ہجرت کا ساتواں سال

-: غزوۂ ذات القرد

-: غزوۂ ذات القرد

مدینہ کے قریب “ذاتُ القرد” ایک چرا گاہ کا نام ہے جہاں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اونٹنیاں چرتی تھیں۔ عبدالرحمن بن عیینہ فزاری نے جو قبیلہ غطفان سے تعلق رکھتا تھا اپنے چند آدمیوں کے ساتھ ناگہاں اس چراگاہ پر چھاپہ مارا اور یہ لوگ بیس اونٹنیوں کو پکڑ کر لے بھاگے۔ مشہور تیر انداز صحابی حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سب سے پہلے اس کی خبر معلوم ہوئی۔ انہوں نے اس خطرہ کا اعلان کرنے کے لئے بلند آواز سے یہ نعرہ مارا کہ ” یا صباحاہ ” پھر اکیلے ہی ان ڈاکوؤں کے تعاقب میں دوڑ پڑے اور ان ڈاکوؤں کو تیر مار مار کر تمام اونٹنیوں کو بھی چھین لیا اور ڈاکو بھاگتے ہوئے جو تیس چادریں پھینکتے گئے تھے ان چادروں پر بھی قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لشکر لے کر پہنچے۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں نے ان چھاپہ ماروں کو ابھی تک پانی نہیں پینے دیا ہے۔ یہ سب پیاسے ہیں۔ ان لوگوں کے تعاقب میں لشکر بھیج دیجئے تو یہ سب گرفتار ہوجائیں گے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی اونٹنیوں کے مالک ہوچکے ہو۔ اب ان لوگوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرو۔ پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے اونٹ پر اپنے پیچھے بٹھا لیا اور مدینہ واپس تشریف لائے۔

حضرت امام بخاری کا بیان ہے کہ یہ غزوہ جنگ خیبر کے لئے روانہ ہونے سے تین دن قبل ہوا۔

(بخاری غزوه ذات القرد ج۲ ص۶۰۳ و مسلم ج۲ ص۱۱۳ )

-: جنگ خیبر

-: جنگ خیبر

“خیبر ” مدینہ سے آٹھ منزل کی دوری پر ایک شہر ہے۔ ایک انگریز سیاح نے لکھا ہے کہ خیبر مدینہ سے تین سو بیس کیلو میٹر دور ہے۔ یہ بڑا زرخیز علاقہ تھا اور یہاں عمدہ کھجوریں بکثرت پیدا ہوتی تھیں۔ عرب میں یہودیوں کا سب سے بڑا مرکز یہی خیبر تھا۔ یہاں کے یہودی عرب میں سب سے زیادہ مالدار اور جنگجو تھے اور ان کو اپنی مالی اور جنگی طاقتوں پر بڑا ناز اور گھمنڈ بھی تھا۔ یہ لوگ اسلام اور بانی ٔ اسلام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدترین دشمن تھے۔ یہاں یہودیوں نے بہت سے مضبوط قلعے بنا رکھے تھے جن میں سے بعض کے آثار اب تک موجود ہیں۔ ان میں سے آٹھ قلعے بہت مشہور ہیں۔ جن کے نام یہ ہیں :

(۱)کتیبہ (۲) ناعم (۳) شق (۴) قموص

(۵)نطارہ (۶) صعب (۷) سطیخ (۸) سلالم۔

در حقیقت یہ آٹھوں قلعے آٹھ محلوں کے مثل تھے اور انہی آٹھوں قلعوں کا مجموعہ”خیبر”کہلاتا تھا۔

(مدارج النبوۃ ج۲ص۲۳۴ )

-: غزوۂ خیبر کب ہوا ؟

-: غزوۂ خیبر کب ہوا ؟

تمام مؤرخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جنگ خیبر محرم کے مہینے میں ہوئی۔ لیکن اس میں اختلاف ہے کہ ۶ ھ تھا یا ۷ ھ۔ غالباً اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ سن ہجری کی ابتدا محرم سے کرتے ہیں۔ اس لئے ان کے نزدیک محرم میں ۷ ھ شروع ہو گیا اور بعض لوگ سن ہجری کی ابتدا ربیع الاول سے کرتے ہیں۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہجرت ربیع الاول میں ہوئی۔ لہٰذا ان لوگوں کے نزدیک یہ محرم و صفر ۶ ھ کے تھے۔ واللہ اعلم۔

