بچپن کے واقعات

-: ولادت با سعادت

-: ولادت با سعادت

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے۔ مگر قول مشہور یہی ہے کہ واقعہ ’’ اصحاب فیل ‘‘ سے پچپن دن کے بعد ۱۲ ربیع الاول مطابق ۲۰ اپریل ۵۷۱ ء ولادت باسعادت کی تاریخ ہے۔ اہل مکہ کا بھی اسی پر عملدرآمد ہے کہ وہ لوگ بارہویں ربیع الاول ہی کو کاشانۂ نبوت کی زیارت کے لئے جاتے ہیں اور وہاں میلاد شریف کی محفلیں منعقد کرتے ہیں۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۱۴)

تاریخ عالم میں یہ وہ نرالا اور عظمت والا دن ہے کہ اسی روز عالم ہستی کے ایجاد کا باعث، گردش لیل و نہار کا مطلوب، خلق آدم کارمز، کشتی نوح کی حفاظت کا راز، بانی کعبہ کی دعا،ابن مریم کی بشارت کا ظہور ہوا۔ کائناتِ وجود کے الجھے ہوئے گیسوؤں کو سنوارنے والا، تمام جہان کے بگڑے نظاموں کو سدھارنے والا یعنی

مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

یتیموں کا والی، غلاموں کا مولیٰ

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا

فقیروں کا ماویٰ ، ضعیفوں کا ملجا

سند الاصفیاء، اشرف الانبیاء، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عالمِ وجود میں رونق افروز ہوئے اور پاکیزہ بدن، ناف بریدہ، ختنہ کئے ہوئے خوشبو میں بسے ہوئے بحالت سجدہ، مکہ مکرمہ کی مقدس سر زمین میں اپنے والد ماجد کے مکان کے اندر پیدا ہوئے باپ کہاں تھے جو بلائے جاتے اور اپنے نونہال کو دیکھ کر نہال ہوتے۔ وہ تو پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ دادا بلائے گئے جو اس وقت طوافِ کعبہ میں مشغول تھے۔ یہ خوشخبری سن کر دادا “عبدالمطلب” خوش خوش حرم کعبہ سے اپنے گھر آئے اور والہانہ جوشِ محبت میں اپنے پوتے کو کلیجے سے لگا لیا۔ پھر کعبہ میں لے جا کر خیر و برکت کی دعا مانگی اور “محمد” نام رکھا۔ آپ صلی الله تعالیٰ عليه واله وسلم کے چچا ابو لہب کی

لونڈی “ثویبہ” خوشی میں دوڑتی ہوئی گئی اور “ابو لہب” کو بھتیجا پیدا ہونے کی خوشخبری دی تو اس نے اس خوشی میں شہادت کی انگلی کے اشارہ سے “ثویبہ ” کو آزاد کر دیا جس کا ثمرہ ابو لہب کو یہ ملا کہ اس کی موت کے بعد اس کے گھر والوں نے اس کو خواب میں دیکھا اور حال پوچھا، تو اس نے اپنی انگلی اٹھا کر یہ کہا کہ تم لوگوں سے جدا ہونے کے بعد مجھے کچھ (کھانے پینے) کو نہیں ملا بجز اس کے کہ “ثویبہ” کو آزاد کرنے کے سبب سے اس انگلی کے ذریعہ کچھ پانی پلا دیا جاتا ہوں۔

(بخاری ج۲ باب و امهاتکم التی ارضعنکم)

اس موقع پر حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک بہت ہی فکر انگیز اور بصیرت افروز بات تحریر فرمائی ہے جو اہل محبت کے لئے نہایت ہی لذت بخش ہے، وہ لکھتے ہیں کہ

اس جگہ میلاد کرنے والوں کے لئے ایک سند ہے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شب ولادت میں خوشی مناتے ہیں اور اپنا مال خرچ کرتے ہیں ۔مطلب یہ ہے کہ جب ابو لہب کو جو کافر تھااور اس کی مذمت میں قرآن نازل ہوا، آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت پر خوشی منانے،اور باندی کا دودھ خرچ کرنے پرجزا دی گئی تو اس مسلمان کا کیا حال ہو گا جو آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبت میں سرشار ہو کر خوشی مناتا ہے اور اپنا مال خرچ کرتا ہے۔

