عالم انسانیت کے معجزات


تھوڑی چیز زیادہ ہو گئی:۔

تمام دنیا جانتی ہے کہ مسلمانوں کا ابتدائی زمانہ بہت ہی فقر و فاقہ میں گزرا ہے۔ کئی کئی دن گزر جاتے تھے کہ ان لوگوں کو کوئی چیز کھانے کے لئے نہیں ملتی تھی۔ ایسی حالت میں اگر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ معجزہ ان فاقہ زدہ مسلمانوں کی نصرت و دستگیری نہ کرتا تو بھلا ان مفلس اور فاقہ مست مسلمانوں کا کیا حال ہوتا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آسمان سے اترنے والے دسترخوان کی سات روٹیوں اور سات مچھلیوں سے کئی سو آدمیوں کو شکم سیر کر دیا۔ یقینا یہ ان کا بہت ہی عظیم الشان معجزہ ہے جس کا ذکر انجیل و قرآن دونوں مقدس آسمانی کتابوں میں مذکور ہے۔ لیکن حضور رحمۃ للعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دست مبارک سے سینکڑوں مرتبہ اس قسم کی معجزانہ برکتوں کا ظہور ہوا کہ تھوڑا سا کھاناپانی سینکڑوں بلکہ ہزاروں انسانوں کو شکم سیر اور سیراب کرنے کے لئے کافی ہو گیا۔ اس قسم کے سینکڑوں معجزات میں سے مندرج ذیل چند معجزات آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے معجزانہ تصرفات کی آیات بینات بن کر احادیث کی کتابوں میں اس طرح چمک رہے ہیں جس طرح آسمان پر اندھیری راتوں میں ستارے چمکتے اور جگمگاتے رہتے ہیں۔

اُمِ سُلَیم کی روٹیاں:۔

ایک دن حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اپنے گھر میں آئے اور اپنی بیوی حضرت اُمِ سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ میں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی کمزور آواز سے یہ محسوس کیا کہ آپ بھو کے ہیں۔ اُمِ سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے جو کی چند روٹیاں دوپٹے میں لپیٹ کر حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ آپ کی خدمت میں بھیج دیں۔ حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب بارگاہِ نبوت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مجمع میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ابو طلحہ نے تمہارے ہاتھ کھانا بھیجا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ” جی ہاں ” یہ سن کر آپ اپنے اصحاب کے ساتھ اٹھے اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان پر تشریف لائے۔ حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے دوڑ کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس بات کی خبردی، انہوں نے بی بی اُمِ سلیم سے کہا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک جماعت کے ساتھ ہمارے گھر پر تشریف لا رہے ہیں۔ حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے مکان سے نکل کر نہایت ہی گرم جوشی کے ساتھ آپ کا استقبال کیا آپ نے تشریف لاکر حضرت بی بی اُمِ سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہو لاؤ ۔ انہوں نے وہی چند روٹیاں پیش کر دیں جن کو حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ بارگاہ رسالت میں بھیجا تھا ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم سے ان روٹیوں کا چورہ بنایا گیا اور حضرت بی بی اُمِ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس چورہ پر بطور سالن کے گھی ڈال دیا، ان چند روٹیوں میں آپ کے معجزانہ تصرفات سے اس قدر برکت ہوئی کہ آپ دس دس آدمیوں کو مکان کے اندر بلا بلا کر کھلاتے رہے اور وہ لوگ خوب شکم سیر ہو کر کھاتے اور جاتے رہے یہاں تک کہ ستر یا اسی آدمیوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھا لیا۔ (بخاری جلد۱ ص ۵۰۵ علامات النبوة و بخاری جلد۲ ص ۹۸۹)

حضرت جابر کی کھجوریں:۔

حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے والد یہودیوں کے قرضدار تھے اور جنگِ اُحد میں شہید ہو گئے، حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ) میرے والد نے اپنے اوپر قرض چھوڑ کر وفات پائی ہے اور کھجوروں کے سوا میرے پاس قرض ادا کرنے کا کوئی سامان نہیں ہے، صرف کھجوروں کی پیداوار سے کئی برس تک یہ قرض ادا نہیں ہو سکتا آپ میرے باغ میں تشریف لے چلیں تا کہ آپ کے ادب سے یہودی اپنا قرض وصول کرنے میں مجھ پر سختی نہ کریں۔ چنانچہ آپ باغ میں تشریف لائے اور کھجوروں کا جو ڈھیر لگا ہوا تھا اس کے گرد چکر لگا کر دعا فرمائی اور خود کھجوروں کے ڈھیر پر بیٹھ گئے۔آپ کے معجزانہ تصرف اور دعا کی تاثیر سے ان کھجوروں میں اس قدر برکت ہوئی کہ تمام قرض ادا ہو گیا اور جس قدر کھجوریں قرضداروں کو دی گئیں اتنی ہی بچ رہیں۔ (بخاری ج۲ ص۵۰۵ علامات النبوة)