ہجرت کا پانچواں سال

-: غزوہ دُومۃ الجندل

جنگ ِ اُحد میں مسلمانوں کے جانی نقصان کا چرچا ہو جانے اور کفار قریش اور یہودیوں کی مشترکہ سازشوں سے تمام قبائل کفار کا حوصلہ اتنا بلند ہو گیا کہ سب کو مدینہ پر حملہ کرنے کا جنون ہو گیا۔ چنانچہ ۵ ھ بھی کفر و اسلام کے بہت سے معرکوں کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔ ہم یہاں چند مشہور غزوات و سرایا کا ذکر کرتے ہیں۔

سب سے پہلے قبائل ” انمار و ثعلبہ ” نے مدینہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کیا جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اِس کی اطلاع ملی تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے چار سو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا لشکر اپنے ساتھ لیا اور ۱۰ محرم ۵ ھ کو مدینہ سے روانہ ہو کر مقامِ ” ذات الرقاع ” تک تشریف لے گئے لیکن آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی آمد کا حال سن کر یہ کفار پہاڑوں میں بھاگ کر چھپ گئے اس لئے کوئی جنگ نہیں ہوئی۔ مشرکین کی چند عورتیں ملیں جن کو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے گرفتار کر لیا۔ اس وقت مسلمان بہت ہی مفلس اور تنگ دستی کی حالت میں تھے۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ سواریوں کی اتنی کمی تھی کہ چھ چھ آدمیوں کی سواری کے لئے ایک ایک اونٹ تھا جس پر ہم لوگ باری باری سوار ہو کر سفر کرتے تھے پہاڑی زمین میں پیدل چلنے سے ہمارے قدم زخمی اور پاؤں کے ناخن جھڑ گئے تھے اس لئے ہم لوگوں نے اپنے پاؤں پر کپڑوں کے چیتھڑے لپیٹ لئے تھے یہی وجہ ہے کہ اس غزوہ کا نام ” غزوہ ذات الرقاع ” (پیوندوں والا غزوہ) ہو گیا۔

(بخاری غزوه ذات الرقاع ج۲ ص۵۹۲)

بعض مؤرخین نے کہا کہ چونکہ وہاں کی زمین کے پتھر سفید و سیاہ رنگ کے تھے اور زمین ایسی نظر آتی تھی گویا سفید اور کالے پیوند ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے ہیں، لہٰذا اس غزوہ کو ” غزوہ ذات الرقاع ‘‘ کہا جانے لگا اور بعض کا قول ہے کہ یہاں پر ایک درخت کا نام ” ذات الرقاع ” تھا اس لئے لوگ اس کو غزوہ ذات الرقاع کہنے لگے، ہو سکتا ہے کہ یہ ساری باتیں ہوں۔

(زرقانی جلد۲ ص۸۸)

مشہور امام سیرت ابن سعد کا قول ہے کہ سب سے پہلے اس غزوہ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ” صلوٰۃ الخوف ” پڑھی۔

(زُرقانی ج۲ ص۹۰ و بخاری باب غزوه ذات الرقاع ج۲ ص۵۹۲)

-: غزوہ دُومۃ الجندل

ربیع الاول ۵ ھ میں پتا چلا کہ مقام ” دومۃ الجندل ” میں جو مدینہ اور شہر دمشق کے درمیان ایک قلعہ کا نام ہے مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے ایک بہت بڑی فوج جمع ہو رہی ہے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک ہزار صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا لشکر لے کر مقابلہ کے لئے مدینہ سے نکلے، جب مشرکین کو یہ معلوم ہوا تو وہ لوگ اپنے مویشیوں اور چرواہوں کو چھوڑ کر بھاگ نکلے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ان تمام جانوروں کو مال غنیمت بنا لیا اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تین دن وہاں قیام فرما کر مختلف مقامات پر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے لشکروں کو روانہ فرمایا۔ اس غزوہ میں بھی کوئی جنگ نہیں ہوئی اس سفر میں ایک مہینہ سے زائد آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ سے باہر رہے۔

(زرقانی ج۲ ص۹۴ تا ۹۵)

-: غزوۂ مُریسیع

-: غزوۂ مُریسیع

اس کا دوسرا نام ” غزوہ بنی المصطلق ” بھی ہے ” مریسیع ” ایک مقام کا نام ہے جو مدینہ سے آٹھ منزل دور ہے۔ قبیلۂ خزاعہ کا ایک خاندان ” بنو المصطلق ” یہاں آباد تھا اور اس قبیلہ کا سردار حارث بن ضرار تھا اس نے بھی مدینہ پر فوج کشی کے لئے لشکر جمع کیا تھا، جب یہ خبر مدینہ پہنچی تو ۲ شعبان ۵ ھ کو حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ پر حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اپنا خلیفہ بنا کر لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے۔ اس غزوۂ میں حضرت بی بی عائشہ اور حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں، جب حارث بن ضرار کو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر ہوگئی تو اس پر ایسی دہشت سوار ہو گئی کہ وہ اور اس کی فوج بھاگ کر منتشر ہو گئی مگر خود مریسیع کے باشندوں نے لشکر اسلام کا سامنا کیا اور جم کر مسلمانوں پر تیر برسانے لگے لیکن جب مسلمانوں نے ایک ساتھ مل کر حملہ کر دیا تو دس کفار مارے گئے اور ایک مسلمان بھی شہادت سے سرفراز ہوئے، باقی سب کفار گرفتار ہو گئے جن کی تعداد سات سو سے زائد تھی، دو ہزار اونٹ اور پانچ ہزار بکریاں مال غنیمت میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ہاتھ آئیں۔

(زُرقانی ج ۲ص ۹۷ تا ۹۸)

غزوہ مریسیع جنگ کے اعتبار سے تو کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا مگر اس جنگ میں بعض ایسے اہم واقعات درپیش ہو گئے کہ یہ غزوہ تاریخ نبوی کا ایک بہت ہی اہم اور شاندار عنوان بن گیا ہے، ان مشہور واقعات میں سے چند یہ ہیں:

-: منافقین کی شرارت

-: منافقین کی شرارت

اس جنگ میں مال غنیمت کے لالچ میں بہت سے منافقین بھی شریک ہوگئے تھے ایک دن پانی لینے پر ایک مہاجر اور ایک انصاری میں کچھ تکرار ہو گئی مہاجر نے بلند آواز سے یاللمھاجرین (اے مہاجرو ! فریاد ہے) اور انصاری نے یاللانصار (اے انصاریو ! فریاد ہے) کا نعرہ مارا، یہ نعرہ سنتے ہی انصار و مہاجرین دوڑ پڑے اور اسقدر بات بڑھ گئی کہ آپس میں جنگ کی نوبت آ گئی رئیس المنافقین عبداﷲ بن اُبی کو شرارت کا ایک موقعہ مل گیا اس نے اشتعال دلانے کے لئے انصاریوں سے کہا کہ ” لو ! یہ تو وہی مثل ہوئی کہ سَمِّنْ کَلْبَكَ لِيَأْكُلَكَ (تم اپنے کتے کو فربہ کرو تا کہ وہ تمہیں کو کھا ڈالے) تم انصاریوں ہی نے ان مہاجرین کا حوصلہ بڑھا دیا ہے لہٰذا اب ان مہاجرین کی مالی امداد و مدد بالکل بند کر دو یہ لوگ ذلیل و خوار ہیں اور ہم انصار عزت دار ہیں اگر ہم مدینہ پہنچے تو یقینا ہم ان ذلیل لوگوں کو مدینہ سے نکال باہر کر دیں گے۔

(قرآن سوره منافقون)

حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب اس ہنگامہ کا شور و غوغا سنا تو انصار و مہاجرین سے فرمایا کہ کیا تم لوگ زمانہ جاہلیت کی نعرہ بازی کر رہے ہو ؟ جمالِ نبوت دیکھتے ہی انصار و مہاجرین برف کی طرح ٹھنڈے پڑ گئے اور رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے چند فقروں نے محبت کا ایسا دریا بہا دیا کہ پھر انصار و مہاجرین شیر و شکر کی طرح گھل مل گئے۔

جب عبداﷲ بن اُبی کی بیہودہ بات حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے کان میں پڑی تو وہ اس قدر طیش میں آ گئے کہ ننگی تلوار لے کر آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہایت نرمی کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ اے عمر ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ خبردار ایسا نہ کرو، ورنہ کفار میں یہ خبر پھیل جائے گی کہ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کرنے لگے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بالکل ہی خاموش ہو گئے مگر اس خبر کا پورے لشکر میں چرچا ہو گیا، یہ عجیب بات ہے کہ عبداﷲ ابن اُبی جتنا بڑا اسلام اور بانی اسلام صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا دشمن تھا اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر اس کے بیٹے اسلام کے سچے شیدائی اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جان نثار صحابی تھے ان کا نام بھی عبداﷲ تھا جب اپنے باپ کی بکواس کا پتا چلا تو وہ غیظ و غضب میں بھرے ہوئے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اگر آپ میرے باپ کے قتل کو پسند فرماتے ہوں تو میری تمنا ہے کہ کسی دوسرے کے بجائے میں خود اپنی تلوار سے اپنے باپ کا سر کاٹ کر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ نہیں ہرگز نہیں میں تمہارے باپ کے ساتھ کبھی بھی کوئی برا سلوک نہیں کروں گا۔

