اولادِ کرام


اس بات پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اولاد کرام کی تعداد چھ ہے۔ دو فرزند حضرت قاسم و حضرت ابراہیم اور چار صاحبزادیاں حضرت زینب و حضرت رقیہ و حضرت ام کلثوم و حضرت فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) لیکن بعض مؤرخین نے یہ بیان فرمایا ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ایک صاحبزادے عبداﷲ بھی ہیں جن کا لقب طیب و طاہر ہے۔ اس قول کی بنا پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مقدس اولاد کی تعداد سات ہے۔ تین صاحبزادگان اورچار صاحبزادیاں، حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ نے اسی قول کو زیادہ صحیح بتایا ہے۔ اس کے علاوہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس اولاد کے بارے میں دوسرے اقوال بھی ہیں جن کا تذکرہ طوالت سے خالی نہیں۔

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ان ساتوں مقدس اولاد میں سے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شکم سے تولد ہوئے تھے باقی تمام اولاد کرام حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن مبارک سے پیدا ہوئیں۔ (زرقانی جلد ۲ ص۱۹۳ و مدارج النبوۃ جلد ۳ ص ۴۵۱)

اب ہم ان اولادِکرام کے ذکر ِ جمیل پر قدرے تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالتے ہیں۔

حضرت قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ:۔

یہ سب سے پہلے فرزند ہیں جو حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوش مبارک میں اعلانِ نبوت سے قبل پیدا ہوئے۔ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی کنیت ابوالقاسم ان ہی کے نام پر ہے۔ جمہور علماء کا یہی قول ہے کہ یہ پاؤں پر چلنا سیکھ گئے تھے کہ ان کی وفات ہوگئی اور ابن سعد کا بیان ہے کہ ان کی عمر شریف دو برس کی ہوئی مگر علامہ غلابی کہتے ہیں کہ یہ فقط سترہ ماہ زندہ رہے۔ واﷲ اعلم۔ (زرقانی جلد۳ ص ۱۹۴)

حضرت عبداﷲ رضی اللہ تعالیٰ عنہ:۔

ان ہی کا لقب طیب و طاہر ہے۔ اعلانِ نبوت سے قبل مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور بچپن ہی میں وفات پا گئے۔

حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ:۔

یہ حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اولاد مبارکہ میں سب سے آخری فرزند ہیں۔ یہ ذوالحجہ ۸ ھ میں مدینہ منورہ کے قریب مقام “عالیہ” کے اندر حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے۔ اس لیے مقام عالیہ کا دوسرا نام”مشربۂ ابراہیم “بھی ہے۔ ان کی ولادت کی خبر حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع رضی