عالم نباتات کے معجزات


خوشہ درخت سے اُتر پڑا:۔

حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ ایک اعرابی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ سے عرض کی کہ مجھے یہ کیونکر یقین ہو کہ آپ خدا کے پغمبر ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اس کھجور کے درخت پر جو خوشہ لٹک رہا ہے اگر میں اس کو اپنے پاس بلاؤں اور وہ میرے پاس آجائے تو کیا تم میری نبوت پر ایمان لاؤ گے؟ اس نے کہا کہ ہاں بے شک میں آپ کا یہ معجزہ دیکھ کر ضرور آپ کو خدا کا رسول مان لوں گا۔ آپ نے کھجور کے اس خوشہ کو بلایا تو وہ فوراً ہی چل کر درخت سے اترا اور آپ کے پاس آ کیا پھر آپ نے حکم دیا تو وہ واپس جا کر درخت میں اپنی جگہ پر پووست ہو کیا۔ یہ معجزہ دیکھ کر وہ اعرابی فورا ً ہی دامن اسلام میں آگیا ۔(ترمذی جلد ۲ ص ۲۰۳ باب ماجاء فی آيات نبوة النبی الخ)

درخت چل کر آیا:۔

حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ ہم لوگ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و سلم کے ساتھ ایک سفر مںن تھے۔ ایک اعرابی آپ کے پاس آیا، آپ نے اس کو اسلام کی دعوت دی، اس اعرابی نے سوال کای کہ کاو آپ کی نبوت پر کوئی گواہ بھی ہے؟ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ ہاں یہ درخت جو مد ان کے کنارے پر ہے مرہی نبوت کی گواہی دے گا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علہس وسلم نے اس درخت کو بلایا اور وہ فوراً ہی زمن چر تا ہوا اپنی جگہ سے چل کر بارگاہِ اقدس مں حاضر ہوگاا اور اس نے بہ آواز بلند تنٰ مرتبہ آپ کی نبوت کی گواہی دی۔ پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و سلم نے اس کو اشارہ فرمایا تو وہ درخت زمنم مںو چلتا ہوا اپنی جگہ پر چلا گیا۔

محدث بزارو امام بیقا و امام بغوی نے اس حدیث مں یہ روایت بھی تحریر فرمائی ہے کہ اس درخت نے بارگاہِ اقدس مںج آ کر اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ الله کہا، اعرابی یہ معجزہ دیکھتے ہی مسلمان ہوگاک اور جوشِ عقدلت مںج عرض کای کہ یارسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علہا وسلم) مجھے اجازت دیجئے کہ مں آپ کو سجدہ کروں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علہھ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر مںد خدا کے سوا کسی دوسرے کو سجدہ کرنے کاحکم دیتا تو مںد عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کاا کریں۔ یہ فرما کر آپ نے اس کو سجدہ کرنے کی اجازت نہںت دی۔ پھر اس نے عرض کا کہ یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علہ وسلم) اگر آپ اجازت دیں تو مںل آپ کے دست مبارک اور مقدس پاؤں کو بوسہ دوں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علہس وسلم نے اس کو اس کی اجازت دے دی۔ چنانچہ اس نے آپ کے مقدس ہاتھ اور مبارک پاؤں کو والہانہ عقدمت کے ساتھ چوم لام۔ (زرقانی جلد ۵ ص ۱۲۸ تاص ۱۳۱)