(ابن سعد و طبری وغيره)

اور ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ مدینہ کے قریب وادی عقیق میں وہ اپنے باپ عبداﷲ بن ابی کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ تم نے مہاجرین اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ذلیل کہا ہے خدا کی قسم ! میں اس وقت تک تم کو مدینہ میں داخل نہیں ہونے دوں گا جب تک رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اجازت عطا نہ فرمائیں اور جب تک تم اپنی زبان سے یہ نہ کہو کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تمام اولاد آدم میں سب سے زیادہ عزت والے ہیں اور تم سارے جہان والوں میں سب سے زیادہ ذلیل ہو، تمام لوگ انتہائی حیرت اور تعجب کے ساتھ یہ منظر دیکھ رہے تھے جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم وہاں پہنچے اور یہ دیکھا کہ بیٹا باپ کا راستہ روکے ہوئے کھڑا ہے اور عبداﷲ بن ابی زور زور سے کہہ رہا ہے کہ ” میں سب سے زیادہ ذلیل ہوں اور حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سب سے زیادہ عزت دار ہیں۔ ” آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ دیکھتے ہی حکم دیا کہ اس کا راستہ چھوڑ دو تاکہ یہ مدینہ میں داخل ہو جائے۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۱۵۷)

-: حضرت جویریه رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح

-: حضرت جویریه رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح

غزوہ مریسیع کی جنگ میں جو کفار مسلمانوں کے ہاتھ میں گرفتار ہوئے ان میں سردار قوم حارث بن ضرار کی بیٹی حضرت جویریہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بھی تھیں جب تمام قیدی لونڈی غلام بنا کر مجاہدین اسلام میں تقسیم کر دیئے گئے تو حضرت جویریہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا حضرت ثابت بن قیس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے حصہ میں آئیں انہوں نے حضرت جویریہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے یہ کہہ دیا کہ تم مجھے اتنی اتنی رقم دے دو تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا، حضرت جویریہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس کوئی رقم نہیں تھی وہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دربار میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میں اپنے قبیلے کے سردار حارث بن ضرار کی بیٹی ہوں اور میں مسلمان ہو چکی ہوں حضرت ثابت بن قیس نے اتنی اتنی رقم لے کر مجھے آزاد کر دینے کا وعدہ کر لیا ہے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میری مدد فرمائیں تا کہ میں یہ رقم ادا کرکے آزاد ہو جاؤں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کروں تو کیا تم منظور کر لو گی ؟ انہوں نے پوچھا کہ وہ کیا ہے ؟ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں خود تنہا تمہاری طرف سے ساری رقم ادا کردوں اور تم کو آزاد کر کے میں تم سے نکاح کر لوں تاکہ تمہارا خاندانی اعزاز و وقار برقرار رہ جائے، حضرت جویریہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے خوشی خوشی اس کو منظور کر لیا، چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ساری رقم اپنے پاس سے ادا فرما کر حضرت جویریہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرما لیا جب یہ خبر لشکر میں پھیل گئی کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت جویریہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرما لیا تو مجاہدین اسلام کے لشکر میں اس خاندان کے جتنے لونڈی غلام تھے مجاہدین نے سب کو فوراً ہی آزاد کر کے رہا کر دیا اور لشکر اسلام کا ہر سپاہی یہ کہنے لگا کہ جس خاندان میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے شادی کر لی اس خاندان کا کوئی آدمی لونڈی غلام نہیں رہ سکتا اور حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کہنے لگیں کہ ہم نے کسی عورت کا نکاح حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نکاح سے بڑھ کر خیر و برکت والا نہیں دیکھا کہ اس کی وجہ سے تمام خاندان بنی المصطلق کو غلامی سے آزادی نصیب ہو گئی۔

(ابو داود کتاب العتق ج۲ ص۵۴۸)

حضرت جویریہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا اصلی نام ” برہ ” تھا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس نام کو بدل کر ” جویریہ ” نام رکھا۔

(مدارج جلد۲ ص۱۵۵)

-: واقعہ افک

-: واقعہ افک

اسی غزوہ سے جب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ واپس آنے لگے تو ایک منزل پر رات میں پڑاؤ کیا، حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ایک بند ہودج میں سوار ہو کر سفر کرتی تھیں اور چند مخصوص آدمی اس ہودج کو اونٹ پر لادنے اور اتارنے کے لئے مقرر تھے، حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا لشکر کی روانگی سے کچھ پہلے لشکر سے باہر رفع حاجت کے لئے تشریف لے گئیں جب واپس ہوئیں تو دیکھا کہ ان کے گلے کا ہار کہیں ٹوٹ کر گر پڑا ہے وہ دوبارہ اس ہار کی تلاش میں لشکر سے باہر چلی گئیں اس مرتبہ واپسی میں کچھ دیر لگ گئی اور لشکر روانہ ہو گیا آپ کا ہودج لادنے والوں نے یہ خیال کرکے کہ اُم المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہودج کے اندر تشریف فرما ہیں ہودج کو اونٹ پر لاد دیا اور پورا قافلہ منزل سے روانہ ہو گیا جب حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا منزل پر واپس آئیں تو یہاں کوئی آدمی موجود نہیں تھا تنہائی سے سخت گھبرائیں اندھیری رات میں اکیلے چلنا بھی خطرناک تھا اس لئے وہ یہ سوچ کر وہیں لیٹ گئیں کہ جب اگلی منزل پر لوگ مجھے نہ پائیں گے تو ضرور ہی میری تلاش میں یہاں آئیں گے، وہ لیٹی لیٹی سوگئیں ایک صحابی جن کا نام حضرت صفوان بن معطل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھا وہ ہمیشہ لشکر کے پیچھے پیچھے اس خیال سے چلا کرتے تھے تا کہ لشکر کا گرا پڑا سامان اٹھاتے چلیں وہ جب اس منزل پر پہنچے تو حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو دیکھا اور چونکہ پردہ کی آیت نازل ہونے سے پہلے وہ بار ہا ام المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیکھ چکے تھے اس لئے دیکھتے ہی پہچان لیا اور انہیں مردہ سمجھ کر ” اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن ” پڑھا اس آواز سے وہ جاگ اٹھیں حضرت صفوان بن معطل سلمی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فوراً ہی ان کو اپنے اونٹ پر سوار کر لیا اور خود اونٹ کی مہار تھام کر پیدل چلتے ہوئے اگلی منزل پر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔

منافقوں کے سردار عبداﷲ بن اُبی نے اس واقعہ کو حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا پر تہمت لگانے کا ذریعہ بنا لیا اور خوب خوب اس تہمت کا چرچا کیا یہاں تک کہ مدینہ میں اس منافق نے اس شرمناک تہمت کو اس قدر اچھالا اور اتنا شور و غل مچایا کہ مدینہ میں ہر طرف اس افتراء اور تہمت کا چرچا ہونے لگا اور بعض مسلمان مثلاً حضرت حسان بن ثابت اور حضرت مسطح بن اثاثہ اور حضرت حمنہ بنت جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے بھی اس تہمت کو پھیلانے میں کچھ حصہ لیا، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس شرانگیز تہمت سے بے حد رنج و صدمہ پہنچا اور مخلص مسلمانوں کو بھی انتہائی رنج و غم ہوا حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا مدینہ پہنچتے ہی سخت بیمار ہو گئیں، پردہ نشین تو تھیں ہی صاحب فراش ہو گئیں اور انہیں اس تہمت تراشی کی بالکل خبر ہی نہیں ہوئی گو کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی پاک دامنی کا پورا پورا علم و یقین تھا مگر چونکہ اپنی بیوی کا معاملہ تھا اس لئے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اپنی بیوی کی براءت اور پاکدامنی کا اعلان کرنا مناسب نہیں سمجھااور وحی الٰہی کا انتظار فرمانے لگے اس درمیان میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے مخلص اصحاب سے اس معاملہ میں مشورہ فرماتے رہے تا کہ ان لوگوں کے خیالات کا پتا چل سکے۔

(بخاری ج۲ ص۵۹۴)

چنانچہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس تہمت کے بارے میں گفتگو فرمائی تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم یہ منافق یقینا جھوٹے ہیں اس لئے کہ جب اﷲ تعالیٰ کو یہ گوارا نہیں ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر ایک مکھی بھی بیٹھ جائے کیونکہ مکھی نجاستوں پر بیٹھتی ہے تو بھلا جو عورت ایسی برائی کی مرتکب ہو خداوند قدوس کب اور کیسے برداشت فرمائے گا کہ وہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی زوجیت میں رہ سکے۔