(مدارج النبوة ج۲ ص ۱۹)

-: مولد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

-: مولد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

جس مقدس مکان میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی، تاریخ اسلام میں اس مقام کا نام “مولد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم” (نبی کی پیدائش کی جگہ) ہے، یہ بہت ہی متبرک مقام ہے۔ سلاطینِ اسلام نے اس مبارک یادگار پر بہت ہی شاندار عمارت بنا دی تھی، جہاں اہل حرمین شریفین اور تمام دنیا سے آنے والے مسلمان دن رات محفل میلاد شریف منعقد کرتے اور صلوٰۃ و سلام پڑھتے رہتے تھے۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب “فیوض الحرمین” میں تحریر فرمایا ہے کہ میں ایک مرتبہ اس محفل میلاد شریف میں حاضر ہوا، جو مکہ مکرمہ میں بارہویں ربیع الاول کو “مولد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم” میں منعقد ہوئی تھی جس وقت ولادت کا ذکر پڑھا جا رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ یکبارگی اس مجلس سے کچھ انوار بلند ہوئے، میں نے ان انوار پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ وہ رحمت ِالٰہی اور ان فرشتوں کے انوار تھے جو ایسی محفلوں میں حاضر ہوا کرتے ہیں۔

(فيوض الحرمين)

جب حجاز پر نجدی حکومت کا تسلط ہوا تو مقابر جنۃ المعلیٰ و جنۃ البقیع کے گنبدوں کے ساتھ ساتھ نجدی حکومت نے اس مقدس یادگار کو بھی توڑ پھوڑ کر مسمار کر دیا اور برسوں یہ مبارک مقام ویران پڑا رہا، مگر میں جب جون ۱۹۵۹ ء میں اس مرکز خیر و برکت کی زیارت کے لئے حاضر ہوا تو میں نے اس جگہ ایک چھوٹی سی بلڈنگ دیکھی جو مقفل تھی۔ بعض عربوں نے بتایا کہ اب اس بلڈنگ میں ایک مختصر سی لائبریری اور ایک چھوٹا سا مکتب ہے، اب اس جگہ نہ میلاد شریف ہو سکتا ہے نہ صلاۃ و سلام پڑھنے کی اجازت ہے ۔میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بلڈنگ سے کچھ دور کھڑے ہو کر چپکے چپکے صلاۃ و سلام پڑھا، اور مجھ پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ میں کچھ دیر تک روتا رہا۔

-: دودھ پینے کا زمانہ

-: دودھ پینے کا زمانہ

سب سے پہلے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ابولہب کی لونڈی “حضرت ثویبہ” کا دودھ نوش فرمایا پھر اپنی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دودھ سے سیراب ہوتے رہے، پھر حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کو اپنے ساتھ لے گئیں اور اپنے قبیلہ میں رکھ کر آپ کو دودھ پلاتی رہیں اور انہیں کے پاس آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دودھ پینے کا زمانہ گزرا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص ۱۸)

شرفاء عرب کی عادت تھی کہ وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے لئے گردو نواح دیہاتوں میں بھیج دیتے تھے دیہات کی صاف ستھری آب و ہوا میں بچوں کی تندرستی اور جسمانی صحت بھی اچھی ہو جاتی تھی اور وہ خالص اور فصیح عربی زبان بھی سیکھ جاتے تھے کیونکہ شہر کی زبان باہر کے آدمیوں کے میل جول سے خالص اور فصیح و بلیغ زبان نہیں رہا کرتی۔

حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ میں “بنی سعد” کی عورتوں کے ہمراہ دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں مکہ کو چلی۔ اس سال عرب میں بہت سخت کال پڑا ہوا تھا، میری گود میں ایک بچہ تھا، مگر فقر و فاقہ کی وجہ سے میری چھاتیوں میں اتنا دودھ نہ تھا جو اس کو کافی ہو سکے۔ رات بھر وہ بچہ بھوک سے تڑپتا اور روتا بلبلاتا رہتا تھا اور ہم اس کی دلجوئی اور دلداری کے لئے تمام رات بیٹھ کر گزارتے تھے۔ ایک اونٹنی بھی ہمارے پاس تھی۔ مگر اس کے بھی دودھ نہ تھا۔ مکہ مکرمہ کے سفر میں جس خچر پر میں سوار تھی وہ بھی اس قدر لاغر تھا کہ قافلہ والوں کے ساتھ نہ چل سکتا تھا میرے ہمراہی بھی اس سے تنگ آ چکے تھے۔ بڑی بڑی مشکلوں سے یہ سفر طے ہوا جب یہ قافلہ مکہ مکرمہ پہنچا تو جو عورت رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھتی اور یہ سنتی کہ یہ یتیم ہیں تو کوئی عورت آپ کو لینے کے لئے تیار نہیں ہوتی تھی، کیونکہ بچے کے یتیم ہونے کے سبب سے زیادہ انعام و اکرام ملنے کی امید نہیں تھی۔ ادھر حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی قسمت کا ستارہ ثریا سے زیادہ بلند اور چاند سے زیادہ روشن تھا، ان کے دودھ کی کمی ان کے لئے رحمت کی زیادتی کا باعث بن گئی، کیونکہ دودھ کم دیکھ کر کسی نے ان کو اپنا بچہ دینا گوارا نہ کیا۔

حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے شوہر “حارث بن عبدالعزیٰ” سے کہا کہ یہ تو اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ میں خالی ہاتھ واپس جاؤں اس سے تو بہتر یہی ہے کہ میں اس یتیم ہی کو لے چلوں، شوہر نے اس کو منظور کر لیا اور حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس در یتیم کو لے کر آئیں جس سے صرف حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااور حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی کے گھر میں نہیں بلکہ کائناتِ عالم کے مشرق و مغرب میں اجالا ہونے والا تھا۔ یہ خداوند قدوس کا فضل عظیم ہی تھا کہ حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سوئی ہوئی قسمت بیدار ہو گئی اور سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان کی آغوش میں آ گئے۔ اپنے خیمہ میں لا کر جب دودھ پلانے بیٹھیں تو باران رحمت کی طرح برکاتِ نبوت کا ظہور شروع ہو گیا، خدا کی شان دیکھیے کہ حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مبارک پستان میں اس قدر دودھ اترا کہ رحمت ِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی اور ان کے رضاعی بھائی نے بھی خوب شکم سیر ہو کر دودھ پیا، اور دونوں آرام سے سو گئے، ادھر اونٹنی کو دیکھا تو اس کے تھن دودھ سے بھر گئے تھے۔ حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شوہر نے اس کا دودھ دوہا۔ اور میاں بیوی دونوں نے خوب سیر ہو کر دودھ پیا اور دونوں شکم سیر ہو کر رات بھر سکھ اور چین کی نیند سوئے۔

حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا شوہر حضور رحمت ِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ برکتیں دیکھ کر حیران رہ گیا، اور کہنے لگا کہ حلیمہ! تم بڑا ہی مبارک بچہ لائی ہو۔ حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ واقعی مجھے بھی یہی امید ہے کہ یہ نہایت ہی بابرکت بچہ ہے اور خدا کی رحمت بن کر ہم کو ملا ہے اور مجھے یہی توقع ہے کہ اب ہمارا گھر خیر و برکت سے بھر جائے گا۔

حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد ہم رحمت ِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنی گود میں لے کر مکہ مکرمہ سے اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہوئے تو میرا وہی خچر اب اس قدر تیز چلنے لگا کہ کسی کی سواری اس کی گرد کو نہیں پہنچتی تھی، قافلہ کی عورتیں حیران ہو کر مجھ سے کہنے لگیں کہ اے حلیمہ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا کیا یہ وہی خچر ہے جس پر تم سوار ہو کر آئی تھیں یا کوئی دوسرا تیز رفتار خچر تم نے خرید لیا ہے؟ الغرض ہم اپنے گھر پہنچے وہاں سخت قحط پڑا ہوا تھا تمام جانوروں کے تھن میں دودھ خشک ہو چکے تھے، لیکن میرے گھر میں قدم رکھتے ہی میری بکریوں کے تھن دودھ سے بھر گئے، اب روزانہ میری بکریاں جب چراگاہ سے گھر واپس