-: جنگ خیبر کا سبب

-: جنگ خیبر کا سبب

یہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ جنگ ِ خندق میں جن جن کفار عرب نے مدینہ پر حملہ کیا تھا ان میں خیبر کے یہودی بھی تھے۔ بلکہ در حقیقت وہی اس حملہ کے بانی اور سب سے بڑے محرک تھے۔ چنانچہ ” بنو نضیر ” کے یہودی جب مدینہ سے جلا وطن کئے گئے تو یہودیوں کے جو رؤسا خیبر چلے گئے تھے ان میں سے حیی بن اخطب اور ابو رافع سلام بن ابی الحقیق نے تو مکہ جا کر کفار قریش کو مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے ابھارا اور تمام قبائل کا دورہ کر کے کفار عرب کو جوش دلا کر برانگیختہ کیا اور حملہ آوروں کی مالی امداد کے لئے پانی کی طرح روپیہ بہایا۔ اور خیبر کے تمام یہودیوں کو ساتھ لے کر یہودیوں کے یہ دونوں سردار حملہ کرنے والوں میں شامل رہے۔ حیی بن اخطب تو جنگ قریظہ میں قتل ہوگیا اور ابو رافع سلام بن ابی الحقیق کو ۶ ھ میں حضرت عبداللہ بن عتیک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے محل میں داخل ہو کر قتل کر دیا۔ لیکن ان سب واقعات کے بعد بھی خیبر کے یہودی بیٹھ نہیں رہے بلکہ اور زیادہ انتقام کی آگ ان کے سینوں میں بھڑکنے لگی۔ چنانچہ یہ لوگ مدینہ پر پھر ایک دوسرا حملہ کرنے کی تیاریاں کرنے لگے اور اس مقصد کے لئے قبیلہ غطفان کو بھی آمادہ کرلیا۔ قبیلہ غطفان عرب کا ایک بہت ہی طاقتور اور جنگجو قبیلہ تھا اور اس کی آبادی خیبر سے بالکل ہی متصل تھی اور خیبر کے یہودی خود بھی عرب کے سب سے بڑے سرمایہ دار ہونے کے ساتھ بہت ہی جنگ باز اور تلوار کے دھنی تھے۔ ان دونوں کے گٹھ جوڑ سے ایک بڑی طاقتور فوج تیار ہوگئی اور ان لوگوں نے مدینہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کو تہس نہس کر دینے کا پلان بنا لیا۔

-: مسلمان خیبر چلے

-: مسلمان خیبر چلے

جب رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ خیبر کے یہودی قبیلۂ غطفان کو ساتھ لے کر مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں تو ان کی اس چڑھائی کو روکنے کے لئے سولہ سو صحابہ کرام کا لشکر ساتھ لے کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خیبر روانہ ہوئے۔ مدینہ پر حضرت سباع بن عرفطہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو افسر مقرر فرمایا اور تین جھنڈے تیار کرائے۔ ایک جھنڈا حضرت حباب بن منذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیا اور ایک جھنڈے کا علمبردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنایا اور خاص علم نبوی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دست مبارک میں عنایت فرمایا اور ازواجِ مطہرات میں سے حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عہام کو ساتھ لیا۔

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم رات کے وقت حدود خیبر میں اپنی فوج ظفر موج کے ساتھ پہنچ گئے اور نماز فجر کے بعد شہر میں داخل ہوئے تو خیبر کے یہودی اپنے اپنے ہنسیا اور ٹوکری لے کر کھیتوں اور باغوں میں کام کاج کے لئے قلعہ سے نکلے۔ جب انہوں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا تو شور مچانے لگے اور چلا چلا کر کہنے لگے کہ ” خدا کی قسم ! لشکر کے ساتھ محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ہیں۔ ” اس وقت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیبر برباد ہوگیا۔ بلاشبہ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر پڑتے ہیں تو کفار کی صبح بری ہوجاتی ہے۔

(بخاری ج۲ص۶۰۳ )

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خیبر کی طرف متوجہ ہوئے تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بہت ہی بلند آوازوں سے نعرۂ تکبیر لگانے لگے۔ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے اوپر نرمی برتو۔ تم لوگ کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو بلکہ اس (اللہ) کو پکار رہے ہو جو سننے والا اور قریب ہے۔ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ کا وظیفہ پڑھ رہا تھا۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سنا تو مجھ کو پکارا اور فرمایا کہ کیا میں تم کو ایک ایسا کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ میں نے عرض کیا کہ ” کیوں نہیں یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ پر میرے ماں باپ قربان ! ” تو فرمایا کہ وہ کلمہ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ ہے۔

(بخاری ج۲ ص۶۰۵ )

-: یہودیوں کی تیاری

-: یہودیوں کی تیاری

یہودیوں نے اپنی عورتوں اور بچوں کو ایک محفوظ قلعہ میں پہنچا دیا اور راشن کا ذخیرہ قلعہ ” ناعم ” میں جمع کر دیا اور فوجوں کو ” نطاۃ ” اور ” قموص ” کے قلعوں میں اکٹھا کیا۔ ان میں سب سے زیادہ مضبوط اور محفوظ قلعہ ” قموص ” تھا اور ” مرحب یہودی ” جو عرب کے پہلوانوں میں ایک ہزار سوار کے برابر مانا جاتا تھا اسی قلعہ کا رئیس تھا۔ سلام بن مشکم یہودی گو بیمار تھا مگر وہ بھی قلعہ ” نطاۃ ” میں فوجیں لے کر ڈٹا ہوا تھا۔ یہودیوں کے پاس تقریباً بیس ہزار فوج تھی جو مختلف قلعوں کی حفاظت کے لئے مورچہ بندی کئے ہوئے تھی۔

-: محمود بن مسلمہ شہید ہوگئے

-: محمود بن مسلمہ شہید ہوگئے

سب سے پہلے قلعہ ” ناعم ” پر معرکہ آرائی اور جم کر لڑائی ہوئی۔ حضرت محمود بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑی بہادری اور جاں نثاری کے ساتھ جنگ کی مگر سخت گرمی اور لو کے تھپیڑوں کی وجہ سے ان پر پیاس کا غلبہ ہوگیا۔ وہ قلعہ ناعم کی دیوار کے نیچے سو گئے۔ کنانہ بن ابی الحقیق یہودی نے ان کو دیکھ لیا اور چھت سے ایک بہت بڑا پتھر ان کے اوپر گرا دیا جس سے ان کا سر کچل گیا اور یہ شہید ہو گئے۔ اس قلعہ کو فتح کرنے میں پچاس مسلمان زخمی ہو گئے، لیکن قلعہ فتح ہو گیا۔