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) جب اﷲ تعالیٰ نے آپ کے سایہ کو زمین پر نہیں پڑنے دیا تاکہ اس پر کسی کا پاؤں نہ پڑ سکے تو بھلا اس معبود برحق کی غیرت کب یہ گوارا کرے گی کہ کوئی انسان آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ کے ساتھ ایسی قباحت کا مرتکب ہو سکے ؟۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ گزارش کی کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ایک مرتبہ آپ کی نعلین اقدس میں نجاست لگ گئی تھی تو اﷲ تعالیٰ نے حضرت جبریل علیہ السلام کو بھیج کر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو خبر دی کہ آپ اپنی نعلین اقدس کو اتاردیں اس لئے حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا معاذاﷲ اگر ایسی ہوتیں تو ضرور اﷲ تعالیٰ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر وحی نازل فرما دیتا کہ ” آپ ان کو اپنی زوجیت سے نکال دیں۔ “

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جب اس تہمت کی خبر سنی تو انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اے بیوی ! تو سچ بتا ! اگر حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جگہ میں ہوتا تو کیا تو یہ گمان کر سکتی ہے کہ میں حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی حرم پاک کے ساتھ ایسا کر سکتا تھا ؟ تو ان کی بیوی نے جواب دیا کہ اگر حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی جگہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بیوی ہوتی تو خدا کی قسم ! میں کبھی ایسی خیانت نہیں کر سکتی تھی تو پھر حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا جو مجھ سے لاکھوں درجے بہتر ہے اور حضرت صفوان بن معطل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو بدر جہا تم سے بہتر ہیں بھلا کیونکر ممکن ہے کہ یہ دونوں ایسی خیانت کر سکتے ہیں ؟

(مدارک التنزيل مصری ج۲ ص۱۳۴ تا ۱۳۵)

بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں حضرت علی اور اسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے جب مشورہ طلب فرمایا تو حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے برجستہ کہا کہ اَهْلُكَ وَلَا نَعْلَمُ اِلَّاخَيْرًا کہ یا رسول اﷲ ! ( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) وہ آپ کی بیوی ہیں اور ہم انہیں اچھی ہی جانتے ہیں، اور حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ جواب دیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اﷲ تعالیٰ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں ڈالی ہے عورتیں ان کے سوا بہت ہیں اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کے بارے میں ان کی لونڈی (حضرت بریرہ) سے پوچھ لیں وہ آپ سے سچ مچ کہہ دے گی۔

حضرت بریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے جب آپ نے سوال فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ !( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اس ذات پاک کی قسم جس نے آپ کو رسول برحق بنا کر بھیجا ہے کہ میں نے حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا میں کوئی عیب نہیں دیکھا، ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ وہ ابھی کمسن لڑکی ہیں وہ گوندھا ہوا آٹا چھوڑ کر سو جاتی ہیں اور بکری آ کر کھا ڈالتی ہے۔

پھر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ محترمہ حضرت زینب بنت جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے دریافت فرمایا جو حسن و جمال میں حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے مثل تھیں تو انہوں نے قسم کھا کر یہ عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اَحْمِيْ سَمْعِيْ وَ بَصَرِيْ وَاللّٰهِ مَا عَلِمْتُ اِلَّاخَيْرًا میں اپنے کان اور آنکھ کی حفاظت کرتی ہوں خدا کی قسم! میں تو حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اچھی ہی جانتی ہوں۔

(بخاری باب حديث الافک ج۲ ص۵۹۶)

اس کے بعد حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک دن منبر پر کھڑے ہو کر مسلمانوں سے فرمایا کہ اس شخص کی طرف سے مجھے کون معذور سمجھے گا، یا میری مدد کرے گا جس نے میری بیوی پر بہتان تراشی کر کے میری دل آزاری کی ہے، وَاللّٰهِ مَا عَلِمْتُ عَلٰي اَهْلِيْ اِلَّاخَيْرًا خدا کی قسم! میں اپنی بیوی کو ہر طرح کی اچھی ہی جانتا ہوں۔ وَلَقَدْ ذَکَرُوْا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ اِلَّا خَيْرًا اور ان لوگوں (منافقوں) نے (اس بہتان میں) ایک ایسے مرد (صفوان بن معطل) کا ذکر کیا ہے جس کو میں بالکل اچھا ہی جانتا ہوں۔

(بخاری ج۲ ص۵۹۵ باب حدیث الافک)

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی برسر منبر اس تقریر سے معلوم ہوا کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ اور حضرت صفوان بن معطل رضی اﷲ تعالیٰ عنہما دونوں کی براءت و طہارت اور عفت و پاک دامنی کا پورا پورا علم اور یقین تھا اور وحی نازل ہونے سے پہلے ہی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یقینی طور پر معلوم تھا کہ منافق جھوٹے اور اُم المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا پاک دامن ہیں ورنہ آپ برسر منبر قسم کھا کر ان دونوں کی اچھائی کا مجمع عام میں ہرگز اعلان نہ فرماتے مگر پہلے ہی اعلان عام نہ فرمانے کی وجہ یہی تھی کہ اپنی بیوی کی پاکدامنی کا اپنی زبان سے اعلان کرنا حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مناسب نہیں سمجھتے تھے، جب حد سے زیادہ منافقین نے شور و غوغا شروع کر دیا تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے منبر پر اپنے خیال اقدس کا اظہار فرما دیا مگر اب بھی اعلان عام کے لئے آپ کو وحی الٰہی کا انتظار ہی رہا۔

یہ پہلے تحریر کیا جا چکا ہے کہ اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سفر سے آتے ہی بیمار ہو کر صاحب فراش ہو گئی تھیں اس لئے وہ اس بہتان کے طوفان سے بالکل ہی بے خبر تھیں جب انہیں مرض سے کچھ صحت حاصل ہوئی اور وہ ایک رات حضرت اُم مسطح صحابیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے ساتھ رفع حاجت کے لئے صحرا میں تشریف لے گئیں تو انکی زبانی انہوں نے اس دلخراش اور روح فرسا خبر کو سنا۔ جس سے انہیں بڑا دھچکا لگا اور وہ شدت رنج و غم سے نڈھال ہو گئیں چنانچہ ان کی بیماری میں مزید اضافہ ہو گیا اور وہ دن رات بلک بلک کر روتی رہیں آخر جب ان سے یہ صدمہ جاں کاہ برداشت نہ ہوسکا تو وہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اپنی والدہ کے گھر چلی گئیں اور اس منحوس خبر کا تذکرہ اپنی والدہ سے کیا، ماں نے کافی تسلی و تشفی دی مگر یہ برابر لگاتار روتی ہی رہیں۔

اسی حالت میں ناگہاں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ اے عائشہ ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا تمہارے بارے میں ایسی ایسی خبر اڑائی گئی ہے اگر تم پاک دامن ہو اور یہ خبر جھوٹی ہے تو عنقریب خداوند تعالیٰ تمہاری براءت کا بذریعہ وحی اعلان فرما دے گا۔ ورنہ تم توبہ و استغفار کر لو کیونکہ جب کوئی بندہ خدا سے توبہ کرتا ہے اور بخشش مانگتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ گفتگو سن کر حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے آنسو بالکل تھم گئے اور انہوں نے اپنے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ آپ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا جواب دیجیے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو کیا جواب دوں ؟ پھر انہوں نے ماں سے جواب دینے کی درخواست کی تو ان کی ماں نے بھی یہی کہا پھر خود حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ جواب دیا کہ لوگوں نے جو ایک بے بنیاد بات اڑائی ہے اور یہ لوگوں کے دلوں میں بیٹھ چکی ہے اور کچھ لوگ اس کو سچ سمجھ چکے ہیں اس صورت میں اگر میں یہ کہوں کہ میں پاک دامن ہوں تو لوگ اس کی تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں اس برائی کا اقرار کر لوں تو سب مان لیں گے حالانکہ اﷲ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس الزام سے بری اور پاک دامن ہوں اس وقت میری مثال حضرت یوسف علیہ السلام کے باپ (حضرت یعقوب علیہ السلام) جیسی ہے لہٰذا میں بھی وہی کہتی ہوں جو انہوں نے کہا تھا یعنی فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ ط وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ

یہ کہتی ہوئی انہوں نے کروٹ بدل کر منہ پھیر لیا اور کہا کہ اﷲ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس تہمت سے بری اور پاک دامن ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اﷲ تعالیٰ ضرور میری براءت کو ظاہر فرما دے گا۔ حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا جواب سن کر ابھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی جگہ سے اٹھے بھی نہ تھے اور ہر شخص اپنی اپنی جگہ پر بیٹھا ہی ہوا تھا کہ ناگہاں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی اور آپ پر نزول وحی کے وقت کی بے چینی شروع ہو گئی اور باوجود یکہ شدید سردی کا وقت تھا مگر پسینے کے قطرات موتیوں کی طرح آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدن سے ٹپکنے لگے جب وحی اتر چکی تو ہنستے ہوئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا تم خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کی حمد کرو کہ اس نے تمہاری براءت اور پاکدامنی کا اعلان فرما دیا اور پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قرآن کی سورۂ نور میں سے دس آیتوں کی تلاوت فرمائی جو اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ ِبالْاِفْکِ سے شروع ہو کر وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ پر ختم ہوتی ہیں۔

