عالم انسانیت کے معجزات

-: تھوڑی چیز زیادہ ہو گئی

-: تھوڑی چیز زیادہ ہو گئی

تمام دنیا جانتی ہے کہ مسلمانوں کا ابتدائی زمانہ بہت ہی فقر و فاقہ میں گزرا ہے۔ کئی کئی دن گزر جاتے تھے کہ ان لوگوں کو کوئی چیز کھانے کے لئے نہیں ملتی تھی۔ ایسی حالت میں اگر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ معجزہ ان فاقہ زدہ مسلمانوں کی نصرت و دستگیری نہ کرتا تو بھلا ان مفلس اور فاقہ مست مسلمانوں کا کیا حال ہوتا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آسمان سے اترنے والے دسترخوان کی سات روٹیوں اور سات مچھلیوں سے کئی سو آدمیوں کو شکم سیر کر دیا۔ یقینا یہ ان کا بہت ہی عظیم الشان معجزہ ہے جس کا ذکر انجیل و قرآن دونوں مقدس آسمانی کتابوں میں مذکور ہے۔ لیکن حضور رحمۃ للعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دست مبارک سے سینکڑوں مرتبہ اس قسم کی معجزانہ برکتوں کا ظہور ہوا کہ تھوڑا سا کھاناپانی سینکڑوں بلکہ ہزاروں انسانوں کو شکم سیر اور سیراب کرنے کے لئے کافی ہو گیا۔ اس قسم کے سینکڑوں معجزات میں سے مندرج ذیل چند معجزات آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے معجزانہ تصرفات کی آیات بینات بن کر احادیث کی کتابوں میں اس طرح چمک رہے ہیں جس طرح آسمان پر اندھیری راتوں میں ستارے چمکتے اور جگمگاتے رہتے ہیں۔

-: اُمِ سُلَیم کی روٹیاں

-: اُمِ سُلَیم کی روٹیاں

ایک دن حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اپنے گھر میں آئے اور اپنی بیوی حضرت اُمِ سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ میں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی کمزور آواز سے یہ محسوس کیا کہ آپ بھو کے ہیں۔ اُمِ سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے جو کی چند روٹیاں دوپٹے میں لپیٹ کر حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ آپ کی خدمت میں بھیج دیں۔ حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب بارگاہِ نبوت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مجمع میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ابو طلحہ نے تمہارے ہاتھ کھانا بھیجا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ” جی ہاں ” یہ سن کر آپ اپنے اصحاب کے ساتھ اٹھے اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان پر تشریف لائے۔ حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے دوڑ کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس بات کی خبردی، انہوں نے بی بی اُمِ سلیم سے کہا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک جماعت کے ساتھ ہمارے گھر پر تشریف لا رہے ہیں۔ حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے مکان سے نکل کر نہایت ہی گرم جوشی کے ساتھ آپ کا استقبال کیا آپ نے تشریف لاکر حضرت بی بی اُمِ سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہو لاؤ ۔ انہوں نے وہی چند روٹیاں پیش کر دیں جن کو حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ بارگاہ رسالت میں بھیجا تھا ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم سے ان روٹیوں کا چورہ بنایا گیا اور حضرت بی بی اُمِ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس چورہ پر بطور سالن کے گھی ڈال دیا، ان چند روٹیوں میں آپ کے معجزانہ تصرفات سے اس قدر برکت ہوئی کہ آپ دس دس آدمیوں کو مکان کے اندر بلا بلا کر کھلاتے رہے اور وہ لوگ خوب شکم سیر ہو کر کھاتے اور جاتے رہے یہاں تک کہ ستر یا اسی آدمیوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھا لیا۔

(بخاری جلد۱ ص ۵۰۵ علامات النبوة و بخاری جلد۲ ص ۹۸۹)

-: حضرت جابر کی کھجوریں

-: حضرت جابر کی کھجوریں

حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے والد یہودیوں کے قرضدار تھے اور جنگِ اُحد میں شہید ہو گئے، حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ) میرے والد نے اپنے اوپر قرض چھوڑ کر وفات پائی ہے اور کھجوروں کے سوا میرے پاس قرض ادا کرنے کا کوئی سامان نہیں ہے، صرف کھجوروں کی پیداوار سے کئی برس تک یہ قرض ادا نہیں ہو سکتا آپ میرے باغ میں تشریف لے چلیں تا کہ آپ کے ادب سے یہودی اپنا قرض وصول کرنے میں مجھ پر سختی نہ کریں۔ چنانچہ آپ باغ میں تشریف لائے اور کھجوروں کا جو ڈھیر لگا ہوا تھا اس کے گرد چکر لگا کر دعا فرمائی اور خود کھجوروں کے ڈھیر پر بیٹھ گئے۔آپ کے معجزانہ تصرف اور دعا کی تاثیر سے ان کھجوروں میں اس قدر برکت ہوئی کہ تمام قرض ادا ہو گیا اور جس قدر کھجوریں قرضداروں کو دی گئیں اتنی ہی بچ رہیں۔

(بخاری ج۲ ص۵۰۵ علامات النبوة)

-: حضرت ابوہریرہ کی تھیلی

-: حضرت ابوہریرہ کی تھیلی

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ان کھجوروں میں برکت کی دعا فرما دیجئے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کھجوروں کو اکٹھا کر کے دعاء برکت فرما دی اور ارشاد فرمایا کہ تم ان کو اپنے توشہ دان میں رکھ لو اور تم جب چاہو ہاتھ ڈال کر اس میں سے نکالتے رہو لیکن کبھی توشہ دان جھاڑ کر بالکل خالی نہ کر دینا ۔چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تیس برس تک ان کھجوروں کو کھاتے اور کھلاتے رہے بلکہ کئی من اس میں سے خیرات بھی کر چکے مگر وہ ختم نہ ہوئیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہمیشہ اس تھیلی کو اپنی کمر سے باندھے رہتے تھے یہاں تک کہ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے دن وہ تھیلی ان کی کمر سے کٹ کر کہیں گر گئی۔