الغرض اسی طرح ہر دم ہر قدم پر ہم برابر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی برکتوں کا مشاہدہ کرتے رہے یہاں تک کہ دو سال پورے ہو گئے اور میں نے آپ کا دودھ چھڑا دیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تندرستی اور نشوونما کا حال دوسرے بچوں سے اتنا اچھا تھا کہ دو سال میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خوب اچھے بڑے معلوم ہونے لگے، اب ہم دستور کے مطابق رحمت ِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان کی والدہ کے پاس لائے اور انہوں نے حسب توفیق ہم کو انعام و اکرام سے نوازا۔

گو قاعدہ کے مطابق اب ہمیں رحمت ِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے پاس رکھنے کا کوئی حق نہیں تھا، مگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی برکات نبوت کی وجہ سے ایک لمحہ کے لئے بھی ہم کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جدائی گوارا نہیں تھی۔ عجیب اتفاق کہ اس سال مکہ معظمہ میں

وبائی بیماری پھیلی ہوئی تھی چنانچہ ہم نے اس وبائی بیماری کا بہانہ کر کے حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو رضا مند کر لیا اور پھر ہم رحمت ِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو واپس اپنے گھر لائے اور پھر ہمارا مکان رحمتوں اور برکتوں کی کان بن گیا اور آپ ہمارے پاس نہایت خوش و خرم ہو کر رہنے لگے۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کچھ بڑے ہوئے تو گھر سے باہر نکلتے اور دوسرے لڑکوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتے مگر خود ہمیشہ ہر قسم کے کھیل کود سے علیٰحدہ رہتے۔ ایک روز مجھ سے کہنے لگے کہ اماں جان! میرے دوسرے بھائی بہن دن بھر نظر نہیں آتے یہ لوگ ہمیشہ صبح کو اٹھ کر روزانہ کہاں چلے جاتے ہیں؟ میں نے کہا کہ یہ لوگ بکریاں چرانے چلے جاتے ہیں، یہ سن کر آپ نے فرمایا: مادر مہربان! آپ مجھے بھی میرے بھائی بہنوں کے ساتھ بھیجا کیجیے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اصرار سے مجبور ہو کر آپ کو حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے بچوں کے ساتھ چراگاہ جانے کی اجازت دے دی ۔اور آپ روزانہ جہاں حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بکریاں چرتی تھیں تشریف لے جاتے رہے اور بکریاں چراگاہوں میں لے جا کر ان کی دیکھ بھال کرنا جو تمام انبیاء اور رسولوں علیہم الصلوۃ و السلام کی سنت ہے آپ نے اپنے عمل سے بچپن ہی میں اپنی ایک خصلت نبوت کا اظہار فرما دیا۔

-: شق صدر

-: شق صدر

ایک دن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واالہ وسلم چراگاہ میں تھے کہ ایک دم حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ایک فرزند “ضمرہ” دوڑتے اور ہانپتے کانپتے ہوئے اپنے گھر پر آئے اور اپنی ماں حضرت بی بی حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ اماں جان! بڑا غضب ہو گیا، محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو تین آدمیوں نے جو بہت ہی سفید لباس پہنے ہوئے تھے، چت لٹا کر ان کا شکم پھاڑ ڈالا ہے اور میں اسی حال میں ان کو چھوڑ کر بھاگا ہوا آیا ہوں۔ یہ سن کر حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے شوہر دونوں بدحواس ہو کر گھبرائے ہوئے دوڑ کر جنگل میں پہنچے تو یہ دیکھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے ہیں۔ مگر خوف و ہراس سے چہرہ زرد اور اداس ہے، حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شوہر نے انتہائی مشفقانہ لہجے میں پیار سے چمکار کر پوچھا کہ بیٹا! کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تین شخص جن کے کپڑے بہت ہی سفیداور صاف ستھرے تھے میرے پاس آئے اور مجھ کو چت لٹا کر میرا شکم چاک کرکے اس میں سے کوئی چیز نکال کر باہر پھینک دی اور پھر کوئی چیز میرے شکم میں ڈال کر شگاف کو سی دیا لیکن مجھے ذرہ برابر بھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۲۱)