ان آیات کے نازل ہو جانے کے بعد منافقوں کا منہ کالا ہو گیا اور حضرت ام المؤمنین بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی پاک دامنی کا آفتاب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اس طرح چمک اٹھا کہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے دلوں کی دنیا میں نور ایمان سے اجالا ہو گیا۔

احضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو حضرت مسطح بن اثاثہ پر بڑا غصہ آیا یہ آپ کے خالہ زاد بھائی تھے اور بچپن ہی میں ان کے والد وفات پا گئے تھے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کی پرورش بھی کی تھی اور ان کی مفلسی کی وجہ سے ہمیشہ آپ ان کی مالی امداد فرماتے رہتے تھے مگر اس کے باوجود حضرت مسطح بن اثاثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بھی اس تہمت تراشی اور اس کا چرچا کرنے میں کچھ حصہ لیا تھا اس وجہ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے غصہ میں بھر کر یہ قسم کھا لی کہ اب میں مسطح بن اثاثہ کی کبھی بھی کوئی مالی مدد نہیں کروں گا، اس موقع پر اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ :

وَ لَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَةِ اَنْ يُّؤْتُوْآ اُولِي الْقُرْبٰي وَالْمَسٰکِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ فِیْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ص وَ لْيَعْفُوْا وَ لْيَصْفَحُوْا ط اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَکُمْ ط وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (نور)

اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے اور گنجائش والے ہیں قرابت والوں اور مسکینوں اور اﷲ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے کی اور چاہیے کہ معاف کریں اور درگزر کریں کیا تم اسے پسند نہیں کرتے کہ اﷲ تمہاری بخشش کرے اور اﷲ بہت بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے۔

اس آیت کو سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنی قسم توڑ ڈالی اور پھر حضرت مسطح بن اثاثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا خرچ بدستور سابق عطافرمانے لگے۔

(بخاری حديث الافک ج۲ ص۵۹۵ تا ۵۹۶ املخصاً)

پھر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں ایک خطبہ پڑھا اور سورۂ نور کی آیتیں تلاوت فرما کر مجمع عام میں سنادیں اور تہمت لگانے والوں میں سے حضرت حسان بن ثابت و حضرت مسطح بن اثاثہ و حضرت حمنہ بنت جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اور رئیس المنافقین عبداﷲ بن ابی ان چاروں کو حدقذف کی سزا میں اسّی اسّی درے مارے گئے۔

(مدارج جلد۲ ص ۱۶۳ وغیره)

شارح بخاری علامہ کرمانی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی براءت اورپاک دامنی قطعی ویقینی ہے جو قرآن سے ثابت ہے اگر کوئی اس میں ذرا بھی شک کرے تو وہ کافر ہے۔

(بخاری جلد۲ ص۵۹۵)

دوسرے تمام فقہاء امت کا بھی یہی مسلک ہے۔

-: آیت تیمم کا نزول

-: آیت تیمم کا نزول

ابن عبدالبر و ابن سعد و ابن حبان وغیرہ محدثین و علماء سیرت کا قول ہے کہ تیمم کی آیت اسی غزوہ مریسیع میں نازل ہوئی مگر روضۃ الاحباب میں لکھا ہے کہ آیت تیمم کسی دوسرے غزوہ میں اتری ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم۔

(مدارج النبوة ج ۲ ص۱۵۷)

بخاری شریف میں آیت تیمم کی شان نزول جو مذکور ہے وہ یہ ہے کہ حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ ہم لوگ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب ہم لوگ مقام “بیداء” یا مقام” ذات الجیش” میں پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر کہیں گر گیا حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور کچھ لوگ اس ہار کی تلاش میں وہاں ٹھہر گئے اور وہاں پانی نہیں تھا تو کچھ لوگوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس آ کر شکایت کی کہ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ حضرت عائشہرضی اللہ تعالیٰ عنہانے کیا کیا؟ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہمکو یہاں ٹھہرا لیا ہے حالانکہ یہاں پانی موجود نہیں ہے، یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ میرے پاس آئے اور جو کچھ خدا نے چاہا انہوں نے مجھ کو (سخت وسست) کہا اور پھر (غصہ میں) اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کونچا مارنے لگے اس وقت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میری ران پر اپنا سر مبارک رکھ کر آرام فرما رہے تھے اس وجہ سے (مار کھانے کے باوجود) میں ہل نہیں سکتی تھی صبح کو جب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو وہاں کہیں پانی موجود ہی نہیں تھا ناگہاں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر تیمم کی آیت نازل ہو گئی چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور تمام اصحاب نے تیمم کیا اور نماز فجر ادا کی اس موقع پر حضرت اسید بن حضیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے (خوش ہو کر) کہا کہ اے ابوبکر کی آل! یہ تمہاری پہلی ہی برکت نہیں ہے۔ پھر ہم لوگوں نے اونٹ کو اٹھایا تو اس کے نیچے ہم نے ہار کو پا لیا۔

(بخاری ج۱ ص۴۸ کتاب التيمم)

اس حدیث میں کسی غزوہ کا نام نہیں ہے مگر شارح بخاری حضرت علامہ ابن حجر علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ یہ واقعہ غزوہ بنی المصطلق کا ہے جس کا دوسرا نام غزوہ مریسیع بھی ہے جس میں قصہ افک واقع ہوا۔

(فتح الباری ج۱ص۳۶۵کتاب التیمم)

اس غزوہ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اٹھائیس دن مدینہ سے باہر رہے۔

(زُرقانی ج۲ ص۱۰۲)

-: جنگِ خندق

-: جنگِ خندق

۵ھ کی تمام لڑائیوں میں یہ جنگ سب سے زیادہ مشہور اور فیصلہ کن جنگ ہے چونکہ دشمنوں سے حفاظت کے لئے شہر مدینہ کے گرد خندق کھودی گئی تھی اس لئے یہ لڑائی ” جنگ خندق ” کہلاتی ہے اور چونکہ تمام کفار عرب نے متحد ہو کر اسلام کے خلاف یہ جنگ کی تھی اس لئے اس لڑائی کا دوسرا نام ” جنگ احزاب ” (تمام جماعتوں کی متحدہ جنگ) ہے، قرآن مجید میں اس لڑائی کا تذکرہ اسی نام کے ساتھ آیا ہے۔

-: جنگ خندق کا سبب

-: جنگ خندق کا سبب

گزشتہ اوراق میں ہم یہ لکھ چکے ہیں کہ ” قبیلہ بنو نضیر ” کے یہودی جب مدینہ سے نکال دیئے گئے تو ان میں سے یہودیوں کے چند رؤسا ” خیبر ” میں جا کر آباد ہو گئے اور خیبر کے یہودیوں نے ان لوگوں کا اتنا اعزاز و اکرام کیا کہ سلام بن مشکم و ابن ابی الحقیق و حیی بن اخطب و کنانہ بن الربیع کو اپنا سردار مان لیا یہ لوگ چونکہ مسلمانوں کے خلاف غیظ و غضب میں بھرے ہوئے تھے اور انتقام کی آگ ان کے سینوں میں دہک رہی تھی اس لئے ان لوگوں نے مدینہ پر ایک زبردست حملہ کی اسکیم بنائی، چنانچہ یہ تینوں اس مقصد کے پیش نظر مکہ گئے اور کفار قریش سے مل کر یہ کہا کہ اگر تم لوگ ہمارا ساتھ دو تو ہم لوگ مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے نیست و نابود کر سکتے ہیں کفار قریش تو اس کے بھوکے ہی تھے فوراً ہی ان لوگوں نے یہودیوں کی ہاں میں ہاں ملا دی کفار قریش سے ساز باز کر لینے کے بعد ان تینوں یہودیوں نے ” قبیلہ بنو غطفان ” کا رُخ کیااور خیبر کی آدھی آمدنی دینے کا لالچ دے کر ان لوگوں کو بھی مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کے لئے آمادہ کر لیا پھر بنو غطفان نے اپنے حلیف ” بنو اسد ” کو بھی جنگ کے لئے تیار کر لیا ادھر یہودیوں نے اپنے حلیف ” قبیلہ بنو اسعد ” کو بھی اپنا ہمنوا بنا لیا اور کفار قریش نے اپنی رشتہ داریوں کی بنا پر ” قبیلہ بنو سلیم ” کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا غرض اس طرح تمام قبائل عرب کے کفار نے مل جل کر ایک لشکر جرار تیار کر لیا جس کی تعداد دس ہزار تھی اور ابو سفیان اس پورے لشکر کا سپہ سالار بن گیا۔