-: اسود راعی کی شہادت

-: اسود راعی کی شہادت

حضرت اسود راعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی قلعہ کی جنگ میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔ ان کا واقعہ یہ ہے کہ یہ ایک حبشی تھے جو خیبر کے کسی یہودی کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔ جب یہودی جنگ کی تیاریاں کرنے لگے تو انہوں نے پوچھا کہ آخر تم لوگ کس سے جنگ کے لئے تیاریاں کررہے ہو ؟ یہودیوں نے کہا کہ آج ہم اس شخص سے جنگ کریں گے جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہ سن کر ان کے دل میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ملاقات کا جذبہ پیدا ہوا۔ چنانچہ یہ بکریاں لئے ہوئے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو گئے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے سامنے اسلام پیش فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ اگر میں مسلمان ہو جاؤں تو مجھے خداوند تعالیٰ کی طرف سے کیا اجر و ثواب ملے گا ؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم کو جنت اور اس کی نعمتیں ملیں گی۔ انہوں نے فوراً ہی کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔ پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یہ بکریاں میرے پاس امانت ہیں۔ اب میں ان کو کیا کروں ؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان بکریوں کو قلعہ کی طرف ہانک دو اور ان کو کنکریوں سے مارو۔ یہ سب خود بخود اپنے مالک کے گھر پہنچ جائیں گی۔ چنانچہ یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ انہوں نے بکریوں کو کنکریاں مار کر ہانک دیا اور وہ سب اپنے مالک کے گھر پہنچ گئیں۔

اس کے بعد یہ خوش نصیب حبشی ہتھیار پہن کر مجاہدین اسلام کی صف میں کھڑا ہو گیا اور انتہائی جوش و خروش کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے شہید ہو گیا۔ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو فرمایا کہ عَمِلَ قَلِيْلاً وَ اُجِرَ كَثِيْرًا۔ یعنی اس شخص نے بہت ہی کم عمل کیا اور بہت زیادہ اجر دیا گیا۔ پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی لاش کو خیمہ میں لانے کا حکم دیا اور ان کی لاش کے سرہانے کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ بشارت سنائی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے کالے چہرہ کو حسین بنا دیا، اس کے بدن کو خوشبودار بنا دیا اور دو حوریں اس کو جنت میں ملیں۔ اس شخص نے ایمان اور جہاد کے سوا کوئی دوسرا عمل خیر نہیں کیا، نہ ایک وقت کی نماز پڑھی، نہ ایک روزہ رکھا، نہ حج و زکوٰۃ کا موقعہ ملا مگر ایمان اور جہاد کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے اس کو اتنا بلند مرتبہ عطا فرمایا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۲۴۰ )

-: اسلامی لشکر کا ہیڈ کوارٹر

-: اسلامی لشکر کا ہیڈ کوارٹر

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پہلے ہی سے یہ علم تھا کہ قبیلہ غطفان والے ضرور ہی خیبر والوں کی مدد کو آئیں گے۔ اس لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خیبر اور غطفان کے درمیان مقام ” رجیع ” میں اپنی فوجوں کا ہیڈ کوارٹر بنایا اور خیموں، باربرداری کے سامانوں اور عورتوں کو بھی یہیں رکھا تھا اور یہیں سے نکل نکل کر یہودیوں کے قلعوں پر حملہ کرتے تھے۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۲۳۹ )

قلعہ ناعم کے بعد دوسرے قلعے بھی بہ آسانی اور بہت جلد فتح ہوگئے لیکن قلعہ ” قموص ” چونکہ بہت ہی مضبوط اور محفوظ قلعہ تھا اور یہاں یہودیوں کی فوجیں بھی بہت زیادہ تھیں اور یہودیوں کا سب سے بڑا بہادر ” مرحب ” خود اس قلعہ کی حفاظت کرتا تھا اس لئے اس قلعہ کو فتح کرنے میں بڑی دشواری ہوئی۔ کئی روز تک یہ مہم سر نہ ہو سکی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس قلعہ پر پہلے دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کمان میں اسلامی فوجوں کو چڑھائی کے لئے بھیجا اور انہوں نے بہت ہی شجاعت اور جاں بازی کے ساتھ حملہ فرمایا مگر یہودیوں نے قلعہ کی فصیل پر سے اس زور کی تیر اندازی اور سنگ باری کی کہ مسلمان قلعہ کے پھاٹک تک نہ پہنچ سکے اور رات ہو گئی۔ دوسرے دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زبردست حملہ کیا اور مسلمان بڑی گرم جوشی کے ساتھ بڑھ بڑھ کر دن بھر قلعہ پر حملہ کرتے رہے مگر قلعہ فتح نہ ہو سکا۔ اور کیونکر فتح ہوتا ؟ فاتح خیبر ہونا تو علی حیدر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقدر میں لکھا تھا۔ چنانچہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ

لَاُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلاً يَفْتَحُ اللّٰهُ عَلٰي يَدَيْهِ يُحِبُّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ يُحِبُّهٗ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ قَالَ فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوْکُوْنَ لَيْلَتَهُمْ اَيُّهُمْ يُعْطَاهَا