(مشکوٰة جلد۲ ص۵۴۲ معجزات و ترمذی جلد۲ ص۲۲۴مناقب ابوهريرہ)

اس تھیلی کے ضائع ہونے کا حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو عمر بھر صدمہ اور افسوس رہا۔ چنانچہ وہ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے دن نہایت رقت انگیز اور درد بھرے لہجہ میں یہ شعر پڑھتے ہوئے چلتے پھرتے تھے کہ ؎

هَمُّ الْجِرَابِ وَهَمُّ الشَّيْخِ عُثْمَانَا لِلنَّاسِ هَمٌّ وَ لِيْ هَمَّانِ بَيْنَهُمْ

(مرقاة شرح مشکوٰة)

لوگوں کے لئے ایک غم ہے اور میرے لئے دو غم ہیں ایک تھیلی کا غم دوسرے شیخ عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا غم۔

-: اُمِ مالک کا کُپّہ

-: اُمِ مالک کا کُپّہ

حضرت اُمِ مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس ایک کپہ تھا جس میں وہ حضور نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ میں گھی بھیجا کرتی تھیں اس کپے میں اتنی عظیم برکتوں کا ظہور ہوا کہ جب بھی اُمِ مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے بیٹے سالن مانگتے تھے اور گھر میں کوئی سالن نہیں ہوتا تھا تو وہ اس کپے میں سے گھی نکال کر اپنے بیٹوں کو دے دیا کرتی تھیں۔ ایک مدت دراز تک وہ ہمیشہ اس کپے میں سے گھی نکال نکال کر اپنے گھر کا سالن بنایا کرتی تھیں۔ ایک دن انہوں نے اس کپے کو نچوڑ کر بالکل ہی خالی کر دیا جب بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئیں تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم نے اس کپے کو نچوڑ ڈالا؟ انہوں نے کہا کہ ” جی ہاں ” آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اس کپے کو نہ نچوڑتیں اور یوں ہی چھوڑ دیتیں تو ہمیشہ اس میں سے گھی نکلتا ہی رہتا۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

(مشکوٰة جلد۲ ص۵۳۷ باب المعجزات)

-: بابرکت پیالہ

-: بابرکت پیالہ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ بھر کر کھانا تھا، ہم لوگ دس دس آدمی باری باری صبح سے شام تک اس پیالہ میں سے لگاتار کھاتے رہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ ایک ہی پیالہ تو کھانا تھا تو وہ کہاں سے بڑھتا رہتا تھا؟ (کہ لوگ اس قدر زیادہ تعداد میں دن بھر اس کو کھاتے رہے) تو انہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ ” وہاں سے”

(ترمذی جلد۲ ص۲۰۳ باب ماجاء فی آيات نبوة النبی صلی اﷲ تعالیٰ عليه وسلم)

-: تھوڑا توشہ عظیم برکت

-: تھوڑا توشہ عظیم برکت

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم چودہ سو اشخاص کی جماعت کے ساتھ ایک سفر میں تھے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بھوک سے بے تاب ہو کر سواری کی اونٹنیوں کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے منع فرما دیااور حکم دیا کہ تمام لشکر والے اپنا اپنا توشہ ایک دستر خوان پر جمع کریں ۔چنانچہ جس کے پاس جو کچھ تھا لا کر رکھ دیا تو تمام سامان اتنی جگہ میں آ گیا جس پر ایک بکری بیٹھ سکتی تھی لیکن چودہ سو آدمیوں نے اس میں سے شکم سیر ہو کر کھا بھی لیا اور اپنے اپنے توشہ دانوں کو بھی بھر لیا کھانے کے بعد آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پانی مانگا،ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک برتن میں تھوڑاسا پانی لائے ، آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو پیالہ میں انڈیل دیا اور اپنا دستِ مبارک اس میں ڈال دیا تو چودہ سو آدمیوں نے اس سے وضو کیا۔

(مسلم جلد۲ ص۸۱ باب استحباب خلط الازواد)

-: برکت والی کلیجی

-: برکت والی کلیجی

ایک سفر میں حضور انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سو تیس صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہمراہ تھے، آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے دریافت فرمایا کہ کیا تم لوگوں کے پاس کھانے کا سامان ہے؟ یہ سن کر ایک شخص ایک صاع آٹا لایا اور وہ گوندھا گیا پھر ایک بہت تندرست لمبا چوڑا کافر بکریاں ہانکتا ہوا آپ کے پاس آیا۔ آپ نے اس سے ایک بکری خریدی اور ذبح کرنے کے بعد اس کی کلیجی کو بھوننے کا حکم دیا پھر ایک سو تیس آدمیوں میں سے ہر ایک کا اس کلیجی میں سے ایک ایک بوٹی کاٹ کر حصہ لگایا، اگر وہ حاضر تھا تو اس کو عطا فرما دیا اوراگر وہ غائب تھا تو اس کا حصہ چھپا کر رکھ دیا، جب گوشت تیار ہوا تو اس میں سے دو پیالہ بھر کر الگ رکھ دیا پھر باقی گوشت اور ایک صاع آٹے کی روٹی سے ایک سوتیس آدمیوں کی جماعت شکم سیر کھا کر آسودہ ہو گئی اور دو پیالہ بھر کر گوشت فاضل بچ گیا جس کو اونٹ پر لاد لیا گیا۔

