غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کا نکاح کر دیا، اور ان کے شکم سے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے۔

(عامه کتب سير)

-: ایمانِ والدین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما

-: ایمانِ والدین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ وہ دونوں مؤمن ہیں یا نہیں؟ بعض علماء ان دونوں کو مؤمن نہیں مانتے اور بعض علماء نے اس مسئلہ میں توقف کیا اور فرمایا کہ ان دونوں کو مؤمن یا کافر کہنے سے زبان کو روکنا چاہیے اور اس کا علم خدا عزوجل کے سپرد کر دینا چاہیے، مگر اہل سنت کے علماء محققین مثلاً امام جلال الدین سیوطی و علامہ ابن حجر ہیتمی و امام قرطبی و حافظ الشام ابن ناصر الدین و حافظ شمس الدین دمشقی و قاضی ابوبکر ابن العربی مالکی و شیخ عبدالحق محدث دہلوی و صاحب الاکلیل مولانا عبدالحق مہاجر مدنی وغیرہ رحمہم اللہ تعالیٰ کا یہی عقیدہ اور قول ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ماں باپ دونوں یقینا بلا شبہ مؤمن ہیں۔ چنانچہ اس بار ے میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ارشاد ہے کہ

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو مؤمن نہ ماننا یہ علماء متقدمین کا مسلک ہے لیکن علماء متأخرین نے تحقیق کے ساتھ اس مسئلہ کو ثابت کیا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما بلکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے تمام آباء و اجداد حضرت آدم علیہ السلام تک سب کے سب ’’ مؤمن ‘‘ ہیں اور ان حضرات کے ایمان کو ثابت کرنے میں علماء متأخرین کے تین طریقے ہیں:

اول یہ کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور آباء و اجداد سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر تھے، لہٰذا ’’ مؤمن ‘‘ ہوئے۔ دوم یہ کہ یہ تمام حضرات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اعلان نبوت سے پہلے ہی ایسے زمانے میں وفات پا گئے جو زمانہ ’’ فترت ‘‘ کہلاتا ہے اور ان لوگوں تک حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی دعوتِ ایمان پہنچی ہی نہیں لہٰذا ہر گز ہر گز ان حضرات کو کافر نہیں کہا جا سکتا بلکہ ان لوگوں کو مؤمن ہی کہا جائے گا۔ سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو زندہ فرما کر ان کی قبروں سے اٹھایا اور ان لوگوں نے کلمہ پڑھ کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصدیق کی اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو زندہ کرنے کی حدیث اگرچہ بذات خود ضعیف ہے مگر اس کی سندیں اس قدر کثیر ہیں کہ یہ حدیث ’’صحیح‘‘ اور ’’حسن‘‘ کے درجے کو پہنچ گئی ہے۔

اور یہ وہ علم ہے جو علماء متقدمین پر پوشیدہ رہ گیا جس کو حق تعالیٰ نے علماء متأخرین پر منکشف فرمایا اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے اپنی رحمت کے ساتھ خاص فرما لیتا ہے اور شیخ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسئلہ میں چند رسائل تصنیف کیے ہیں اور اس مسئلہ کو دلیلوں سے ثابت کیا ہے اور مخالفین کے شبہات کا جواب دیا ہے۔

(اشعة اللمعات ج اول ص ۷۱۸)

اسی طرح خاتمۃ المفسرین حضرت شیخ اسمٰعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ

امام قرطبی نے اپنی کتاب ’’ تذکرہ ‘‘ میں تحریر فرمایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جب ’’ حجۃ الوداع ‘‘ میں ہم لوگوں کو ساتھ لے کر چلے اور ’’ حجون ‘‘ کی گھاٹی پر گزرے تو رنج و غم میں ڈوبے ہوئے رونے لگے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو روتا دیکھ کر میں بھی رونے لگی۔ پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اپنی اونٹنی سے اتر پڑے اور کچھ دیر کے بعد میرے پاس واپس تشریف لائے تو خوش خوش مسکراتے ہوئے تشریف لائے۔ میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ !عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، کیا بات ہے؟ کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم رنج و غم میں ڈوبے ہوئے اونٹنی سے اترے اور واپس لوٹے تو شاداں و فرحاں مسکراتے ہوئے تشریف فرما ہوئے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اپنی والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر کی زیارت کے لئے گیا تھا اور میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ ان کو زندہ فرما دے تو خداوند تعالیٰ نے ان کو زندہ فرما دیا اور وہ ایمان لائیں۔ اور ’’الاشباه والنظائر‘‘ میں ہے کہ ہر وہ شخص جو کفر کی حالت میں مر گیا ہو اس پر لعنت کرنا جائز ہے بجز رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے، کیونکہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو زندہ فرمایااور یہ دونوں ایمان لائے۔

یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ماں باپ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی قبروں کے پاس روئے اور ایک خشک درخت زمین میں بو دیا،اور فرمایا کہ اگر یہ درخت ہرا ہو گیا تو یہ اس بات کی علامت ہو گی کہ ان دونوں کا ایمان لانا ممکن ہے ۔ چنانچہ وہ درخت ہرا ہو گیا پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعا کی برکت سے وہ دونوں اپنی اپنی قبروں سے نکل کر اسلام لائے اور پھر اپنی اپنی قبروں میں تشریف لے گئے۔

اور ان دونوں کا زندہ ہونا، اور ایمان لانا، نہ عقلاً محال ہے نہ شرعاً کیونکہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ بنی اسرائیل کے مقتول نے زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتایا اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دست مبارک سے بھی چند مردے زندہ ہوئے۔ جب یہ سب باتیں ثابت ہیں تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زندہ ہو کر ایمان لانے میں بھلا کونسی چیز مانع ہو سکتی ہے؟ اور جس حدیث میں یہ آیا ہے کہ ’’ میں نے اپنی والدہ کے لئے دعائے مغفرت کی اجازت طلب کی تو مجھے اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ ‘‘ یہ حدیث حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زندہ ہو کر ایمان لانے سے بہت پہلے کی ہے۔ کیونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا زندہ ہو کر ایمان لانا یہ ’’ حجۃ الوداع ‘‘ کے موقع پر ہوا ہے (جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال سے چند ہی ماہ پہلے کا واقعہ ہے) اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مراتب و درجات ہمیشہ بڑھتے ہی رہے تو ہو سکتا ہے کہ پہلے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خداوند تعالیٰ نے یہ شرف نہیں عطا فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما مسلمان ہوں مگر بعد میں اس فضل و شرف سے بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو سر فراز فرمادیا کہ آپ کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو صاحب ایمان بنا دیا اور قاضی امام ابوبکر ابن العربی مالکی سے یہ سوال کیا گیا کہ ایک شخص یہ کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے آباء و اجداد جہنم میں ہیں، تو آپ نے فرمایا کہ یہ شخص ملعون ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ

یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو دنیا و آخرت میں ملعون کر دے گا۔

حافظ شمس الدین د مشقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس مسئلہ کو اپنے نعتیہ اشعار میں اس طرح بیان فرمایا ہے :

حَبَا اللّٰه النَّبِيَّ مَزِيْدَ فَضْلٍ

عَلٰي فَضْلٍ وَّ کَانَ بِه رَءُ وْفًا

اللہ تعالیٰ نے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو فضل بالائے فضل سے بھی بڑھ کر فضیلت عطا فرمائی اور اللہ تعالیٰ ان پر بہت مہربان ہے۔

فَاَحْيَا اُمَّه وَکَذَا اَبَاهُ

لِاِيْمَان بِه فَضْلاً لَّطِيْفًا

کیونکہ خداوند تعالیٰ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ماں باپ کو حضور پر ایمان لانے کے لئے اپنے فضل لطیف سے زندہ فرما دیا۔

فَسَلِّمْ فَالْقَدِيْمُ بِه قَدِيْرٌ

وَاِنْ کَانَ الْحَدِيْثُ بِه ضَعِيْفًا

تو تم اس بات کو مان لو کیونکہ خداوند قدیم اس بات پر قادر ہے اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے۔

(انتهی ملتقطاً، تفسير روح البيان ج ۱ ص۲۱۷ تا ۲۱۸)

صاحب الاکلیل حضرت علامہ شیخ عبدالحق مہاجر مدنی قدس سرہ الغنی نے تحریر فرمایا کہ علامہ ابن حجر ہیتمی نے مشکوٰۃ کی شرح میں فرمایا ہے کہ ’’ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو اللہ تعالیٰ نے زندہ فرمایا، یہاں تک کہ وہ دونوں ایمان لائے اور پھر وفات پا گئے۔ ‘‘ یہ حدیث صحیح ہے اور جن محدثین نے اس حدیث کو صحیح بتایا ہے ان میں سے امام قرطبی اور شام کے حافظ الحدیث ابن ناصر الدین بھی ہیں اور اس میں طعن کرنا بے محل اور بے جا ہے، کیونکہ کرامات اور خصوصیات کی شان ہی یہ ہے کہ وہ قواعد اور عادات کے خلاف ہوا کرتی ہیں۔

چنانچہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا موت کے بعد اٹھ کر ایمان لانا، یہ ایمان ان کے لئے نافع ہے حالانکہ دوسروں کے لئے یہ ایمان مفید نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو نسبت رسول کی وجہ سے جو کمال حاصل ہے وہ دوسروں کے لئے نہیں ہے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی حدیث لیت شعری ما فعل ابوای (کاش! مجھے خبر ہوتی کہ میرے والدین کے ساتھ کیا معاملہ کیا گیا) کے بارے میں امام سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ’’ درمنثور ‘‘ میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث مرسل اور ضعیف الاسناد ہے۔

(اکليل علیٰ مدارک التنزيل ج ۲ ص۱۰)

بہر کیف مندرجہ بالا اقتباسات جو معتبر کتابوں سے لئے گئے ہیں ان کو پڑھ لینے کے بعد حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ عقیدت اور ایمانی محبت کا یہی تقاضا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور تمام آباء و اجداد بلکہ تمام رشتہ داروں کے ساتھ ادب و احترام کا التزام رکھا جائے۔ بجز ان رشتہ داروں کے جن کا کافر اور جہنمی ہونا قرآن و حدیث سے یقینی طور پر ثابت ہے جیسے ’’ ابو لہب ‘‘ اور اس کی بیوی ’’ حمالۃ الحطب ‘‘ باقی تمام قرابت والوں کا ادب ملحوظ خاطر رکھنا لازم ہے کیونکہ جن لوگوں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے نسبت قرابت حاصل ہے ان کی بے ادبی و گستاخی یقینا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایذا رسانی کا باعث ہو گا اور آپ قرآن کا فرمان پڑھ چکے کہ جو لوگ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو ایذاء دیتے ہیں، وہ دنیا و آخرت میں ملعون ہیں۔

اس مسئلہ میں اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں صاحب قبلہ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک محققانہ رسالہ بھی ہے جس کا نام ’’ شمول الاسلام لاباء الکرام ‘‘ ہے۔ جس میں آپ نے نہایت ہی مفصل و مدلل طور پر یہ تحریر فرمایا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آباء و اجداد موحد و مسلم ہیں۔

(والله تعالیٰ اعلم)

-: برکات نبوت کا ظہور

-: برکات نبوت کا ظہور

جس طرح سورج نکلنے سے پہلے ستاروں کی روپوشی، صبح صادق کی سفیدی، شفق کی سرخی سورج نکلنے کی خوشخبری دینے لگتی ہیں اسی طرح جب آفتاب رسالت کے طلوع کا زمانہ قریب آ گیا تو اطراف عالم میں بہت سے ایسے عجیب عجیب واقعات اور خوارق عادات بطور علامات کے ظاہر ہونے لگے جو ساری کائنات کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یہ بشارت دینے لگے کہ اب رسالت کا آفتاب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہونے والا ہے۔

چنانچہ اصحابِ فیل کی ہلاکت کا واقعہ، ناگہاں بارانِ رحمت سے سر زمین عرب کا سر سبز و شاداب ہو جانا،اور برسوں کی خشک سالی دفع ہو کر پورے ملک میں خوشحالی کا دور دورہ ہو جانا، بتوں کا منہ کے بل گر پڑنا، فارس کے مجوسیوں کی ایک ہزار سال سے جلائی ہوئی آگ کا ایک لمحہ میں بجھ جانا، کسریٰ کے محل کا زلزلہ، اور اس کے چودہ کنگوروں کا منہدم ہو جانا، ’’ ہمدان ‘‘ اور ’’ قم ‘‘ کے درمیان چھ میل لمبے چھ میل چوڑے ’’ بحرۂ ساوہ ‘‘ کا یکایک بالکل خشک ہو جانا، شام اور کوفہ کے درمیان وادی ’’ سماوہ ‘‘ کی خشک ندی کا اچانک جاری ہو جانا، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی والدہ کے بدن سے ایک ایسے نور کا نکلنا جس سے ’’ بصریٰ ‘‘ کے محل روشن ہو گئے۔ یہ سب واقعات اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں جو حضور علیہ الصلوات والتسلیمات کی تشریف آوری سے پہلے ہی ’’ مبشرات ‘‘ بن کر عالم کائنات کو یہ خوشخبری دینے لگے کہ