یہ واقعہ سن کر حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے شوہر دونوں بے حد گھبرائے اور شوہر نے کہا کہ حلیمہ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا مجھے ڈر ہے کہ ان کے اوپر شاید کچھ آسیب کا اثر ہے لہٰذا بہت جلد تم ان کو ان کے گھر والوں کے پاس چھوڑ آؤ۔ اس کے بعد حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کو لے کر مکہ مکرمہ آئیں کیونکہ انہیں اس واقعہ سے یہ خوف پیدا ہو گیا تھا کہ شاید اب ہم کماحقہ ان کی حفاظت نہ کر سکیں گے۔ حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جب مکہ معظمہ پہنچ کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ ماجدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد کیا تو انہوں نے دریافت فرمایا کہ حلیمہ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا تم تو بڑی خواہش اور چاہ کے ساتھ میرے بچے کو اپنے گھر لے گئی تھیں پھر اس قدر جلد واپس لے آنے کی وجہ کیا ہے؟ جب حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے شکم چاک کرنے کا واقعہ بیان کیا اور آسیب کا شبہ ظاہر کیا تو حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہر گز نہیں، خدا کی قسم! میرے نور نظر پر ہرگز ہرگز کبھی بھی کسی جن یا شیطان کا عمل دخل نہیں ہو سکتا۔ میرے بیٹے کی بڑی شان ہے۔ پھر ایام حمل اور وقت ولادت کے حیرت انگیز واقعات سنا کر حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مطمئن کر دیا اور حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کی والدہ ماجدہ کے سپرد کر کے اپنے گاؤں میں واپس چلی آئیں اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واالہ وسلم اپنی والدہ ماجدہ کی آغوشِ تربیت میں پرورش پانے لگے۔

-: شق صدر کتنی بار ہوا ؟

-: شق صدر کتنی بار ہوا ؟

حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سورۂ “الم نشرح” کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ چار مرتبہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا مقدس سینہ چاک کیا گیا اور اس میں نور و حکمت کا خزینہ بھرا گیا۔

پہلی مرتبہ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تھے جس کا ذکر ہو چکا۔ اس کی حکمت یہ تھی کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان وسوسوں اور خیالات سے محفوظ رہیں جن میں بچے مبتلا ہو کر کھیل کود اور شرارتوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ دوسری بار دس برس کی عمر میں ہوا تا کہ جوانی کی پر آشوب شہوتوں کے خطرات سے آپ بے خوف ہو جائیں۔ تیسری بار غارِ حرا میں شق صدر ہوا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قلب میں نور سکینہ بھر دیا گیا تا کہ آپ وحی الٰہی کے عظیم اور گراں بار بوجھ کو برداشت کر سکیں ۔ چوتھی مرتبہ شب معراج میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا مبارک سینہ چاک کر کے نور و حکمت کے خزانوں سے معمور کیا گیا، تا کہ آپ کے قلب مبارک میں اتنی وسعت اور صلاحیت پیدا ہو جائے کہ آپ دیدار الٰہی عزوجل کی تجلیوں، اور کلام ربانی کی ہیبتوں اور عظمتوں کے متحمل ہو سکیں۔

-: ام ایمن

-: ام ایمن

جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور اپنی والدہ محترمہ کے پاس رہنے لگے تو حضرت “امِ ایمن” جو آپکے والد ماجد کی باندی تھیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خاطر داری اور خدمت گزاری میں دن رات جی جان سے مصروف رہنے لگیں۔ امِ ایمن کا نام “برکۃ” ہے یہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو آپ کے والد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے میراث میں ملی تھیں۔ یہی آپ کو کھانا کھلاتی تھیں کپڑے پہناتی تھیں آپ کے کپڑے دھویا کرتی تھیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کا نکاح کر دیا تھا جن سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے۔

(رضی الله تعالیٰ عنهم)