(بخاری جلد۲ ص۸۱۱ باب من اكل حتی شبع)

-: حضرت ابوہریرہ اور ایک پیالہ دودھ

-: حضرت ابوہریرہ اور ایک پیالہ دودھ

ایک دن حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھوک سے نڈھال ہو کر راستے میں بیٹھ گئے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سامنے سے گزرے تو ان سے انہوں نے قرآن کی ایک آیت کو دریافت کیا مقصد یہ تھا کہ شاید وہ مجھے اپنے گھر لے جا کر کچھ کھلائیں گے مگر انہوں نے راستہ چلتے ہوئے آیت بتا دی اور چلے گئے۔ پھر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس راستہ سے نکلے ان سے بھی انہوں نے ایک آیت کا مطلب پوچھا غرض وہی تھی کہ وہ کچھ کھلا دیں گے مگر وہ بھی آیت کا مطلب بتا کر چل دیئے۔ اس کے بعد حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف لائے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرہ کو دیکھ کر اپنی خداداد بصیرت سے جان لیا کہ”یہ بھوکے ہیں” آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہیں پکارا ،انہوں نے جواب دیا اور ساتھ ہو لئے جب آپ کا شانۂ نبوت میں پہنچے تو گھر میں دودھ سے بھرا ہوا ایک پیالہ دیکھا گھر والوں نے آپ کو اس شخص کا نام بتلایا جس نے دودھ کا یہ ہدیہ بھیجا تھا۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ جائو اور تمام اصحابِ صفہ کو بلا لا ؤ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے دل میں سوچنے لگے کہ ایک ہی پیالہ تو دودھ ہے اس دودھ کا سب سے زیادہ حق دار تو میں تھا اگر مجھے مل جاتا تو مجھ کو بھوک کی تکلیف سے کچھ راحت مل جاتی اب دیکھئے اصحاب صفہ کے آ جانے کے بعد بھلا اس میں سے کچھ مجھے ملتا ہے یا نہیں؟ ان کے دل میں یہی خیالات چکر لگا رہے تھے مگر اﷲ و رسول عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اطاعت سے کوئی چارہ نہ تھا؛ لہٰذا وہ اصحاب صفہ کوبلا کر لے گئے یہ سب لوگ اپنی اپنی جگہ ایک قطار میں بیٹھ گئے پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ “تم خود ہی ان سب لوگوں کو یہ دودھ پلاؤ۔”چنانچہ انہوں نے سب کو پلانا شروع کر دیا جب سب کے سب شکم سیر پی کر سیراب ہوگئے تو حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے دست رحمت میں یہ پیالہ لے لیا اور حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ اب صرف ہم اور تم باقی رہ گئے ہیں آؤ بیٹھو اور تم پینا شروع کر دو۔ انہوں نے پیٹ بھر دودھ پی کر پیالہ رکھنا چاہا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اور پیو ” چنانچہ انہوں نے پھر پیا لیکن آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بار بار فرماتے رہے کہ ” اور پیو اور پیو ” یہاں تک کہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) مجھے اس ذات کی قسم ہے جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ اب میرے پیٹ میں بالکل ہی گنجائش نہیں رہی۔ اس کے بعد حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پیالہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور جتنا دودھ بچ گیا تھا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بسم اﷲ پڑھ کے پی گئے۔

(بخاری جلد۲ ص۹۵۵ تا ص۹۵۶ باب کيف کان عيش النبی)

یہی وہ معجزہ ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ ؎

جس سے ستر صاحبوں کا دودھ سے منہ پھر گیا کیوںجناب بوہریرہ کیساتھاوہ جام شیر

-: آشوب چشم سے شفاء

-: آشوب چشم سے شفاء

ہم غزوہ خیبر کے بیان میں مفصل طور پر یہ معجزہ تحریر کرچکے ہیں کہ جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فتح کا جھنڈا عطا فرمانے کے لئے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو طلب فرمایا تو معلوم ہوا کہ ان کی آنکھوں میں آشوب ہے اور مسند احمد بن حنبل کی روایت سے پتا چلتا ہے کہ یہ آشوب چشم اتنا سخت تھا کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ان کا ہاتھ پکڑ کر لائے تھے ۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگا دیا اور دعا فرما دی تو وہ فوراً ہی شفاء یاب ہو گئے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کی آنکھوں میں کبھی درد تھا ہی نہیں اور وہ اسی وقت جھنڈا لے کر روانہ ہو گئے اور جوش جہاد میں بھرے ہوئے انتہائی جانبازی کے ساتھ جنگ کی اور خیبر کا قلعہ ان کے دستِ حق پرست سے اسی دن فتح ہو گیا۔

(بخاری جلد۱ ص۵۲۵ مناقب علی بن ابی طالب)

-: سانپ کا زہر اُتر گیا

-: سانپ کا زہر اُتر گیا

واقعہ ہجرت میں ہم تفصیل کے ساتھ لکھ چکے ہیں کہ جب غارِ ثور میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاؤں میں سانپ نے کاٹ لیا اور درد و کرب کی شدت سے بے تاب ہو کر رو پڑے تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے زخم پر اپنا لعاب دہن لگا دیا جس سے فوراً ہی درد جاتا رہا اور سانپ کا زہر اتر گیا۔

(زرقانی علی المواهب جلد۱ ص ۳۳۹)