(زُرقانی ج۲ ص۱۰۴ تا ۱۰۵)

-: مسلمانوں کی تیاری

-: مسلمانوں کی تیاری

جب قبائل عرب کے تمام کافروں کے اس گٹھ جوڑ اور خوفناک حملہ کی خبریں مدینہ پہنچیں تو حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو جمع فرما کر مشورہ فرمایا کہ اس حملہ کا مقابلہ کس طرح کیا جائے ؟ حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ رائے دی کہ جنگ ِ اُحد کی طرح شہر سے باہر نکل کر اتنی بڑی فوج کے حملہ کو میدانی لڑائی میں روکنا مصلحت کے خلاف ہے لہٰذا مناسب یہ ہے کہ شہر کے اندر رہ کر اس حملہ کا دفاع کیا جائے اور شہر کے گرد جس طرف سے کفار کی چڑھائی کا خطرہ ہے ایک خندق کھود لی جائے تاکہ کفار کی پوری فوج بیک وقت حملہ آور نہ ہو سکے، مدینہ کے تین طرف چونکہ مکانات کی تنگ گلیاں اور کھجوروں کے جھنڈ تھے اس لئے ان تینوں جانب سے حملہ کا امکان نہیں تھا مدینہ کا صرف ایک رُخ کھلا ہوا تھا اس لئے یہ طے کیا گیا کہ اسی طرف پانچ گز گہری خندق کھودی جائے، چنانچہ ۸ ذوقعدہ ۵ ھ کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تین ہزار صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو ساتھ لے کر خندق کھودنے میں مصروف ہو گئے، حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خود اپنے دست مبارک سے خندق کی حد بندی فرمائی اور دس دس آدمیوں پر دس دس گز زمین تقسیم فرما دی اور تقریباً بیس دن میں یہ خندق تیار ہوگئی۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۱۶۸ تا ۱۷۰)

حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خندق کے پاس تشریف لائے اور جب یہ دیکھا کہ انصار و مہاجرین کڑ کڑاتے ہوئے جاڑے کے موسم میں صبح کے وقت کئی کئی فاقوں کے باوجود جوش و خروش کے ساتھ خندق کھودنے میں مشغول ہیں تو انتہائی متأثر ہو کر آپ نے یہ رجز پڑھنا شروع کر دیا کہ ؎

َاللّٰهُمَّ اِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْاٰخِرَة

َفَاغْفِرِ الْاَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَة

اے اﷲ ! عزوجل بلاشبہ زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے لہٰذا تو انصار و مہاجرین کو بخش دے۔

َنَحْنُ الَّذِيْنَ بَايَعُوْا مُحَمَّدًا

َعَلَي الْجِهَادِ مَا بَقِيْنَا اَبَدًا

ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے جہاد پر حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بیعت کر لی ہے جب تک ہم زندہ رہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔

(بخاری غزوه خندق ج۲ ص۵۸۸)

حضرت براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خود بھی خندق کھودتے اور مٹی اُٹھا اُٹھا کر پھنکتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے شکم مبارک پر غبار کی تہ جم گئی تھی اور مٹی اٹھاتے ہوئے صحابہ کو جوش دلانے کے لئے رجز کے یہ اشعار پڑھتے تھے کہ

َوَ اللّٰهِ لَوْ لَا اللّٰهُ مَا اهْتَدَيْنَا

َوَ لَا تَصَدَّقْنَا وَ لَا صَلَّيْنَا

خدا کی قسم ! اگر اﷲ کا فضل نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور نہ صدقہ دیتے نہ نماز پڑھتے۔

فَاَنْزِلَنْ سَکِيْنَةً عَلَيْنَا

وَ ثَبِّتِ الْاَقْدَامَ اِنْ لَاقَيْنَا

لہٰذا اے اﷲ ! عزوجل تو ہم پر قلبی اطمنان اتار دے اور جنگ کے وقت ہم کو ثابت قدم رکھ۔

اِنَّ الْاُلٰي قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا

اِذَا اَرَادُوْا فِتْنَةً اَبَيْنَا

یقینا ان (کافروں) نے ہم پر ظلم کیا ہے اور جب بھی ان لوگوں نے فتنہ کا ارادہ کیا تو ہم لوگوں نے انکار کر دیا۔لفظ ” اَبَيْنَا ” حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بار بار بہ تکرار بلند آواز سے دہراتے تھے۔

-: ایک عجیب چٹان

-: ایک عجیب چٹان

حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ خندق کھودتے وقت ناگہاں ایک ایسی چٹان نمودار ہو گئی جو کسی سے بھی نہیں ٹوٹی جب ہم نے بارگاہ رسالت میں یہ ماجرا عرض کیا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اٹھے تین دن کا فاقہ تھا اور شکم مبارک پر پتھر بندھا ہوا تھا آپ نے اپنے دست مبارک سے پھاوڑا مارا تو وہ چٹان ریت کے بھر بھرے ٹیلے کی طرح بکھر گئی۔

(بخاری جلد۲ ص۵۸۸ خندق)

اور ایک روایت یہ ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس چٹان پر تین مرتبہ پھاوڑا مارا ہر ضرب پر اس میں سے ایک روشنی نکلتی تھی اور اس روشنی میں آپ نے شام و ایران اور یمن کے شہروں کو دیکھ لیا اور ان تینوں ملکوں کے فتح ہونے کی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بشارت دی۔ (زُرقانی جلد۲ ص۱۰۹ و مدارج ج۲ ص۱۶۹)

اور نسائی کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مدائن کسریٰ و مدائن قیصر و مدائن حبشہ کی فتوحات کا اعلان فرمایا۔

(نسائی ج۲ ص۶۳)

-: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعوت

-: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعوت

حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ فاقوں سے شکم اقدس پر پتھر بندھا ہوا دیکھ کر میرا دل بھر آیا چنانچہ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اپنے گھر آیا اور بیوی سے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس قدر شدید بھوک کی حالت میں دیکھا ہے کہ مجھ کو صبر کی تاب نہیں رہی کیا گھر میں کچھ کھانا ہے ؟ بیوی نے کہا کہ گھر میں ایک صاع جو کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، میں نے کہا کہ تم جلدی سے اس جو کو پیس کر گوندھ لو اور اپنے گھر کا پلا ہوا ایک بکری کا بچہ میں نے ذبح کر کے اس کی بوٹیاں بنا دیں اور بیوی سے کہا کہ جلدی سے تم گوشت روٹی تیار کر لو میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو بلا کر لاتا ہوں، چلتے وقت بیوی نے کہا کہ دیکھنا صرف حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور چند ہی اصحاب کو ساتھ میں لانا کھانا کم ہی ہے کہیں مجھے رسوا مت کر دینا۔ حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے خندق پر آ کر چپکے سے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک صاع آٹے کی روٹیاں اور ایک بکری کے بچے کا گوشت میں نے گھر میں تیار کرایا ہے لہٰذا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم صرف چند اشخاص کے ساتھ چل کر تناول فرما لیں، یہ سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے خندق والو ! جابر نے دعوت طعام دی ہے لہٰذا سب لوگ ان کے گھر پر چل کر کھانا کھا لیں پھر مجھ سے فرمایا کہ جب تک میں نہ آ جاؤں روٹی مت پکوانا، چنانچہ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف لائے تو گوندھے ہوئے آٹے میں اپنا لعاب دہن ڈال کر برکت کی دعا فرمائی اور گوشت کی ہانڈی میں بھی اپنا لعاب دہن ڈال دیا۔ پھر روٹی پکانے کا حکم دیا اور یہ فرمایا کہ ہانڈی چولھے سے نہ اتاری جائے پھر روٹی پکنی شروع ہوئی اور ہانڈی میں سے حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بیوی نے گوشت نکال نکال کر دینا شروع کیا ایک ہزار آدمیوں نے آسودہ ہو کر کھانا کھا لیا مگر گوندھا ہوا آٹا جتنا پہلے تھا اتنا ہی رہ گیا اور ہانڈی چولھے پر بدستور جوش مارتی رہی۔

(بخاری ج۲ ص۵۸۹ غزوه خندق)

-: بابرکت کھجوریں

-: بابرکت کھجوریں

اسی طرح ایک لڑکی اپنے ہاتھ میں کچھ کھجوریں لے کر آئی، حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ہے ؟ لڑکی نے جواب دیا کہ کچھ کھجوریں ہیں جو میری ماں نے میرے باپ کے ناشتہ کے لئے بھیجی ہیں، آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کھجوروں کو اپنے دست مبارک میں لے کر ایک کپڑے پر بکھیر دیا اور تمام اہل خندق کو بلا کر فرمایا کہ خوب سیر ہو کر کھاؤ چنانچہ تمام خندق والوں نے شکم سیر ہو کر ان کھجوروں کو کھایا۔

(مدارج جلد۲ ص۱۶۹)

یہ دونوں واقعات حضور سرور کائنات صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ہیں۔