(بخاری ج۲ ص۶۰۵ غزوه خيبر )

کل میں اس آدمی کو جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح دے گا وہ اللہ و رسول کا محب بھی ہے اور محبوب بھی۔ راوی نے کہا کہ لوگوں نے یہ رات بڑے اضطراب میں گزاری کہ دیکھئے کل کس کو جھنڈا دیا جاتا ہے ؟

صبح ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ خدمت اقدس میں بڑے اشتیاق کے ساتھ یہ تمنا لے کر حاضر ہوئے کہ یہ اعزاز و شرف ہمیں مل جائے۔ اس لئے کہ جس کو جھنڈا ملے گا اس کے لئے تین بشارتیں ہیں۔

(۱) وہ اللہ و رسول کا محب ہے۔

(۲) وہ اللہ ورسول کا محبوب ہے۔

(۳) خیبر اس کے ہاتھ سے فتح ہوگا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ اس روز مجھے بڑی تمنا تھی کہ کاش ! آج مجھے جھنڈا عنایت ہوتا۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس موقع کے سوا مجھے کبھی بھی فوج کی سرداری اور افسری کی تمنا نہ تھی۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس نعمت عظمیٰ کے لئے ترس رہے تھے۔

(مسلم ج۲ ص۲۷۸ ، ۲۷۹ باب من فضائل علي)

لیکن صبح کو اچانک یہ صدا لوگوں کے کان میں آئی کہ علی کہاں ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ان کی آنکھوں میں آشوب ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قاصد بھیج کر ان کو بلایا اور ان کی دکھتی ہوئی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگا دیا اور دعا فرمائی تو فورا ً ہی انہیں ایسی شفا حاصل ہو گئی کہ گویا انہیں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔ پھر تاجدار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اپنا علم نبوی جو حضرت اُمُ المؤمنین بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سیاہ چادر سے تیار کیا گیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں عطا فرمایا۔

(زرقاني ج۲ ص۲۲۲ )

اور ارشاد فرمایا کہ تم بڑے سکون کے ساتھ جاؤ اور ان یہودیوں کو اسلام کی دعوت دو اور بتاؤ کہ مسلمان ہو جانے کے بعد تم پر فلاں فلاں اللہ کے حقوق واجب ہیں۔ خدا کی قسم ! اگر ایک آدمی نے بھی تمہاری بدولت اسلام قبول کر لیا تو یہ دولت تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ بہتر ہے۔

(بخاری ج۲ ص۶۰۵ غزوه خیبر )

-: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مرحب کی جنگ

-: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مرحب کی جنگ

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ” قلعہ قموص ” کے پاس پہنچ کر یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی، لیکن انہوں نے اس دعوت کا جواب اینٹ اور پتھر اور تیرو تلوار سے دیا۔ اور قلعہ کا رئیس اعظم ” مرحب ” خود بڑے طنطنہ کے ساتھ نکلا۔ سر پر یمنی زرد رنگ کا ڈھاٹا باندھے ہوئے اور اس کے اوپر پتھر کا خود پہنے ہوئے رجز کا یہ شعر پڑھتے ہوئے حملہ کے لئے آگے بڑھا کہ

قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ اَنِّيْ مُرَحَّبٗ

شَاکِيْ السَّلَاحِ بَطَلٌ مُّجَرَّبٗ

خیبر خوب جانتا ہے کہ میں ” مرحب ” ہوں، اسلحہ پوش ہوں، بہت ہی بہادر اور تجربہ کار ہوں۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے جواب میں رجز کا یہ شعر پڑھا

اَنَا الَّذِيْ سَمَّتْنِيْ اُمِّيْ حَيْدَرَهٗ

كَلَيْثِ غَابَاتٍ کَرِيْهِ الْمَنْظَرَهٗ

میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر (شیر) رکھا ہے۔ میں کچھار کے شیر کی طرح ہیبت ناک ہوں۔ مرحب نے بڑے طمطراق کے ساتھ آگے بڑھ کر حضرت شیر خدا پر اپنی تلوار سے وار کیا مگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسا پینترا بدلا کہ مرحب کا وار خالی گیا۔ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑھ کر اس کے سر پر اس زور کی تلوار ماری کہ ایک ہی ضرب سے خود کٹا، مغفرکٹا اور ذوالفقار حیدری سر کو کاٹتی ہوئی دانتوں تک اتر آئی اور تلوار کی مار کا تڑا کہ فوج تک پہنچا اور مرحب زمین پر گر کر ڈھیر ہو گیا۔

(مسلم ج۲ ص۱۱۵ و ص۲۷۸ )

مرحب کی لاش کو زمین پر تڑپتے ہوئے دیکھ کر اس کی تمام فوج حضرت شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ٹوٹ پڑی۔ لیکن ذوالفقار حیدری بجلی کی طرح چمک چمک کر گرتی تھی جس سے صفوں کی صفیں اُلٹ گئیں۔ اور یہودیوں کے مایہ ناز بہادر مرحب، حارث، اسیر، عامر وغیرہ کٹ گئے۔ اسی گھمسان کی جنگ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ڈھال کٹ کر گر پڑی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آگے بڑھ کر قلعہ قموص کا پھاٹک اکھاڑ دیا اور کواڑ کو ڈھال بنا کر اس پر دشمنوں کی تلواریں روکتے رہے۔ یہ کواڑ اتنا بڑا اور وزنی تھا کہ بعد کو چالیس آدمی اس کو نہ اٹھا سکے۔