-: بچپن کی ادائیں

-: بچپن کی ادائیں

حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا گہوارہ یعنی جھولا فرشتوں کے ہلانے سے ہلتا تھا اور آپ بچپن میں چاند کی طرف انگلی اٹھا کر اشارہ فرماتے تھے تو چاند آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی انگلی کے اشاروں پر حرکت کرتا تھا۔ جب آپ کی زبان کھلی تو سب سے اول جو کلام آپ کی زبان مبارک سے نکلا وہ یہ تھا اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر الحمد للّٰہ رب العالمین و سبحان اللّٰہ بکرۃ و اصیلا بچوں کی عادت کے مطابق کبھی بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے کپڑوں میں بول و براز نہیں فرمایا۔ بلکہ ہمیشہ ایک معین وقت پر رفع حاجت فرماتے۔ اگر کبھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی شرم گاہ کھل جاتی تو آپ رو رو کر فریاد کرتے۔ اور جب تک شرم گاہ نہ چھپ جاتی آپ کو چین اور قرار نہیں آتا تھا اور اگر شرم گاہ چھپانے میں مجھ سے کچھ تاخیر ہو جاتی تو غیب سے کوئی آپ کی شرم گاہ چھپا دیتا۔ جب آپ اپنے پاؤں پر چلنے کے قابل ہوئے تو باہر نکل کر بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتے مگر خود کھیل کود میں شریک نہیں ہوتے تھے لڑکے آپ کو کھیلنے کے لئے بلاتے تو آپ فرماتے کہ میں کھیلنے کے لئے نہیں پیدا کیا گیا ہوں۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۲۱)

-: حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات

-: حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمر شریف جب چھ برس کی ہو گئی تو آپ کی والدہ ماجدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ آپ کے دادا کے نانھیال بنو عدی بن نجار میں رشتہ داروں کی ملاقات یا اپنے شوہر کی قبر کی زیارت کے لئے تشریف لے گئیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے والد ماجد کی باندی امِ ایمن بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ تھیں وہاں سے واپسی پر “ابواء” نامی گاؤں میں حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات ہو گئی اور وہ وہیں مدفون ہوئیں۔ والد ماجد کا سایہ تو ولادت سے پہلے ہی اٹھ چکا تھا اب والدہ ماجدہ کی آغوش شفقت کا خاتمہ بھی ہو گیا۔ لیکن حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ در یتیم جس آغوشِ رحمت میں پرورش پا کر پروان چڑھنے والا ہے وہ ان سب ظاہری اسبابِ تربیت سے بے نیاز ہے۔

حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات کے بعد حضرت امِ ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو مکہ مکرمہ لائیں اور آپ کے دادا عبدالمطلب کے سپرد کیا اور دادا نے آپ کو اپنی آغوش تربیت میں انتہائی شفقت و محبت کے ساتھ پرورش کیا اور حضرت امِ ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کی خدمت کرتی رہیں۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی عمر شریف آٹھ برس کی ہو گئی تو آپ کے دادا عبدالمطلب کا بھی انتقال ہو گیا۔

-: ابو طالب کے پاس

-: ابو طالب کے پاس

عبدالمطلب کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے چچا ابو طالب نے آپ کو اپنی آغوشِ تربیت میں لے لیا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نیک خصلتوں اور دل لبھا دینے والی بچپن کی پیاری پیاری اداؤں نے ابو طالب کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا ایسا گرویدہ بنا دیا کہ مکان کے اندر اور باہر ہر وقت آپ کو اپنے ساتھ ہی رکھتے۔ اپنے ساتھ کھلاتے پلاتے، اپنے پاس ہی آپ کا بستر بچھاتے اور ایک لمحہ کے لئے بھی کبھی اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتے تھے۔

ابو طالب کا بیان ہے کہ میں نے کبھی بھی نہیں دیکھا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کسی وقت بھی کوئی جھوٹ بولے ہوں یا کبھی کسی کو دھوکہ دیا ہو، یا کبھی کسی کو کوئی ایذا پہنچائی ہو، یا بیہودہ لڑکوں کے پاس کھیلنے کے لئے گئے ہوں یا کبھی کوئی خلافِ تہذیب بات کی ہو۔ ہمیشہ انتہائی خوش اخلاق، نیک اطوار، نرم گفتار، بلند کردار اور اعلیٰ درجہ کے پارسا اور پرہیز گار رہے۔