-: اسلامی افواج کی مورچہ بندی

-: اسلامی افواج کی مورچہ بندی

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خندق تیار ہو جانے کے بعد عورتوں اور بچوں کو مدینہ کے محفوظ قلعہ میں جمع فرما دیا اور مدینہ پر حضرت ابن اُمِ مکتوم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اپنا خلیفہ بنا کر تین ہزار انصار و مہاجرین کی فوج کے ساتھ مدینہ سے نکل کر سَلَع پہاڑ کے دامن میں ٹھہرے سلع آپ کی پشت پر تھا اور آپ کے سامنے خندق تھی۔ مہاجرین کا جھنڈا حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں دیا اور انصار کا علمبردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بنایا۔

(زرقانی جلد۲ ص۱۱۱)

-: کفار کا حملہ

-: کفار کا حملہ

کفار قریش اور ان کے اتحادیوں نے دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مسلمانوں پر ہلا بول دیا اور تین طرف سے کافروں کا لشکر اس زور شور کے ساتھ مدینہ پر امنڈ پڑا کہ شہر کی فضاؤں میں گردو غبار کا طوفان اٹھ گیااس خوفناک چڑھائی اور لشکر کفار کے دل بادل کی معرکہ آرائی کا نقشہ قرآن کی زبان سے سنیے :

اِذْ جَآءُوْکُمْ مِّنْ فَوْقِکُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْکُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا ﴿۱۰﴾ هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِيْدًا ﴿۱۱﴾ (احزاب)

(بخاری غزوه اُحد ج۲ ص۵۷۹)

جب کافر تم پر آ گئے تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے اور جب کہ ٹھٹھک کر رہ گئیں نگاہیں اور دل گلوں کے پاس (خوف سے) آ گئے اور تم اﷲ پر (امید و یاس سے) طرح طرح کے گمان کرنے لگے اس جگہ مسلمان آزمائش اور امتحان میں ڈال دیئے گئے اور وہ بڑے زور کے زلزلے میں جھنجھوڑ کر رکھ دیئے گئے۔

منافقین جو مسلمانوں کے دوش بدوش کھڑے تھے وہ کفار کے اس لشکر کو دیکھتے ہی بزدل ہو کر پھسل گئے اور اس وقت ان کے نفاق کا پردہ چاک ہو گیا۔ چنانچہ ان لوگوں نے اپنے گھر جانے کی اجازت مانگنی شروع کر دی۔ جیسا کہ قرآن میں اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ

وَ يَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُيُوْتَنَا عَوْرَةٌ ط وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ ج اِنْ يُّرِيْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا (احزاب)

اور ایک گروہ (منافقین) ان میں سے نبی کی اجازت طلب کرتا تھا منافق کہتے ہیں کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے ہوئے نہیں تھے ان کا مقصد بھاگنے کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔

لیکن اسلام کے سچے جاں نثار مہاجرین و انصار نے جب لشکر کفار کی طوفانی یلغار کو دیکھا تو اس طرح سینہ سپر ہو کر ڈٹ گئے کہ ” سلع ” اور ” احد ” کی پہاڑیاں سر اٹھا اٹھا کر ان مجاہدین کی اولوالعزمی کو حیرت سے دیکھنے لگیں ان جاں نثاروں کی ایمانی شجاعت کی تصویر صفحات قرآن پر بصورت تحریر دیکھیے ارشاد ربانی ہے کہ

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَمَا زَادَهُمْ اِلَّا ٓاِيْمَانًا وَّ تَسْلِيْمًا (احزاب)

اور جب مسلمانوں نے قبائل کفار کے لشکروں کو دیکھا تو بول اٹھے کہ یہ تو وہی منظر ہے جس کا اﷲ اور اسکے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور خدا اور اسکا رسول دونوں سچے ہیں اور اس نے ان کے ایمان و اطاعت کو اور زیادہ بڑھا دیا۔

-: بنو قریظہ کی غداری

-: بنو قریظہ کی غداری

قبیلہ بنو قریظہ کے یہودی اب تک غیر جانبدار تھے لیکن بنو نضیر کے یہودیوں نے ان کو بھی اپنے ساتھ ملا کر لشکر کفار میں شامل کر لینے کی کوشش شروع کر دی چنانچہ حیی بن اخطب ابو سفیان کے مشورہ سے بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کے پاس گیا پہلے تو اسنے اپنا دروازہ نہیں کھولا اور کہا کہ ہم محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے حلیف ہیں اور ہم نے ان کو ہمیشہ اپنے عہد کا پابند پایا ہے اس لئے ہم ان سے عہد شکنی کرنا خلاف مروت سمجھتے ہیں مگر بنو نضیر کے یہودیوں نے اس قدر شدید اصرار کیا اور طرح طرح سے ورغلایا کہ بالآخر کعب بن اسد معاہدہ توڑنے کے لئے راضی ہو گیا، بنو قریظہ نے جب معاہدہ توڑ دیا اور کفار سے مل گئے تو کفار مکہ اور ابو سفیان خوشی سے باغ باغ ہو گئے۔

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو جب اس کی خبر ملی تو آپ نے حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو تحقیق حال کے لئے بنو قریظہ کے پاس بھیجا وہاں جا کر معلوم ہوا کہ واقعی بنو قریظہ نے معاہدہ توڑ دیا ہے جب ان دونوں معزز صحابیوں رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بنو قریظہ کو ان کا معاہدہ یاد دلایا تو ان بد ذات یہودیوں نے انتہائی بے حیائی کے ساتھ یہاں تک کہہ دیا کہ ہم کچھ نہیں جانتے کہ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کون ہیں ؟ اور معاہدہ کس کو کہتے ہیں ؟ ہمارا کوئی معاہدہ ہوا ہی نہیں تھا یہ سن کر دونوں حضرات واپس آگئے اور صورتحال سے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو مطلع کیا تو آپ نے بلند آواز سے ” اﷲ اکبر ” کہا اور فرمایا کہ مسلمانوں ! تم اس سے نہ گھبراؤ نہ اس کا غم کرو اس میں تمہارے لئے بشارت ہے۔

(زرقانی جلد ۲ ص۱۱۳)

کفار کا لشکر جب آگے بڑھا تو سامنے خندق دیکھ کر ٹھہر گیا اور شہر مدینہ کا محاصرہ کر لیا اور تقریباً ایک مہینے تک کفار شہر مدینہ کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے پڑے رہے اور یہ محاصرہ اس سختی کے ساتھ قائم رہا کہ حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر کئی کئی فاقے گزر گئے۔

کفار نے ایک طرف تو خندق کا محاصرہ کر رکھا تھا اور دوسری طرف اس لئے حملہ کرنا چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی عورتیں اور بچے قلعوں میں پناہ گزیں تھے مگر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جہاں خندق کے مختلف حصوں پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو مقرر فرما دیا تھا کہ وہ کفار کے حملوں کا مقابلہ کرتے رہیں اسی طرح عورتوں اور بچوں کی حفاظت کے لئے بھی کچھ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو متعین کر دیا تھا۔

-: انصار کی ایمانی شجاعت

-: انصار کی ایمانی شجاعت

محاصرہ کی وجہ سے مسلمانوں کی پریشانی دیکھ کر حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ خیال کیا کہ کہیں مہاجرین و انصار ہمت نہ ہار جائیں اس لئے آپ نے ارادہ فرمایا کہ قبیلہ غطفان کے سردار عیینہ بن حصن سے اس شرط پر معاہدہ کر لیں کہ وہ مدینہ کی ایک تہائی پیداوار لے لیا کرے اور کفار مکہ کا ساتھ چھوڑ دے مگر جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے اپنا یہ خیال ظاہر فرمایا تو ان دونوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اگر اس بارے میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے وحی اتر چکی ہے جب تو ہمیں اس سے انکار کی مجال ہی نہیں ہو سکتی اور اگر یہ ایک رائے ہے تو یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) جب ہم کفر کی حالت میں تھے اس وقت تو قبیلہ غطفان کے سرکش کبھی ہماری ایک کھجور نہ لے سکے اور اب جب کہ اﷲ تعالیٰ نے ہم لوگوں کو اسلام اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی غلامی کی عزت سے سرفراز فرما دیا ہے تو بھلا کیونکر ممکن ہے کہ ہم اپنا مال ان کافروں کو دے دیں گے ؟ ہم ان کفار کو کھجوروں کا انبار نہیں بلکہ نیزوں اور تلواروں کی مار کا تحفہ دیتے رہیں گے یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے گا، یہ سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور آپ کو پورا پورا اطمینان ہو گیا۔

(زرقانی ج۲ ص۱۱۳)