مبارک ہو وہ شہ پردے سے باہرآنے والا ہے

گدائی کو زمانہ جس کے در پر آنے والا ہے

حضرات انبیاء کرام علیہم السلام سے قبل اعلان نبوت جو خلاف عادت اور عقل کو حیرت میں ڈالنے والے واقعات صادر ہوتے ہیں ان کو شریعت کی اصطلاح میں ’’ ارہاص ‘‘ کہتے ہیں اور اعلان نبوت کے بعد انہی کو ’’ معجزہ ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس لئے مذکورہ بالا تمام واقعات ’’ ارہاص ‘‘ ہیں جو حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت کرنے سے قبل ظاہر ہوئے جن کو ہم نے ’’ برکات نبوت ‘‘ کے عنوان سے بیان کیا ہے۔ اس قسم کے واقعات جو ’’ ارہاص ‘‘ کہلاتے ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے، ان میں سے چند کا ذکر ہو چکا ہے چند دوسرے واقعات بھی پڑھ لیجئے۔

{۱} محدث ابو نعیم نے اپنی کتاب ’’ دلائل النبوۃ ‘‘ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جس رات حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا نورِ نبوت حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پشت اقدس سے حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن مقدس میں منتقل ہوا ، روئے زمین کے تمام چوپایوں، خصوصاً قریش کے جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے گویائی عطا فرمائی اور انہوں نے بزبانِ فصیح اعلان کیا کہ آج اللہ عزوجل کاوہ مقدس رسول شکم مادر میں جلوہ گر ہو گیا جس کے سر پر تمام دنیا کی امامت کا تاج ہے اور جو سارے عالم کو روشن کرنے والا چراغ ہے۔ مشرق کے جانوروں نے مغرب کے جانوروں کو بشارت دی۔اسی طرح سمندروں اور دریاؤں کے جانوروں نے ایک دوسرے کو یہ خوشخبری سنائی کہ حضرت ابو القاسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت کا وقت قریب آ گیا۔

(زرقانی علی المواهب ج ۱ ص ۱۰۸)

{۲} خطیب بغدادی نے اپنی سند کے ساتھ یہ حدیث روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پیدا ہوئے تو میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی بدلی آئی جس میں روشنی کے ساتھ گھوڑوں کے ہنہنانے اور پرندوں کے اُڑنے کی آواز تھی اور کچھ انسانوں کی بولیاں بھی سنائی دیتی تھیں۔ پھر ایک دم حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میرے سامنے سے غیب ہو گئے اور میں نے سنا کہ ایک اعلان کرنے والا اعلان کر رہا ہے کہ محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو مشرق و مغرب میں گشت کراؤ اور ان کو سمندروں کی بھی سیر کراؤ تا کہ تمام کائنات کو ان کا نام، ان کاحلیہ، ان کی صفت معلوم ہو جائے اور ان کو تمام جاندار مخلوق یعنی جن و انس، ملائکہ اور چرندوں و پرندوں کے

سامنے پیش کرواور انہیں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت، حضرت شیث علیہ السلام کی معرفت، حضرت نوح علیہ السلام کی شجاعت، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خلت، حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی زبان، حضرت اسحق علیہ السلام کی رضا، حضرت صالح علیہ السلام کی فصاحت، حضرت لوط علیہ السلام کی حکمت، حضرت یعقوب علیہ السلام کی بشارت، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شدت، حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر، حضرت یونس علیہ السلام کی طاعت، حضرت یوشع علیہ السلام کا جہاد، حضرت داؤد علیہ السلام کی آواز، حضرت دانیال علیہ السلام کی محبت، حضرت الیاس علیہ السلام کا وقار، حضرت یحییٰ علیہ السلام کی عصمت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زہد عطا کرکے ان کو تمام پیغمبروں کے کمالات اور اخلاق حسنہ سے مزین کر دو۔ اس کے بعد وہ بادل چھٹ گیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ آپ ریشم کے سبز کپڑے میں لپٹے ہوئے ہیں اور اس کپڑے سے پانی ٹپک رہا ہے اور کوئی منادی اعلان کر رہا ہے کہ واہ وا! کیا خوب محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو تمام دنیا پر قبضہ دے دیا گیا اور کائناتِ عالم کی کوئی چیز باقی نہ رہی جو ان کے قبضۂ اقتدار و غلبۂ اطاعت میں نہ ہو۔ اب میں نے چہرۂ انور کو دیکھا تو چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا اور بدن سے پاکیزہ مشک کی خوشبو آ رہی تھی پھر تین شخص نظر آئے، ایک کے ہاتھ میں چاندی کا لوٹا، دوسرے کے ہاتھ میں سبز زمرد کا طشت، تیسرے کے ہاتھ میں ایک چمک دار انگوٹھی تھی۔ انگوٹھی کو سات مرتبہ دھو کر اس نے حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت لگا دی، پھر حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر اٹھایااور ایک لمحہ کے بعد مجھے سپرد کر دیا۔

(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۱۱۳ تا ص۱۱۵)