اخلاق نبوت


آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کے بارے میں خلق خدا سے کیا پوچھنا ؟ جب کہ خود خالق اخلاق نے یہ فرما دیا کہ

اِنَّكَ لَعَلٰي خُلُقٍ عَظِيْمٍ

یعنی اے حبیب ! بلاشبہ آپ اخلاق کے بڑے درجہ پر ہیں۔

آج تقریباً چودہ سو برس گزر جانے کے بعد دشمنان رسول کی کیا مجال کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو بد اخلاق کہہ سکیں اس وقت جب کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کے مجمعوں میں اپنے عملی کردار کا مظاہرہ فرما رہے تھے۔ خداوند قدوس نے قرآن میں اعلان فرمایا کہ

فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنۡتَ لَہُمْ ۚ
وَلَوْ کُنۡتَ فَظًّا غَلِیۡظَ الْقَلْبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنْ حَوْلِکَ ۪(آلِ عمران)

(اے حبیب) خدا کی رحمت سے آپ لوگوں سے نرمی کے ساتھ پیش آتے ہیں اگر آپ کہیں بداخلاق اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے ہٹ جاتے۔

دشمنانِ رسول نے قرآن کی زَبان سے یہ خدائی اعلان سنا مگر کسی کی مجال نہیں ہوئی کہ اس کے خلاف کوئی بیان دیتا یا اس آفتاب سے زیادہ روشن حقیقت کو جھٹلاتا بلکہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بڑے سے بڑے دشمن نے بھی اس کا اعتراف کیا کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بہت ہی بلند اخلاق، نرم خو اوررحیم و کریم ہیں۔

بہر حال حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم محاسن اخلاق کے تمام گوشوں کے جامع تھے۔ یعنی حلم و عفو، رحم و کرم، عدل و انصاف، جود و سخا، ایثار و قربانی، مہمان نوازی، عدم تشدد، شجاعت، ایفاء عہد، حسن معاملہ، صبر و قناعت، نرم گفتاری، خوش روئی، ملنساری، مساوات، غمخواری، سادگی و بے تکلفی، تواضع و انکساری، حیاداری کی اتنی بلند منزلوں پر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فائز و سرفراز ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے ایک جملے میں اس کی صحیح تصویر کھینچتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ یعنی تعلیمات قرآن پر پورا پورا عمل یہی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلاق تھے۔

اخلاق نبوت کا ایک مفصل وعظ ہم نے اپنی کتاب ” حقانی تقریریں ” میں تحریر کر دیا ہے یہاں بھی ہم اخلاق نبوت کے ” شجرۃ الخلد ” کی چند شاخوں کے کچھ پھول پھل پیش کر دیتے ہیں تا کہ ہم اور آپ ان پر عمل کرکے اپنی اسلامی زندگی کو کامل و اکمل بنا کر عالم اسلام میں مکمل مسلمان بن جائیں اور دارالعمل سے دارالجزاء تک خداوند عزوجل کے شامیانہ رحمت میں اس کے اعلیٰ و افضل انعاموں کے میٹھے میٹھے پھل کھاتے رہیں۔ واللّٰه تعالٰي هو الموفق و المعين۔

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عقل:۔

چونکہ تمام علمی و عملی اور اخلاقی کمالات کا دارومدار عقل ہی پر ہے اس لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عقل کے بارے میں بھی کچھ تحریر کر دینا انتہائی ضروری ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں ہم یہاں صرف ایک حوالہ تحریر کرتے ہیں :

وہب بن منبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اکہتر (۷۱) کتابوں میں یہ پڑھا ہے کہ جب سے دنیا عالم وجود میں آئی ہے اس وقت سے قیامت تک کے تمام انسانوں کی عقلوں کا اگر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عقل شریف سے موازنہ کیا جائے تو تمام انسانوں کی عقلوں کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عقل شریف سے وہی نسبت ہو گی جو ایک ریت کے ذرے کو تمام دنیا کے ریگستانوں سے نسبت ہے۔ یعنی تمام انسانوں کی عقلیں ایک ریت کے ذرے کے برابر ہیں اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عقل شریف تمام دنیا کے ریگستانوں کے برابر ہے۔اس حدیث کو ابو نعیم محدث نے حلیہ میں روایت کیا اور محدث ابن عساکر نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔(زرقانی ج۴ ص۲۵۰ و شفاء شریف ج۱ ص۴۲)