(زرقاني ج۲ ص۲۳۰ )

بے شک حضرت مولائے کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے محب بھی ہیں اور محبوب بھی ہیں۔ اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سے خیبر کی فتح عطا فرمائی اور قیامت تک کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فاتح خیبر کے معزز لقب سے سر فراز فرما دیا اور یہ وہ فتح عظیم ہے جس نے پورے ” جزیرۃ العرب ” میں یہودیوں کی جنگی طاقت کا جنازہ نکال دیا۔ فتح خیبر سے قبل اسلام یہودیوں اور مشرکین کے گٹھ جوڑ سے نزع کی حالت میں تھا لیکن خیبر فتح ہو جانے کے بعد اسلام اس خوفناک نزع سے نکل گیا اور آگے اسلامی فتوحات کے دروازے کھل گئے۔ چنانچہ اس کے بعد ہی مکہ بھی فتح ہو گیا۔ اس لئے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ فاتح خیبر کی ذات سے تمام اسلامی فتوحات کا سلسلہ وابستہ ہے۔ بہر حال خیبر کا قلعہ قموص بیس دن کے محاصرہ اور زبردست معرکہ آرائی کے بعد فتح ہو گیا۔ ان معرکوں میں ۹۳ یہودی قتل ہوئے اور ۱۵ مسلمان جام شہادت سے سیراب ہوئے۔

(زرقاني ج۲ ص۲۲۸ )

-: خیبر کا انتظام

-: خیبر کا انتظام

فتح کے بعد خیبر کی زمین پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ بنو نضیر کی طرح اہل خیبر کو بھی جلاوطن کردیں۔ لیکن یہودیوں نے یہ درخواست کی کہ ہم کو خیبر سے نہ نکالا جائے اور زمین ہمارے ہی قبضہ میں رہنے دی جائے۔ ہم یہاں کی پیداوار کا آدھا حصہ آپ کو دیتے رہیں گے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی یہ درخواست منظور فرمالی۔ چنانچہ جب کھجوریں پک جاتیں اور غلہ تیار ہو جاتا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خیبر بھیج دیتے وہ کھجوروں اور اناجوں کو دو برابر حصوں میں تقسیم کر دیتے اور یہودیوں سے فرماتے کہ اس میں سے جو حصہ تم کو پسند ہو وہ لے لو۔ یہودی اس عدل پر حیران ہو کر کہتے تھے کہ زمین و آسمان ایسے ہی عدل سے قائم ہیں۔

(فتوح البلدان بلاذری ص۲۷ فتح خيبر )

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ خیبر فتح ہوجانے کے بعد یہودیوں سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس طور پر صلح فرمائی کہ یہودی اپنا سونا چاندی ہتھیار سب مسلمانوں کے سپرد کردیں اور جانوروں پر جو کچھ لدا ہوا ہے وہ یہودی اپنے پاس ہی رکھیں مگر شرط یہ ہے کہ یہودی کوئی چیز مسلمانوں سے نہ چھپائیں مگر اس شرط کو قبول کرلینے کے باوجود حیی بن اخطب کاوہ چرمی تھیلا یہودیوں نے غائب کردیا جس میں بنو نضیر سے جلاوطنی کے وقت وہ سونا چاندی بھر کر لایا تھا۔ جب یہودیوں سے پوچھ گچھ کی گئی تو وہ جھوٹ بولے اور کہا کہ وہ ساری رقم لڑائیوں میں خرچ ہوگئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اپنے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بتا دیا کہ وہ تھیلا کہاں ہے۔ چنانچہ مسلمانوں نے اس تھیلے کو بر آمد کرلیا۔ اس کے بعد (چونکہ کنانہ بن ابی الحقیق نے حضرت محمود بن مسلمہ کو چھت سے پتھر گرا کر قتل کر دیا تھا اس لئے) حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو قصاص میں قتل کرا دیا اور اس کی عورتوں کو قیدی بنا لیا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۲۴۵ و ابو داؤد ج۲ ص۴۲۴ باب ما جاء في ارض خيبر )

-: حضرت صفیہ کا نکاح

-: حضرت صفیہ کا نکاح

قیدیوں میں حضرت بی بی صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی تھیں۔ یہ بنو نضیر کے رئیس اعظم حیی بن اخطب کی بیٹی تھیں اور ان کا شوہر کنانہ بن ابی الحقیق بھی بنو نضیر کا رئیس اعظم تھا۔ جب سب قیدی جمع کئے گئے تو حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان میں سے ایک لونڈی مجھ کو عنایت فرمایئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو اختیار دے دیا کہ خود جاکر کوئی لونڈی لے لو۔ انہوں نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لے لیا۔ بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اس پر گزارش کی کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

اَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَ النَّضِيْرِ لَا تَصْلُحُ اِلَّا لَكَ

(ابوداؤد ج۲ ص۴۲۰ باب ما جاء في سهم الصفي )

یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ نے صفیہ کو دحیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالہ کر دیا۔ وہ قریظہ اور بنو نضیر کی رئیسہ ہے وہ آپ کے سوا کسی اور کے لائق نہیں ہے۔