-: آپ کی دُعا سے بارش

-: آپ کی دُعا سے بارش

ایک مرتبہ ملکِ عرب میں انتہائی خوفناک قحط پڑ گیا۔ اہلِ مکہ نے بتوں سے فریاد کرنے کا ارادہ کیا مگر ایک حسین و جمیل بوڑھے نے مکہ والوں سے کہا کہ اے اہلِ مکہ! ہمارے اندر ابو طالب موجود ہیں جو بانی کعبہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی نسل سے ہیں اور کعبہ کے متولی اور سجادہ نشین بھی ہیں۔ ہمیں ان کے پاس چل کر دعا کی درخواست کرنی چاہیے۔ چنانچہ سردار انِ عرب ابو طالب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فریاد کرنے لگے کہ اے ابو طالب ! قحط کی آگ نے سارے عرب کو جھلسا کر رکھ دیا ہے۔ جانور گھاس پانی کے لئے ترس رہے ہیں اور انسان دانہ پانی نہ ملنے سے تڑپ تڑپ کر دم توڑ رہے ہیں۔ قافلوں کی آمدورفت بند ہو چکی ہے اور ہر طرف بربادی و ویرانی کا دور دورہ ہے۔ آپ بارش کے لئے دعا کیجیے۔ اہلِ عرب کی فریاد سن کر ابو طالب کا دل بھر آیا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے کر حرم کعبہ میں گئے۔ اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیوار کعبہ سے ٹیک لگا کر بٹھا دیا اور دعا مانگنے میں مشغول ہوگئے۔ درمیان دعا میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی انگشت مبارک کو آسمان کی طرف اٹھا دیا ایک دم چاروں طرف سے بدلیاں نمودار ہوئیں اور فوراً ہی اس زور کا بارانِ رحمت برسا کہ عرب کی زمین سیراب ہو گئی۔ جنگلوں اور میدانوں میں ہر طرف پانی ہی پانی نظر آنے لگا۔ چٹیل میدانوں کی زمینیں سر سبز و شاداب ہو گئیں۔ قحط دفع ہو گیا اور کال کٹ گیا اور سارا عرب خوش حال اور نہال ہو گیا۔

چنانچہ ابوطالب نے اپنے اس طویل قصیدہ میں جس کو انہوں نے حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح میں نظم کیا ہے اس واقعہ کو ایک شعر میں اس طرح ذکر کیا ہے کہ

وَاَبْيَضَ يُسْتَسْقَي الْغَمَامُ بِوَجْهه

ثِمَالُ الْيَتَامِيْ عِصْمَة لِّـلْاَرَامِلِ

یعنی وہ (حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ایسے گورے رنگ والے ہیں کہ ان کے رخ انور کے ذریعہ بدلی سے بارش طلب کی جاتی ہے وہ یتیموں کا ٹھکانا اور بیواؤں کے نگہبان ہیں۔

(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۱۹۰)

-: اُمّی لقب

-: اُمّی لقب

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا لقب “اُمّی” ہے اس لفظ کے دو معنی ہیں یا تو یہ ” اُم القریٰ ” کی طرف نسبت ہے۔ “اُم القریٰ” مکہ مکرمہ کا لقب ہے۔ لہٰذا “اُمی” کے معنی مکہ مکرمہ کے رہنے والے یا “اُمّی” کے یہ معنی ہیں کہ آپ نے دنیا میں کسی انسان سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا۔ یہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بہت ہی عظیم الشان معجزہ ہے کہ دنیا میں کسی نے بھی آپ کو نہیں پڑھایا لکھایا۔ مگر خداوند قدوس نے آپ کو اس قدر علم عطا فرمایا کہ آپ کا سینہ اولین و آخرین کے علوم و معارف کا خزینہ بن گیا۔ اور آپ پر ایسی کتاب نازل ہوئی جس کی شان ’’ تِبْيَانًا لِّکُلِّ شَيْئٍ ‘‘ (ہر ہر چیز کا روشن بیان) ہے حضرت مولانا جامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ

َنگار من کہ بہ مکتب نرفت و خط ننوشت

َبغمزہ سبق آموز صد مدرس شد

یعنی میرے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نہ کبھی مکتب میں گئے، نہ لکھنا سیکھا مگر اپنے چشم و ابرو کے اشارہ سے سیکڑوں مدرسوں کو سبق پڑھا دیا۔

ظاہر ہے کہ جس کا استاد اور تعلیم دینے والا خلاق عالم جل جلالہ ہو بھلا اس کو کسی اور استاد سے تعلیم حاصل کرنے کی کیا ضرورت ہو گی؟ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز نے ارشاد فرمایا کہ