-: ٹوٹی ہوئی ٹانگ درست ہو گئی

-: ٹوٹی ہوئی ٹانگ درست ہو گئی

بخاری شریف کی ایک طویل حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عتیک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب ابو رافع یہودی کو قتل کرکے واپس آنے لگے تو اس کے کوٹھے کے زینے سے گر پڑے جس سے ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور ان کے ساتھی ان کو اٹھا کر بارگاہ نبوت میں لائے، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی زبان سے ابو رافع کے قتل کا سارا واقعہ سنا پھر ان کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر اپنا دستِ مبارک پھیر دیا تو وہ فوراً ہی اچھی ہو گئی اور یہ معلوم ہونے لگا کہ ان کی ٹانگ میں کبھی کوئی چوٹ لگی ہی نہ تھی۔

(بخاری جلد۲ ص۵۷۷ باب قتل ابی رافع)

-: تلوار کا زخم اچھا ہو گیا

-: تلوار کا زخم اچھا ہو گیا

غزوئہ خیبر میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ٹانگ میں تلوار کا زخم لگ گیا، وہ فوراً ہی بارگاہ نبوت میں حاضر ہو گئے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے زخم پر تین مرتبہ دم کر دیا پھر انہیں درد کی کوئی شکایت محسوس نہیں ہوئی صرف زخم کا نشان رہ گیا تھا۔

(بخاری جلد۲ ص۶۰۵ غزويه خيبر)

-: اندھا بینا ہو گیا

-: اندھا بینا ہو گیا

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک اندھا حاضر ہوا اور اپنی تکالیف بیان کرنے لگا،آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری خواہش ہو تو میں دعا کر دوں اور اگر چاہو تو صبر کرو یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ اس نے درخواست کی کہ یارسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میری بینائی کے لئے دعا فرما دیجئے۔آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اچھی طرح وضو کرکے یہ دعا مانگو کہ “خدا وندا!اپنے رحمت والے پیغمبر کے وسیلہ سے میری حاجت پوری کر دے” ترمذی اور حاکم کی روایت میں اتنا ہی مضمون ہے مگر ابن حنبل اور حاکم کی دوسری روایت میں اس کے بعدیہ بھی ہے کہ اس نابینا نے ایسا کیا تو فوراً ہی اچھا ہو گیا اور اس کی آنکھوں پر بھر پور روشنی آ گئی۔

(مسند ابن حنبل جلد۴ ص ۱۳۸ و مستدرك جلد۱ ص ۵۲۶)

-: گونگا بولنے لگا

-: گونگا بولنے لگا

حجۃ الوداع کے موقع پر حضور انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ ’’خثعم‘‘ کی ایک عورت اپنے بچے کو لے کر آئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) یہ میرا اکلوتا بیٹا بولتا نہیں ہے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا اور اس میں ہاتھ دھو کر کلی فرما دی اورارشاد فرمایا کہ یہ پانی اس بچے کو پلا دو اور کچھ اس کے اوپر چھڑک دو۔ دوسرے سال وہ عورت آئی تو اس نے لوگوں سے بیان کیا کہ اس کا لڑکا اچھا ہو گیا اور بولنے لگا۔

(ابن ما جه ص۲۶ باب النشره)

-: حضرت قتادہ کی آنکھ

-: حضرت قتادہ کی آنکھ

جنگ ِ اُحد میں حضرت قتادہ بن نعمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی آنکھ میں ایک تیر لگا جس سے ان کی آنکھ ان کے رخسار پر بہ کر آ گئی، یہ دوڑ کر حضور رسولِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے، آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فوراً ہی اپنے دست مبارک سے ان کی بہی ہوئی آنکھ کو آنکھ کے حلقہ میں رکھ کراپنا مقدس ہاتھ اس پرپھیر دیاتواسی وقت ان کی آنکھ اچھی ہو گئی اور یہ آنکھ ان کی دوسری آنکھ سے زیادہ خوبصورت اور روشن رہی۔

ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو تمہاری آنکھ کو تمہارے حلقہ چشم میں رکھ دوں اوروہ اچھی ہو جائے اور اگر تم چاہو تو صبر کرو اور تمہیں اس کے بدلے پر جنت ملے گی۔ انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ! ( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم )جنت بلا شبہ بہت ہی بڑی نعمت ہے مگر مجھے کانا ہونا بہت برا معلوم ہوتا ہے اس لئے آپ میری آنکھ اچھی کر دیجئے اور میرے لئے جنت کی دعا بھی فرما دیجئے۔ حضور رحمۃ للعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے اس جاںنثار پر پیار آگیا اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلمنے ان کی آنکھ کو حلقہ چشم میں رکھ کر ہاتھ پھیر دیا تو ان کی آنکھ بھی اچھی ہو گئی اور ان کے لئے جنتی ہونے کی دعا بھی فرما دی اور یہ دونوں نعمتوں سے سرفراز ہوگئے۔

(الکلام المبين ص۷۸ بحواله بيهقی)

-: فائدہ

-: فائدہ

یہ معجزہ بہت ہی مشہور ہے اور حضرت قتادہ بن نعمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اولاد میں ہمیشہ اس بات کا تفاخر رہا کہ ان کے جد اعلیٰ کی آنکھ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دست مبارک کی برکت سے اچھی ہو گئی۔ چنانچہ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پوتے حضرت عاصم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب خلیفہ عادل حضرت عمر بن عبدالعزیز اموی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دربار خلافت میں پہنچے تو انہوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے اپنا یہ قطعہ پڑھا کہ ؎