یہ سن کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت دحیہ کلبی اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بلایا اور حضرت دحیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تم اس کے سوا کوئی دوسری لونڈی لے لو۔ اس کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آزاد کر کے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمالیا اور تین دن تک منزل صہبا میں ان کو اپنے خیمہ میں سر فراز فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو دعوت ولیمہ میں کھجور، گھی، پنیر کا مالیدہ کھلایا۔

(بخاری جلد۱ ص۲۹۸ باب هل يسافر بالجاریه و بخاری جلد۲ ص۷۶۱ باب اتخاذ السراري و مسلم جلد۱ ص۴۵۸ باب فضل اعتاق امته )

-: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو زہر دیا گیا

-: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو زہر دیا گیا

فتح کے بعد چند روز حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خیبر میں ٹھہرے۔ یہودیوں کو مکمل امن و امان عطا فرمایا اور قسم قسم کی نوازشوں سے نوازا مگر اس بدباطن قوم کی فطرت میں اس قدر خباثت بھری ہوئی تھی کہ سلام بن مشکم یہودی کی بیوی ” زینب ” نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعوت کی اور گوشت میں زہر ملا دیا۔ خدا کے حکم سے گوشت کی بوٹی نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو زہر کی خبر دی اور آپ نے ایک ہی لقمہ کھا کر ہاتھ کھینچ لیا۔ لیکن ایک صحابی حضرت بشر بن براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شکم سیر کھا لیا اور زہر کے اثر سے ان کی شہادت ہو گئی اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بھی اس زہریلے لقمہ سے عمر بھر تالو میں تکلیف رہی۔ آپ نے جب یہودیوں سے اس کے بارے میں پوچھا تو ان ظالموں نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا اور کہا کہ ہم نے اس نیت سے آپ کو زہر کھلایا کہ اگر آپ سچے نبی ہوں گے تو آپ پر اس زہر کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ ورنہ ہم کو آپ سے نجات مل جائے گی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لئے تو کبھی کسی سے انتقام لیا ہی نہیں اس لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے زینب سے کچھ بھی نہیں فرمایا مگر جب حضرت بشر بن براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اسی زہر سے وفات ہوگئی تو ان کے قصاص میں زینب قتل کی گئی۔

(بخاری ج۲ ص۲۴۲ و مدارج جلد۲ ص۲۵۱ )

-: حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حبشہ سے آگئے

-: حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حبشہ سے آگئے

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فتح خیبر سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ مہاجرین حبشہ میں سے حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی تھے اور مکہ سے ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تھے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ حبشہ سے آگئے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرط محبت سے ان کی پیشانی چوم لی اور ارشاد فرمایا کہ میں کچھ کہہ نہیں سکتا کہ مجھے خیبر کی فتح سے زیادہ خوشی ہوئی ہے یا جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آنے سے۔

(زرقاني ج۲ ص۲۴۶ )

ان لوگوں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے “صاحب الہجرتین” (دو ہجرتوں والے) کا لقب عطا فرمایا کیونکہ یہ لوگ مکہ سے حبشہ ہجرت کر کے گئے۔ پھر حبشہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے اور باوجودیکہ یہ لوگ جنگ خیبر میں شامل نہ ہو سکے مگر ان لوگوں کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں سے مجاہدین کے برابر حصہ دیا۔

-: خیبر میں اعلان مسائل

-: خیبر میں اعلان مسائل

جنگ خیبر کے موقع پر مندرجہ ذیل فقہی مسائل کی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تبلیغ فرمائی۔

{۱} پنجہ دار پرندوں کو حرام فرمایا۔

{۲} تمام درندہ جانوروں کی حرمت کا اعلان فرما دیا۔

{۳} گدھا اور خچر حرام کر دیا گیا۔

{۴} چاندی سونے کی خرید و فروخت میں کمی بیشی کے ساتھ خریدنے اور بیچنے کو حرام فرمایا اور حکم دیا کہ چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے برابر برابر بیچنا ضروری ہے۔ اگر کمی بیشی ہوگی تو وہ سود ہوگا جو حرام ہے۔

{۵} اب تک یہ حکم تھا کہ لونڈیوں سے ہاتھ آتے ہی صحبت کرنا جائز تھا لیکن اب ” استبراء ” ضروری قرار دے دیا گیا یعنی اگر وہ حاملہ ہوں تو بچہ پیدا ہونے تک ورنہ ایک مہینہ ان سے صحبت جائز نہیں۔ ” عورتوں سے متعہ کرنا بھی اسی غزوہ میں حرام کردیا گیا۔ “

(زرقاني ج۲ ص۲۳۳ تا ص۲۳۸ )

-: وادی القری کی جنگ

-: وادی القری کی جنگ

خیبر کی لڑائی سے فارغ ہو کر حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ” وادی القریٰ ” تشریف لے گئے جو مقام “تیماء” اور “فدک” کے درمیان ایک وادی کا نام ہے۔ یہاں یہودیوں کی چند بستیاں آباد تھیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جنگ کے ارادہ سے یہاں نہیں آئے تھے مگر یہاں کے یہودی چونکہ جنگ کے لئے تیار تھے اس لئے انہوں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر تیر برسانا شروع کر دیا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ایک غلام جن کا نام حضرت مدعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھا یہ اونٹ سے کجاوہ اُتار رہے تھے کہ ان کو ایک تیر لگا اور یہ شہید ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی جس کا جواب ان بدبختوں نے تیر و تلوار سے دیا اور باقاعدہ صف بندی کر کے مسلمانوں سے جنگ کے لئے تیار ہوگئے۔ مجبوراً مسلمانوں نے بھی جنگ شروع کردی، چار دن تک نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان یہودیوں کا محاصرہ کئے ہوئے ان کو اسلام کی دعوت دیتے رہے مگر یہ لوگ برابر لڑتے ہی رہے۔ آخر دس یہودی قتل ہو گئے اور مسلمانوں کو فتح مبین حاصل ہو گئی۔ اس کے بعد اہل خیبر کی شرطوں پر ان لوگوں نے بھی صلح کرلی کہ مقامی پیداوار کا آدھا حصہ مدینہ بھیجتے رہیں گے۔