َایسا امی کس لئے منت کش استاذ ہو

َکیا کفایت اس کو اقرء ربک الاکرم نہیں

آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے امی لقب ہونے کا حقیقی راز کیا ہے؟ اس کو تو خدا وند علام الغیوب کے سوا اور کون بتا سکتا ہے ؟ لیکن بظاہر اس میں چند حکمتیں اور فوائد معلوم ہوتے ہیں ۔

اوّل۔ یہ کہ تمام دنیا کو علم و حکمت سکھانے والے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہوں اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا استاد صرف خداوند عالم ہی ہو، کوئی انسان آپ کا استاد نہ ہوتا کہ کبھی کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ پیغمبر تو میرا پڑھایا ہوا شاگرد ہے۔

دوم۔ یہ کہ کوئی شخص کبھی یہ خیال نہ کر سکے کہ فلاں آدمی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا استاد تھا تو شاید وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے زیادہ علم والا ہو گا۔

سوم۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی یہ وہم بھی نہ کر سکے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم چونکہ پڑھے لکھے آدمی تھے اس لیے انہوں نے خود ہی قرآن کی آیتوں کو اپنی طرف سے بنا کر پیش کیا ہے اور قرآن انہیں کا بنایا ہوا کلام ہے۔

چہارم۔ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ساری دنیا کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیں تو کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ پہلی اور پرانی کتابوں کو دیکھ دیکھ کر اس قسم کی انمول اور انقلاب آفریں تعلیمات دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

پنجم۔ اگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا کوئی استاد ہوتا تو آپ کو اس کی تعظیم کرنی پڑتی، حالانکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو خالق کائنات نے اس لیے پیدا فرمایا تھا کہ سارا عالم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی تعظیم کرے، اس لیے حضرت حق جل شانہ نے اس کو گوارا نہیں فرمایا کہ میرا محبوب کسی کے آگے زانوئے تلمذ تہ کرے اور کوئی اس کا استاد ہو۔

(والله تعالیٰ اعلم)

-: سفر شام اور بحیرٰی

-: سفر شام اور بحیرٰی

جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی عمر شریف بارہ برس کی ہوئی تو اس وقت ابو طالب نے تجارت کی غرض سے ملک شام کا سفر کیا۔ ابو طالب کو چونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے بہت ہی والہانہ محبت تھی اس لیے وہ آپ کو بھی اس سفر میں اپنے ہمراہ لے گئے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اعلان نبوت سے قبل تین بار تجارتی سفر فرمایا۔ دو مرتبہ ملک شام گئے اور ایک بار یمن تشریف لے گئے، یہ ملک شام کا پہلا سفر ہے اس سفر کے دوران ” بُصریٰ ” میں ” بُحیریٰ ” راہب (عیسائی سادھو) کے پاس آپ کا قیام ہوا۔ اس نے توراۃ و انجیل میں بیان کی ہوئی نبی آخر الزماں کی نشانیوں سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو دیکھتے ہی پہچان لیا اور بہت عقیدت اور احترام کے ساتھ اس نے آپ کے قافلہ والوں کی دعوت کی اور ابو طالب سے کہا کہ یہ سارے جہان کے سردار اور رب العالمین کے رسول ہیں، جن کو خدا عزوجل نے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ شجر و حجران کو سجدہ کرتے ہیں اور ابر ان پر سایہ کرتا ہے اور ان کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہے۔ اس لئے تمہارے اور ان کے حق میں یہی بہتر ہوگا کہ اب تم ان کو لے کر آگے نہ جاؤ اور اپنا مال تجارت یہیں فروخت کرکے بہت جلد مکہ چلے جاؤ۔ کیونکہ ملک شام میں یہودی لوگ ان کے بہت بڑے دشمن ہیں۔ وہاں پہنچتے ہی وہ لوگ ان کو شہید کر ڈالیں گے۔ بحیرٰی راہب کے کہنے پر ابو طالب کو خطرہ محسوس ہونے لگا۔ چنانچہ انہوں نے وہیں اپنی تجارت کا مال فروخت کر دیا اور بہت جلد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ واپس آ گئے۔ بُحیریٰ راہب نے چلتے وقت انتہائی عقیدت کے ساتھ آپ کو سفر کا کچھ توشہ بھی دیا۔

(ترمذی ج۲ باب ماجاء فی بدء نبوة النبی صلی الله تعالیٰ عليه وسلم)