فَرُدَّتْْ بِكَفِّ الْمُصْطَفٰي اَحْسَنَ الرَدّٖ اَنَا ابْنُ الَّذِيْ سَالَتْ عَلَي الْخَدِّ عَيْنُهٗ
فَيَا حُسْنَ مَا عَيْنٍ وَّ يَا حُسْنَ مَا رَدّٖ فَعَادَتْ کَمَا کَانَتْ لِاَوَّلِ اَمْرِهَا

یعنی میں اس شخص کا بیٹا ہوں کہ جس کی آنکھ اس کے رخسار پر بہ آئی تھی تو حضرت مصطفی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے وہ اپنی جگہ پر کیا ہی اچھی طرح سے رکھ دی گئی تو پھر وہ جیسی پہلے تھی ویسی ہی ہو گئی تو کیا ہی اچھی وہ آنکھ تھی اور کیا ہی اچھا حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا اس آنکھ کو اس کی جگہ رکھنا تھا۔

(الکلام المبين ص۸۹)

-: قے میں کالا پِلّا گرا

-: قے میں کالا پِلّا گرا

ایک عورت اپنے بیٹے کو لے کر حضور رسالت مآب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ) میرے اس بچے پر صبح و شام جنون کا دورہ پڑتا ہے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس بچے کے سینے پر اپنا دستِ رحمت پھیر دیا اور دعا دی تو اس بچے کو ایک زوردار قے ہوئی اور ایک کالے رنگ کا (کتے کا) پِلاّ قے میں گرا جو دوڑتا پھر رہا تھا اور بچہ شفایاب ہو گیا۔

(مشکوٰۃ جلد۲ ص۵۴۱ معجزات)

-: جنون اچھا ہو گیا

-: جنون اچھا ہو گیا

حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک سفر میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے تین معجزات دیکھے۔ پہلا معجزہ یہ کہ ایک اونٹ کو دیکھا کہ اس نے بلبلا کر اپنی گردن آپ کے سامنے ڈال دی۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس اونٹ کے مالک کو بلایا اور اس سے فرمایا کہ اس اونٹ نے کام کی زیادتی اور خوراک کی کمی کا مجھ سے شکوہ کیا ہے لہٰذا تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہو۔

دوسرا معجزہ یہ کہ ایک منزل میں آپ سو رہے تھے تو میں نے دیکھا کہ ایک درخت چل کر آیا اور آپ کو ڈھانپ لیا پھر لوٹ کر اپنی جگہ پر چلا گیا۔ جب آپ بیدار ہوئے اور میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس درخت نے اپنے رب سے اجازت طلب کی تھی کہ وہ مجھے سلام کرے تو خدا نے اس کو اجازت دے دی اور وہ میرے سلام کے لئے آیا تھا۔

تیسرا معجزہ یہ کہ ایک عورت اپنے بچے کو لے کر آئی جو جنون کا مریض تھا تو نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس بچے کے نتھنے کو پکڑ کر فرمایاکہ”نکل جا کیونکہ میں محمد رسول اﷲ ہوں” پھر ہم وہاں سے چل پڑے اور جب واپسی میں ہم اس جگہ پہنچے اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس عورت سے اس کے بچے کے بارے میں دریافت فرمایا تو اس نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ آپ کے تشریف لے جانے کے بعد سے اس بچے کو کو ئی تکلیف ہوتے ہوئے ہم نے نہیں دیکھا۔

(مشکوٰة جلد ۲ص۵۴۰معجزات)

-: جلا ہوا بچہ اچھا ہو گیا

-: جلا ہوا بچہ اچھا ہو گیا

محمد بن حاطب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ایک صحابی ہیں یہ بچپن میں اپنی ماں کی گود سے آگ میں گر پڑے اور کچھ جل گئے، ان کی ماں ان کو لے کر خدمت اقدس میں آئیں تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن ان پر مل کر دعا فرمادی ۔ محمد بن حاطب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ماں کہتی تھیں کہ میں بچے کو لے کر وہاں سے اٹھنے بھی نہیں پائی تھی کہ بچے کا زخم بالکل ہی اچھا ہو گیا۔

(مسند ابن حنبل جلد ۴ص ۲۵۹وخصائص کبریٰ جلد ۲ص ۶۹)

-: مرض نسیان دور ہو گیا

-: مرض نسیان دور ہو گیا

تغیر الفاظ اور چند جملوں کی کمی بیشی کے ساتھ بخاری شریف کی متعد د روایتوں میں اس معجزہ کا ذکر ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے حافظہ کی کمزوری کی شکایت کی تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنی چادر پھیلاؤ۔ انہوں نے پھیلا یا، آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلمنے اپنا دست مبارک اس چادر پر ڈالا پھر فرمایا کہ اب اس کو سمیٹ لو ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا اس کے بعد سے پھر میں کوئی بات نہیں بھولا ۔

(بخاری شريف جلد ۱ ص ۲۲باب حفظ العلم)

-: مقبولیتِ دُعاء

-: مقبولیتِ دُعاء

یہ ہم پہلے تحریر کر چکے ہیں کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کی دعاؤں سے بالکل ناگہاں عادت جاریہ کے خلاف کسی غیر متوقع بات کا ظاہر ہو جانا اس کا بھی معجزات ہی میں شمارہے۔اسی لیے اﷲ تعالیٰ حضرات انبیاء علیہم السلام کی دعائوں سے بڑی بڑی مشکلات کو حل فرما دیتا ہے اور قسم قسم کی بلائیں ٹل جاتی ہیں اوربہت سی غیرمتوقع چیزیں ظہور میں آجاتی ہیں۔ چنانچہ حضورخاتم النبیین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے معجزات میں سے آپ کی دعائوں کی مقبولیت بھی ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب بھی مشکلات یا طلب حاجات کے وقت خدا کی امداد غیبی کا سہارا ڈھونڈھتے ہوئے دعائیں مانگیں تو ہر موقع پر حق تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کے لیے مقبولیت کا دروازہ کھول دیا اور آپ کی دعائوں سے ایسی ایسی خلاف امید اور غیر متوقع چیزیں عالم وجود میں آگئیں کہ جن کو معجزات کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا، ان میں سے چند معجزات کا تذکرہ حسب ذیل ہے۔ :.