جب خیبر اور وادی القریٰ کے یہودیوں کا حال معلوم ہو گیا تو ” تیماء ” کے یہودیوں نے بھی جزیہ دے کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے صلح کرلی۔ وادی القریٰ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم چار دن مقیم رہے۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۲۶۲ وزرقاني ج۲ ص۲۴۸ )

-: فدک کی صلح

-: فدک کی صلح

جب ” فدک ” کے یہودیوں کو خیبر اور وادی القریٰ کے معاملہ کی اطلاع ملی تو ان لوگوں نے کوئی جنگ نہیں کی۔ بلکہ دربار نبوت میں قاصد بھیج کر یہ درخواست کی کہ خیبر اور وادی القریٰ والوں سے جن شرطوں پر آپ نے صلح کی ہے اسی طرح کے معاملہ پر ہم سے بھی صلح کرلی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی یہ درخواست منظور فرمالی اور ان سے صلح ہوگئی۔ لیکن یہاں چونکہ کوئی فوج نہیں بھیجی گئی اس لئے اس بستی میں مجاہدین کو کوئی حصہ نہیں ملا بلکہ یہ خاص حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ملکیت قرار پائی اور خیبر و وادی القریٰ کی زمینیں تمام مجاہدین کی ملکیت ٹھہریں۔

(زرقانی ج ۲ ص ۲۴۸ )

-: عمرۃ القضاء

-: عمرۃ القضاء

چونکہ حدیبیہ کے صلح نامہ میں ایک دفعہ یہ بھی تھی کہ آئندہ سال حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ آکر عمرہ ادا کریں گے اور تین دن مکہ میں ٹھہریں گے۔ اس دفعہ کے مطابق ماہ ذوالقعدہ ۷ ھ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عمرہ ادا کرنے کے لئے مکہ روانہ ہونے کا عزم فرمایا اور اعلان کرا دیا کہ جو لوگ گزشتہ سال حدیبیہ میں شریک تھے وہ سب میرے ساتھ چلیں۔ چنانچہ بجز ان لوگوں کے جو جنگ خیبر میں شہید یا وفات پا چکے تھے سب نے یہ سعادت حاصل کی۔

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو چونکہ کفار مکہ پر بھروسا نہیں تھا کہ وہ اپنے عہد کو پورا کریں گے اس لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جنگ کی پوری تیاری کے ساتھ روانہ ہوئے۔ بوقت روانگی حضرت ابو رہم غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مدینہ پر حاکم بنا دیا اور دو ہزار مسلمانوں کے ساتھ جن میں ایک سو گھوڑوں پر سوار تھے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ ساٹھ اونٹ قربانی کے لئے ساتھ تھے۔ جب کفار مکہ کو خبر لگی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہتھیاروں اور سامان جنگ کے ساتھ مکہ آرہے ہیں تو وہ بہت گھبرائے اور انہوں نے چند آدمیوں کو صورت حال کی تحقیقات کے لئے ” مرالظہران ” تک بھیجا۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اسپ سواروں کے افسر تھے قریش کے قاصدوں نے ان سے ملاقات کی۔ انہوں نے اطمینان دلایا کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم صلح نامہ کی شرط کے مطابق بغیر ہتھیار کے مکہ میں داخل ہوں گے یہ سن کر کفار قریش مطمئن ہو گئے۔

چنانچہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب مقام ” یاجج ” میں پہنچے جو مکہ سے آٹھ میل دور ہے تو تمام ہتھیاروں کو اس جگہ رکھ دیا اور حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ماتحتی میں چند صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو ان ہتھیاروں کی حفاظت کے لئے متعین فرما دیا۔ اور اپنے ساتھ ایک تلوار کے سوا کوئی ہتھیار نہیں رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مجمع کے ساتھ ” لبیک ” پڑھتے ہوئے حرم کی طرف بڑھے جب مکہ میں داخل ہونے لگے تو دربار نبوت کے شاعر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اونٹ کی مہار تھامے ہوئے آگے آگے رجز کے یہ اشعار جوش و خروش کے ساتھ بلند آواز سے پڑھتے جاتے تھے کہ

خَلُّوْا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيْلِهٖ

اَلْيَوْمَ نَضْرِبُكُمْ عَلٰي تَنْزِيْلِهٖ

اے کافروں کے بیٹو ! سامنے سے ہٹ جاؤ۔ آج جو تم نے اترنے سے روکا تو ہم تلوار چلائیں گے۔