-: قریش پر قحط کا عذاب

-: قریش پر قحط کا عذاب

جب کفار قریش حضوراقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر بے پناہ مظالم ڈھانے لگے جو ضبط و برداشت سے باہر تھے تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان شریروں کی سر کشی کا علاج کرنے کے لیے ان لوگوں کے حق میں قحط کی دعاء فرمادی۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے ان لوگوں پر قحط کا ایسا عذاب شدید بھیجا کہ اہل مکہ سخت مصیبت میں مبتلا ہوگئے یہاں تک کہ بھوک سے بے تاب ہو کر مر دار جانوروں کی ہڈیاں اور سوکھے چمڑے اُبال اُبال کر کھانے لگے ۔بالآخر اس کے سوا کوئی چارہ نظر نہ آیا کہ رحمۃٌ للعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ ِرحمت کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور ان کے حضور میں اپنی فریاد پیش کریں۔ چنانچہ ابو سفیان بحالت کفر چند رئوسائے قریش کو ساتھ لے کر آپ کے آستانہ رحمت پر حاضر ہوئے اور گڑ گڑ ا کر کہنے لگے کہ اے محمد! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ) تمہاری قوم برباد ہو گئی ، خدا سے دعا کرو کہ یہ قحط کا عذاب ٹل جائے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان لوگوں کی بے قراری اور گریہ وزاری پر رحم آگیا ۔ چنانچہ آپ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے فوراً ہی آپ کی دعا مقبول ہوئی اور اس قدر زور دار بارش ہوئی کہ سارا عرب سیراب ہو گیا اور اہل مکہ کو قحط کے عذاب سے نجات ملی۔

(بخاری جلد ۱ص ۱۳۷ابو اب الا ستسقاء وبخاری جلد۲ ص ۷۱۴تفسير سوره دخان)

-: سردارانِ قریش کی ہلاکت

-: سردارانِ قریش کی ہلاکت

ایک مرتبہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم صحن حرم میں نماز پڑھ رہے تھے کہ کفار قریش کے چند سر کش شریروں نے بحالت نماز آپ کی مقدس گردن پر ایک اونٹ کی اوجھڑی لا کر ڈال دی اور خوب زور زور سے ہنسنے لگے اور مارے ہنسی کے ایک دوسرے پر گرنے لگے۔ حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے آکر اس اوجھڑی کو آپ کی پشت اطہر سے اٹھایا ۔ جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلمنے سجدہ سے سر اٹھایا تو ان شریروں کا نام لے لے کر نام بنام یہ دعا مانگی کہ یا اﷲ ! تو ان سبھوں کو اپنی گرفت میں پکڑ لے ۔ چنانچہ یہ سب کے سب جنگِ بدر میں انتہائی ذلت کے ساتھ قتل ہوکر ہلاک ہو گئے۔

(بخاری جلد ۲ص۵۶۵غزوه بدر)

-: مدینہ کی آب و ہوا اچھی ہو گئی

-: مدینہ کی آب و ہوا اچھی ہو گئی

پہلے مدینہ کی آب و ہوا اچھی نہ تھی، وہاں قسم قسم کی وباؤں کا اثر تھا۔ چنانچہ ہجرت کے بعد اکثر مہاجرین بیمار پڑ گئے اور بیماری کی حالت میں اپنے وطن مکہ کو یاد کرکے پر درد لہجے میں اشعار پڑھا کرتے تھے، آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا یہ حال دیکھ کر یہ دعا فرمائی کہ”الٰہی ! مدینہ کو بھی ہمارے لئے ویسا ہی محبوب کر دے جیسا کہ مکہ محبوب ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔ الٰہی! ہمارے ” صاع ” اور ” مد ” میں برکت دے اور مدینہ کو ہمارے لئے صحت بخش بنا دے اور یہاں کے بخار کو ” جحفہ ” میں منتقل کردے۔ ” آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعا حرف بحرف مقبول ہوئی اور مہاجرین کو شہر مدینہ سے ایسی الفت اور والہانہ محبت ہو گئی کہ وہی حضرت ابوبکر و حضرت بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہما جو چند روز پہلے مدینہ کی بیماریوں سے گھبرا اٹھے تھے اور اپنے وطن مکہ کی یاد میں خون رلانے والے اشعار گایا کرتے تھے، اب مدینہ کے ایسے عاشق بن گئے کہ پھر کبھی بھول کر بھی مکہ کی سکونت کا نام نہیں لیا اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے خواب میں یہ دکھلا دیا کہ مدینہ کی وبائیں مدینہ سے دفع ہو گئیں اور مدینہ کی آب و ہوا صحت بخش ہو گئی۔

(بخاری جلد۱ ص ۵۵۸ باب مقدم النبی و بخاری جلد۲ ص ۱۰۴۲ باب المرأة السوداء)

-: اُمِ حرام کے لئے دعاء شہادت

-: اُمِ حرام کے لئے دعاء شہادت

ایک روز حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت بی بی اُمِ حرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے مکان میں کھانے کے بعد قیلولہ فرما رہے تھے کہ ناگہاں ہنستے ہوئے نیند سے بیدار ہوئے، حضرت بی بی اُمِ حرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے ہنسی کی وجہ دریافت کی تو ارشاد فرمایا کہ میری امت میں مجاہدین کا ایک گروہ میرے سامنے پیش کیا گیا جو جہاد کی غرض سے دریا میں کشتیوں پر اس طرح بیٹھا ہوا سفر کرے گا جس طرح تخت پر بادشاہ بیٹھے رہا کرتے ہیں۔ یہ سن کر انہوں نے درخواست کی کہ یا رسول اﷲ!( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) دعا فرما دیجئے کہ میں بھی ان مجاہدین کے گروہ میں شامل رہوں۔ آپ نے دعا فرما دی۔ چنانچہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں جب بحری جنگ کا سلسلہ شروع ہوا تو حضرت بی بی اُمِ حرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بھی مجاہدین کی اس جماعت کے ساتھ کشتی پر سوار ہو کر روانہ ہوئیں اور دریا سے نکل کر جب خشکی پر آئیں تو سواری سے گر کر شہادت کا شرف حاصل کیا۔

(بخاری جلد۲ ص ۱۰۳۶ باب الرويا بالنهار)

-: ستر برس کا جوان

-: ستر برس کا جوان

حضرت ابو قتادہ صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے حق میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ دعا فرما دی کہ اَفْلَحَ وَجْهُکَ اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَهٗ فِيْ شَعْرِهٖ وَ بَشَرِهٖ یعنی فلاح والا ہوجائے تیرا چہرہ ،یااﷲ! اس کے بال اور اس کی کھال میں برکت دے۔

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ستر برس کی عمر پا کر وفات پائی مگر ان کا ایک بال بھی سفید نہیں ہوا تھا نہ بدن میں جھریاں پڑی تھیں، چہرے پر جوانی کی ایسی رونق تھی کہ گویا ابھی پندرہ برس کے جوان ہیں۔

(الکلام المبين ص۶۸ بحواله دلائل النبوة بيهقی)

-: برکت اولاد کی دعا

-: برکت اولاد کی دعا

حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بیوی حضرت اُمِ سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بڑی ہوشمند اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی نہایت ہی جاںنثار تھیں ان کا بچہ بیمار ہو گیا اور حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ گھر سے باہر ہی تھے کہ بچے کا انتقال ہو گیا۔ حضرت اُمِ سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے بچے کو الگ مکان میں لٹا دیا اور جب حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مکان میں داخل ہوئے اور بیوی سے پوچھا کہ بچہ کیسا ہے؟ بیوی نے جواب دیا کہ اس کا سانس ٹھہر گیا ہے اور مجھے اُمید ہے کہ وہ آرام پا گیا ہے۔ حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ سمجھا کہ وہ اچھا ہے۔ چنانچہ دونوں میاں بیوی ایک ہی بستر پر سوئے لیکن صبح کو جب ابو طلحہ غسل کرکے مسجد نبوی میں نمازِ فجر کے لئے جانے لگے تو بیوی نے بچے کی موت کا حال سنا دیا۔ حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے رات کا سارا ماجرا بارگاہِ نبوت میں عرض کیا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ خداوند تعالیٰ تمہاری آج کی رات میں برکت عطا فرمائے گا۔ چنانچہ اس رات کی برکت مقررہ مہینوں کے بعد ظاہر ہوئی کہ حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے فرزند حضرت عبداﷲ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے اور حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو اپنی گود میں بٹھا کر اور عجوہ کھجور کو چباکر ان کے منہ میں ڈالا اور ان کے چہرے پر اپنا دست رحمت پھرا دیا اور عبداﷲ نام رکھا۔

ایک انصاری حضرت عبایہ بن رفاعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا با ن ہے کہ دعاءِ نبوی کی برکت کا یہ اثر ہوا کہ مں نے ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نو اولادوں کو دیکھا جو سب کے سب قرآن مجدی کے قاری تھے۔

(مسلم جلد۲ ص۲۹۲ باب فضائل اُمِ سلم و بخاری جلد۱ ص۱۷۴ باب من لم يظهر حزنه عند المصيبة)

-: حضرت جریر کے حق میں دعا

-: حضرت جریر کے حق میں دعا

حضرت جریر بن عبداﷲ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھوڑے کی پیٹھ پر جم کر بیٹھ نہںا سکتے تھے حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علہ وسلم نے ان کو” ذوالخلصہ ” کے بت خانہ کو توڑنے کے لئے بھجنا چاہا تو انہوں نے ییو عذر پش کاٹ کہ یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علہا وسلم) مں گھوڑے پر جم کر بیٹھ نہںر سکتا۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور یہ دعا فرمائی کہ “یااﷲ! اس کو گھوڑے پر جم کر بٹھنے کی قوت عطا فرما اور اس کو ہادی و مہدی بنا ” اس دعا کے بعد حضرت جریر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ گھوڑے پر سوار ہوئے اور قبلہر احمس کے ایک سو پچاس سواروں کا لشکر لے کر گئے اوراس بت خانہ کو توڑ پھوڑ کر جلا ڈالا اور مزاحمت کرنے والے کفار کو بھی قتل کر ڈالا جب واپس آئے تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علہڑ وسلم نے ان کے لئے اور قبلہے احمس کے حق مںت دعا فرمائی۔