ضَرْبًا يُّزِيْلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيْلِهٖ

وَ يُذْهِلُ الْخَلِيْلَ عَنْ خَلِيْلِهٖ

ہم تلوار کا ایسا وار کریں گے جو سر کو اس کی خوابگاہ سے الگ کر دے اور دوست کی یاد اس کے دوست کے دل سے بھلا دے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ٹوکا اور کہا کہ اے عبداللہ بن رواحہ ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے آگے آگے اور اللہ تعالیٰ کے حرم میں تم اشعار پڑھتے ہو ؟ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو چھوڑ دو۔ یہ اشعار کفار کے حق میں تیروں سے بڑھ کر ہیں۔

(شمائل ترمذي ص۱۷ و زرقاني ج۲ ص۲۵۵ تا ص۲۵۷ )

جب رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خاص حرم کعبہ میں داخل ہوئے تو کچھ کفار قریش مارے جلن کے اس منظر کی تاب نہ لا سکے اور پہاڑوں پر چلے گئے۔ مگر کچھ کفار اپنے دار الندوہ (کمیٹی گھر) کے پاس کھڑے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر بادۂ توحید و رسالت سے مست ہونے والے مسلمانوں کے طواف کا نظارہ کرنے لگے اور آپس میں کہنے لگے کہ یہ مسلمان بھلا کیا طواف کریں گے ؟ ان کو تو بھوک اور مدینہ کے بخار نے کچل کر رکھ دیا ہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسجد حرام میں پہنچ کر ” اضطباع ” کرلیا۔ یعنی چادر کو اس طرح اوڑھ لیا کہ آپ کا داہنا شانہ اور بازو کھل گیا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا اس پر اپنی رحمت نازل فرمائے جو ان کفار کے سامنے اپنی قوت کا اظہار کرے۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ شروع کے تین پھیروں میں شانوں کو ہلا ہلا کر اور خوب اکڑتے ہوئے چل کر طواف کیا۔ اس کو عربی زبان میں ” رمل ” کہتے ہیں۔ چنانچہ یہ سنت آج تک باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گی کہ ہر طواف کعبہ کرنے والا شروع طواف کے تین پھیروں میں ” رمل ” کرتا ہے۔

(بخاری ج۱ ص۲۱۸ باب کيف کان بدء الرمل )

-: حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی

-: حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی

تین دن کے بعد کفار مکہ کے چند سردار حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ شرط پوری ہوچکی۔ اب آپ لوگ مکہ سے نکل جائیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بارگاہ نبوت میں کفار کا پیغام سنایا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اسی وقت مکہ سے روانہ ہوگئے۔ چلتے وقت حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک چھوٹی صاحبزادی جن کا نام ” امامہ ” تھا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو چچا چچا کہتی ہوئی دوڑی آئیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ ِاُحد میں شہید ہو چکے تھے۔ ان کی یہ یتیم چھوٹی بچی مکہ میں رہ گئی تھیں۔ جس وقت یہ بچی آپ کو پکارتی ہوئی دوڑی آئیں تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے شہید چچا جان کی اس یادگار کو دیکھ کر پیار آگیا۔ اس بچی نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بھائی جان کہنے کی بجائے چچا جان اس رشتہ سے کہا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رضاعی بھائی ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اور حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ثویبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا دودھ پیا تھا۔ جب یہ صاحبزادی قریب آئیں تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آگے بڑھ کر ان کو اپنی گود میں اٹھا لیا لیکن اب ان کی پرورش کے لئے تین دعویدار کھڑے ہو گئے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کہا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یہ میری چچا زاد بہن ہے اور میں نے اس کو سب سے پہلے اپنی گود میں اٹھا لیا ہے اس لئے مجھ کو اس کی پرورش کا حق ملنا چاہئے۔ حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ گزارش کی کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یہ میری چچا زاد بہن بھی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے اس لئے اس کی پرورش کا میں حقدار ہوں۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یہ میرے دینی بھائی حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لڑکی ہے اس لئے میں اس کی پرورش کروں گا۔ تینوں صاحبوں کا بیان سن کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ ” خالہ ماں کے برابر ہوتی ہے ” لہٰذا یہ لڑکی حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پرورش میں رہے گی۔ پھر تینوں صاحبوں کی دلداری و دل جوئی کرتے ہوئے رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ ” اے علی ! تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ ” اور حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ” اے جعفر ! تم سیرت و صورت میں مجھ سے مشابہت رکھتے ہو۔ ” اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ فرمایا کہ ” اے زید ! تم میرے بھائی اور میرے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) ہو۔ ”

(بخاری ج۲ ص۶۱۰ عمرة القضاء )

-: حضرت میمونہ کا نکاح

-: حضرت میمونہ کا نکاح

اسی عمرۃ القضاء کے سفر میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسے نکاح فرمایا۔ یہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی چچی ام فضل زوجہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی بہن تھیں۔ عمرۃ القضاء سے واپسی میں جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مقام ” سرف ” میں پہنچے تو ان کو اپنے خیمہ میں رکھ کر اپنی صحبت سے سر فراز فرمایا اور عجیب اتفاق کہ اس واقعہ سے چوالیس برس کے بعد اسی مقام سرف میں حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال ہوا اور ان کی قبر شریف بھی اسی مقام میں ہے۔ صحیح قول یہ ہے کہ ان کی وفات کا سال ۵۱ ھ ہے۔ مفصل بیان ان شاء اللہ تعالیٰ ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے بیان میں آئے گا۔