(مسلم جلد۲ ص۲۹۷ فضائل جرير)

-: قبلہ دوس کا اسلام

-: قبلہ دوس کا اسلام

حضرت طفلی دوسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اپنے چند ساتھو ں کے ساتھ بارگاہ اقدس مں حاضر ہوئے اور عرض کا کہ یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علہ وسلم) قبلۂہ دوس نے اسلام کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا، لہٰذا آپ اس قبلہ کی ہلاکت کے لئے دعا فرما دیجئے۔ لوگوں نے آپس مںد یہ کہنا شروع کر دیا کہ اب آپ کی دعاءِ ہلاکت سے یہ قبلہ ہلاک ہو جائے گا۔ لکنم رحمتِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علہم وسلم نے قبلۂ دوس کے لئے یہ رحمت بھری دعا فرمائی کہ”الٰیی! تو قبلۂ دوس کو ہدایت دے اور ان کو مرنے پاس لا۔”

رحمۃ للعالمنم صلی اﷲ تعالیٰ علہل وسلم کی یہ دعا قبول ہوئی۔ چنانچہ پورا قبلہ مسلمان ہو کر بارگاہ نبوت مںو حاضر ہو گا ۔

(مسلم جلد۲ ص۳۰۷ باب فضائل غفار و دوس وغر ه)

-: ایک متکبر کا انجام

-: ایک متکبر کا انجام

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص بائیں ہاتھ سے کھانے لگا، آپ صلی اﷲ تعالیٰ علہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “دائیں ہاتھ سے کھاؤ” اس نے غرور سے کہا کہ “میں دائیں ہاتھ سے نہیں کھا سکتا۔” چونکہ اس مغرور نے گھمنڈ سے ایسا کہا تھا اس لئے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “خدا کرے ایسا ہی ہو” چنانچہ اس کے بعد ایسا ہی ہوا کہ وہ اپنے دائیں ہاتھ کو اٹھا کر واقعی اپنے منہ تک نہیں لے جا سکتا تھا۔

(مسلم جلد۲ ص۱۷۲ باب آداب الطعام)

-: مردے زندہ ہو گئے

-: مردے زندہ ہو گئے

خدا عزوجل کے حکم سے مردوں کو زندہ کر دینا یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک بہت ہی مشہور معجزہ ہے مگر چونکہ اﷲ تعالیٰ نے حضور رحمۃ للعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو تمام انبیاء علہمہ السلام کے معجزات کا جامع بنایا ہے اس لئے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو بھی اس معجزہ کے ساتھ سرفراز فرمایا ہے۔ چنانچہ اس قسم کے چند معجزات احادیث اور سرمت نبویہ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔

-: لڑکی قبر سے نکل آئی

-: لڑکی قبر سے نکل آئی

روایت ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے کہا کہ میں اس وقت تک آپ پر ایمان نہیں لا سکتا جب تک کہ میری مردہ بچی زندہ نہ ہو جائے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلمنے فرمایا کہ تم مجھے اس کی قبر دکھاؤ۔ اس نے اپنی لڑکی کی قبر دکھا دی حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس لڑکی کا نام لے کر پکارا تو اس لڑکی نے قبر سے نکل کر جواب دیا کہ اے حضور! میں آپ کے دربار میں حاضر ہوں۔ پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلمنے اس لڑکی سے فرمایا کہ “کیا تم پھر دنیا میں لوٹ کر آنا پسند کرتی ہو؟ ” لڑکی نے جواب دیا کہ ” نہیں یا رسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میں نے اﷲ تعالیٰ کو اپنے ماں باپ سے زیادہ مہربان اور آخرت کو دنیا سے بہتر پایا۔”

(زرقانی علی المواهب جلد۵ ص۸۲ ۱ و شفاء جلد۱ص۲۱۱)

-: پکی ہوئی بکری زندہ ہو گئی

-: پکی ہوئی بکری زندہ ہو گئی

حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک بکری ذبح کرکے اس کا گوشت پکایا اور روٹیوں کا چورہ کرکے ثرید بنایا اور اس کو بارگاہ نبوت میں لے کر حاضر ہوئے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اس کو تناول فرمایا جب سب لوگ کھانے سے فارغ ہوگئے تو حضور رحمتِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تمام ہڈیوں کو ایک برتن میں جمع فرمایا اور ان ہڈیوں پر اپنا دستِ مبارک رکھ کر کچھ کلمات ارشاد فرما دیئے تو یہ معجزہ ظاہر ہوا کہ وہ بکری زندہ ہو کر کھڑی ہو گئی اور دم ہلانے لگی پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے جابر! تم اپنی بکری اپنے گھر لے جاؤ۔ چنانچہ حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب اس بکری کو لے کرمکان میں داخل ہوئے تو ان کی بیوی نے حیران ہو کر پوچھا کہ یہ بکری کہاں سے آگئی؟ حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ہم نے اپنی اس بکری کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے ذبح کیا تھا، انہوں نے اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگی تو اﷲ تعالیٰ نے اس بکری کو زندہ فرما دیا۔ یہ سن کر ان کی بیوی نے بلند آواز سے کلمۂ شہادت پڑھا۔اس حدیث کو جلیل القدر محدث ابو نعیم نے روایت کیا ہے اور مشہور حافظ الحدیث محمد بن المنذر نے بھی “کتاب العجائب و الغرائب” میں اس حدیث کو نقل فرمایا ہے۔

(زرقانی علی المواهب جلد۵ ص۱۸۴ و خصائص کبریٰ جلد۳ ص۶۷)