خندق کی وجہ سے دست بدست لڑائی نہیں ہو سکتی تھی اور کفار حیران تھے کہ اس خندق کو کیونکر پار کریں مگر دونوں طرف سے روزانہ برابر تیر اور پتھر چلا کرتے تھے آخر ایک روز عمرو بن عبدود و عکرمہ بن ابوجہل و ہبیرہ بن ابی وہب و ضرار بن الخطاب وغیرہ کفار کے چند بہادروں نے بنو کنانہ سے کہا کہ اٹھو آج مسلمانوں سے جنگ کرکے بتا دو کہ شہسوار کون ہے ؟ چنانچہ یہ سب خندق کے پاس آ گئے اور ایک ایسی جگہ سے جہاں خندق کی چوڑائی کچھ کم تھی گھوڑا کودا کر خندق کو پار کر لیا۔

-: عمرو بن عبدود مارا گیا

-: عمرو بن عبدود مارا گیا

سب سے آگے عمرو بن عبدود تھا یہ اگرچہ نوے برس کا خرانٹ بڈھا تھا مگر ایک ہزار سواروں کے برابر بہادر مانا جاتا تھا جنگ ِ بدر میں زخمی ہو کر بھاگ نکلا تھا اور اس نے یہ قسم کھا رکھی تھی کہ جب تک مسلمانوں سے بدلہ نہ لے لوں گا بالوں میں تیل نہ ڈالوں گا، یہ آگے بڑھا اور چلا چلا کر مقابلہ کی دعوت دینے لگا تین مرتبہ اس نے کہا کہ کون ہے جو میرے مقابلہ کو آتا ہے ؟ تینوں مرتبہ حضرت علی شیر خدا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے اُٹھ کر جواب دیا کہ ” میں ” حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے روکا کہ اے علی ! کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم یہ عمرو بن عبدود ہے۔ حضرت علی شیر خدا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے عرض کیا کہ جی ہاں میں جانتا ہوں کہ یہ عمرو بن عبدود ہے لیکن میں اس سے لڑوں گا، یہ سن کر تاجدار نبوت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی خاص تلوار ذوالفقار اپنے دست مبارک سے حیدر کرار کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے مقدس ہاتھ میں دے دی اور اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کے سر انور پر عمامہ باندھا اور یہ دعا فرمائی کہ یا اللہ ! عزوجل تو علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی مدد فرما۔ حضرت اسد اﷲ الغالب علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مجاہدانہ شان سے اس کے سامنے کھڑے ہو گئے اور دونوں میں اس طرح مکالمہ شروع ہوا :

اے عمرو بن عبدود ! تو مسلمان ہو جا ! حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ
یہ مجھ سے کبھی ہرگز ہر گز نہیں ہو سکتا! عمرو بن عبدود
لڑائی سے واپس چلا جا! حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ
یہ مجھے منظور نہیں! عمرو بن عبدود
تو پھر مجھ سے جنگ کر! حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ
ہنس کر کہا کہ میں کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دنیا میں کوئی مجھ کو جنگ کی دعوت دے گا۔ عمرو بن عبدود
لیکن میں تجھ سے لڑنا چاہتا ہوں۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ
آخر تمہارا نام کیا ہے؟ عمرو بن عبدود
علی بن ابی طالب حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ
ے بھتیجے!تم ابھی بہت ہی کم عمر ہومیں تمہارا خون ہانا پسند نہیں کرتا۔ عمرو بن عبدود
لیکن میں تمہاراخون بہانے کوبے حدپسندکرتا ہوں۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ

عمرو بن عبدود خون کھولا دینے والے یہ گرم گرم جملے سن کر مارے غصہ کے آپے سے باہر ہو گیا حضرت شیر خداکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم پیدل تھے اور یہ سوار تھا اس پر جو غیرت سوار ہوئی تو گھوڑے سے اتر پڑا اور اپنی تلوار سے گھوڑے کے پاؤں کاٹ ڈالے اور ننگی تلوار لے کر آگے بڑھا اور حضرت شیر خدا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم پر تلوار کا بھر پور وار کیا حضرت شیر خدا نے تلوار کے اس وار کو اپنی ڈھال پر روکا، یہ وار اتنا سخت تھا کہ تلوار ڈھال اور عمامہ کو کاٹتی ہوئی پیشانی پر لگی گو بہت گہرا زخم نہیں لگا مگر پھر بھی زندگی بھر یہ طغریٰ آپ کی پیشانی پر یادگار بن کر رہ گیا حضرت علی شیر خدا رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے تڑپ کر للکارا کہ اے عمرو ! سنبھل جا اب میری باری ہے یہ کہہ کر اسد اﷲ الغالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے ذوالفقار کا ایسا جچاتلا ہاتھ مارا کہ تلوار دشمن کے شانے کو کاٹتی ہوئی کمر سے پار ہو گئی اور وہ تلملا کر زمین پر گرا اور دم زدن میں مر کر فی النار ہو گیا اور میدان کارزار زبان حال سے پکار اٹھا کہ

شاہِ مرداں، شیرِ یزداں قوتِ پروردگار

لَا فَتٰي اِلَّا عَلِي لَا سَيْفَ اِلَّا ذُوالْفِقَار

حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کو قتل کیا اور منہ پھیر کر چل دیئے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے علی ! کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم آپ نے عمرو بن عبدود کی زرہ کیوں نہیں اتار لی ؟ سارے عرب میں اس سے اچھی کوئی زرہ نہیں ہے آپ نے فرمایا کہ اے عمر ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ ذوالفقار کی مار سے وہ اس طرح بے قرار ہو کر زمین پر گرا کہ اس کی شرمگاہ کھل گئی اس لئے حیاء کی وجہ سے میں نے منہ پھیر لیا۔

(زُرقانی ج۲ ص۱۱۴ و ۱۱۵)

-: نوفل کی لاش

-: نوفل کی لاش

اس کے بعد نوفل غصہ میں بپھرا ہوا میدان میں نکلا اور پکارنے لگا کہ میرے مقابلہ کے لئے کون آتا ہے ؟ حضرت زبیر بن العوام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس پر بجلی کی طرح جھپٹے اور ایسی تلوار ماری کہ وہ دو ٹکڑے ہو گیا اور تلوار زین کو کاٹتی ہوئی گھوڑے کی کمر تک پہنچ گئی لوگوں نے کہا کہ اے زبیر ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمہاری تلوار کی تو مثال نہیں مل سکتی آپ نے فرمایا کہ تلوار کیا چیز ہے ؟ کلائی میں دم خم اور ضرب میں کمال چاہیے۔ ہبیرہ اور ضرار بھی بڑے طنطنہ سے آگے بڑھے مگر جب ذوالفقار کا وار دیکھا تو لرزہ براندام ہو کر فرار ہو گئے کفار کے باقی شہسوار بھی جو خندق کو پار کرکے آ گئے تھے وہ سب بھی بھاگ کھڑے ہوئے اور ابوجہل کا بیٹا عکرمہ تو اس قدر بدحواس ہو گیا کہ اپنا نیزہ پھینک کر بھاگا اور خندق کے پار جا کر اس کو قرار آیا۔

(زرقانی جلد ۲ )

بعض مؤرخین کا قول ہے کہ نوفل کو حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے قتل کیا اور بعض نے یہ کہا کہ نوفل حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کی غرض سے اپنے گھوڑے کو کودا کر خندق کو پار کرنا چاہتا تھا کہ خود ہی خندق میں گر پڑا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا بہر حال کفار مکہ نے دس ہزار درہم میں اس کی لاش کو لینا چاہا تا کہ وہ اس کو اعزاز کے ساتھ دفن کریں حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے رقم لینے سے انکار فرما دیا اور ارشاد فرمایا کہ ہم کو اس لاش سے کوئی غرض نہیں مشرکین اس کو لے جائیں اور دفن کریں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

(زرقانی جلد۲ ص۱۱۴)

اس دن کا حملہ بہت ہی سخت تھا دن بھر لڑائی جاری رہی اور دونوں طرف سے تیر اندازی اور پتھر بازی کا سلسلہ برابر جاری رہا اور کسی مجاہد کا اپنی جگہ سے ہٹنا ناممکن تھا، خالد بن ولید نے اپنی فوج کے ساتھ ایک جگہ سے خندق کو پار کر لیا اور بالکل ہی ناگہاں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے خیمہ اقدس پر حملہ آور ہو گیا مگر حضرت اسید بن حضیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کو دیکھ لیا اور دو سو مجاہدین کو ساتھ لے کر دوڑ پڑے اور خالد بن الولید کے دستہ کے ساتھ دست بدست کی لڑائی میں ٹکرا گئے اور خوب جم کر لڑے اس لئے کفار خیمہ اطہر تک نہ پہنچ سکے ۔

(زرقانی جلد۲ ص۱۱۷)

اس گھمسان کی لڑائی میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی نماز عصر قضا ہو گئی۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جنگ خندق کے دن سورج غروب ہونے کے بعد کفار کو برا بھلا کہتے ہوئے بارگاہ ِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میں نماز عصر نہیں پڑھ سکا۔ تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے بھی ابھی تک نماز عصر نہیں پڑھی ہے پھر آپ نے وادی بطحان میں سورج غروب ہو جانے کے بعد نماز عصر قضا پڑھی پھر اس کے بعد نماز مغرب ادا فرمائی۔ اور کفار کے حق میں یہ دعا مانگی کہ

مَلَاَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ بُيُوْتَهُمْ وَ قُبُوْرَهُمْ نَارًا کَمَا شَغَلُوْنَا عَنِ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰي حَتّٰي غَابَتِ الشَّمْسُ

(بخاری ج۲ ص۵۹۰)

اﷲ ان مشرکوں کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے ان لوگوں نے ہم کو نماز وسطیٰ سے روک دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔

جنگ خندق کے دن حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ دعا بھی فرمائی کہ :

اَللّٰهُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ سَرِيْعَ الْحِسَابِ اهْزِمِ الْاَحْزَابَ اَللّٰهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَ زَلْزِلْهُمْ

(بخاری ج۲ ص۵۹۰)

اے اﷲ ! عزوجل اے کتاب نازل فرمانے والے ! جلد حساب لینے والے ! تو ان کفار کے لشکروں کو شکست دے دے، اے اﷲ ! عزوجل ان کو شکست دے اور انہیں جھنجھوڑ دے۔

-: حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خطاب ملا

-: حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خطاب ملا

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جنگ خندق کے موقع پر جب کہ کفار مدینہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اور کسی کے لئے شہر سے باہر نکلنا دشوار تھا تین مرتبہ ارشاد فرمایا کہ کون ہے جو قوم کفار کی خبر لائے ؟ تینوں مرتبہ حضرت زبیر بن العوام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے فرزند ہیں یہ کہا کہ ” میں یا رسول اﷲ ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) خبر لاؤں گا۔ ” حضرت زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اس جان نثاری سے خوش ہوکر تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَّ اِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ

(بخاری ج۲ ص۵۹۰)

ہر نبی کے لئے حواری (مددگار خاص) ہوتے ہیں اور میرا ” حواری ” زبیر ہے۔ اسی طرح حضرت زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بارگاہ رسالت سے ” حواری ” کا خطاب ملا جو کسی دوسرے صحابی کو نہیں ملا۔

-: حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید

-: حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید

اس جنگ میں مسلمانوں کا جانی نقصان بہت ہی کم ہوا یعنی کل چھ مسلمان شہادت سے سرفراز ہوئے مگر انصار کا سب سے بڑا بازو ٹوٹ گیا یعنی حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو قبیلہ اوس کے سردار اعظم تھے، اس جنگ میں ایک تیر سے زخمی ہو گئے اور پھر شفایاب نہ ہو سکے۔

آپ کی شہادت کا واقعہ یہ ہے کہ آپ ایک چھوٹی سی زرہ پہنے ہوئے جوش میں بھرے ہوئے نیزہ لے کر لڑنے کے لئے جا رہے تھے کہ ابن العرقہ نامی کافر نے ایسا نشانہ باندھ کر تیر مارا کہ جس سے آپ کی ایک رگ جس کا نام اکحل ہے وہ کٹ گئی جنگ ختم ہونے کے بعد ان کے لئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں ایک خیمہ گاڑا اور ان کا علاج کرنا شروع کیا۔ خود اپنے دست مبارک سے ان کے زخم کو دو مرتبہ داغا، اسی حالت میں آپ ایک مرتبہ بنی قریظہ تشریف لے گئے اور وہاں یہودیوں کے بارے میں اپنا وہ فیصلہ سنایا جس کا ذکر ” غزوہ قریظہ ” کے عنوان کے تحت آئے گا اس کے بعد وہ اپنے خیمہ میں واپس تشریف لائے اور اب ان کا زخم بھرنے لگ گیا تھا لیکن انہوں نے شوق شہادت میں خداوند تعالیٰ سے یہ دعا مانگی کہ

یااﷲ ! عزوجل تو جانتا ہے کہ کسی قوم سے جنگ کرنے کی مجھے اتنی زیادہ تمنا نہیں ہے جتنی کفار قریش سے لڑنے کی تمنا ہے جنہوں نے تیرے رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو جھٹلایا اور ان کو ان کے وطن سے نکالا، اے اﷲ ! عزوجل میرا تو یہی خیال ہے کہ اب تو نے ہمارے اور کفار قریش کے درمیان جنگ کا خاتمہ کر دیا ہے لیکن اگر ابھی کفار قریش سے کوئی جنگ باقی رہ گئی ہو جب تو مجھے تو زندہ رکھ تا کہ میں تیری راہ میں ان کافروں سے جہاد کروں اور اگر اب ان لوگوں سے کوئی جنگ باقی نہ رہ گئی ہو تو میرے اس زخم کو تو پھاڑ دے اور اسی زخم میں تو مجھے موت عطا فرما دے۔

آپ کی یہ دعا ختم ہوتے ہی بالکل اچانک آپ کا زخم پھٹ گیا اور خون بہ کر مسجد نبوی کے اندر بنی غفار کے خیمہ میں پہنچ گیا ان لوگوں نے چونک کر کہا کہ اے خیمہ والو ! یہ کیسا خون ہے جو تمہارے خیمہ سے بہ کر ہماری طرف آ رہا ہے ؟ جب لوگوں نے دیکھا تو حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زخم سے خون بہ رہا تھا اسی زخم میں ان کی وفات ہو گئی۔

(بخاری ج۲ ص۵۹۱ باب مرجع النبي من الاحزاب)

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موت سے عرش الٰہی ہل گیا اور ان کے جنازہ میں ستر ہزار ملائکہ حاضر ہوئے اور جب ان کی قبر کھودی گئی تو اس میں مشک کی خوشبو آنے لگی۔

(زرقانی ج۲ ص۱۴۳)

عین وفات کے وقت حضور انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کے سرہانے تشریف فرما تھے، انہوں نے آنکھ کھول کر آخری بار جمال نبوت کا نظارہ کیا اور کہا کہ اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ پھر بہ آواز بلند یہ کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں اور آپ نے تبلیغ رسالت کا حق ادا کر دیا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۱۸۱)

-: حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہادری

-: حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہادری

جنگ خندق میں ایک ایسا موقع بھی آیا کہ جب یہودیوں نے یہ دیکھا کہ ساری مسلمان فوج خندق کی طرف مصروفِ جنگ ہے تو جس قلعہ میں مسلمانوں کی عورتیں اور بچے پناہ گزین تھے یہودیوں نے اچانک اس پر حملہ کر دیا اور ایک یہودی دروازہ تک پہنچ گیا، حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے اس کو دیکھ لیا اور حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ تم اس یہودی کو قتل کر دو، ورنہ یہ جا کر دشمنوں کو یہاں کا حال و ماحول بتا دے گا حضرت حسان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اس وقت ہمت نہیں پڑی کہ اس یہودی پر حملہ کریں یہ دیکھ کر خود حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے خیمہ کی ایک چوب اکھاڑ کر اس یہودی کے سر پر اس زور سے مارا کہ اس کا سر پھٹ گیا پھر خود ہی اس کا سر کاٹ کر قلعہ کے باہر پھینک دیا یہ دیکھ کر حملہ آور یہودیوں کو یقین ہو گیا کہ قلعہ کے اندر بھی کچھ فوج موجود ہے اس ڈر سے انہوں نے پھر اس طرف حملہ کرنے کی جراءت ہی نہیں کی۔

(زرقانی ج۲ ص۱۱۱)

-: کفار کیسے بھاگے ؟

-: کفار کیسے بھاگے ؟

حضرت نعیم بن مسعود اشجعی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ قبیلہ غطفان کے بہت ہی معزز سردار تھے اور قریش و یہود دونوں کو ان کی ذات پر پورا پورا اعتماد تھا یہ مسلمان ہو چکے تھے لیکن کفار کو ان کے اسلام کا علم نہ تھا انہوں نے بارگاہ رسالت میں یہ درخواست کی کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں یہود اور قریش دونوں سے ایسی گفتگو کروں کہ دونوں میں پھوٹ پڑ جائے، آپ نے اس کی اجازت دے دی چنانچہ انہوں نے یہود اور قریش سے الگ الگ کچھ اس قسم کی باتیں کیں جس سے واقعی دونوں میں پھوٹ پڑ گئی۔

ابو سفیان شدید سردی کے موسم، طویل محاصرہ، فوج کا راشن ختم ہو جانے سے حیران و پریشان تھا جب اس کو یہ پتا چلا کہ یہودیوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے تو اس کا حوصلہ پست ہو گیا اور وہ بالکل ہی بددل ہو گیا پھر ناگہاں کفار کے لشکر پر قہر قہار و غضب جبار کی ایسی مار پڑی کہ اچانک مشرق کی جانب سے ایسی طوفان خیز آندھی آئی کہ دیگیں چولھوں پر سے الٹ پلٹ ہو گئیں، خیمے اکھڑ اکھڑ کر اڑ گئے اور کافروں پر ایسی وحشت اور دہشت سوار ہو گئی کہ انہیں راہ فرار اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہیں رہا، یہی وہ آندھی ہے جس کا ذکر خداوند قدوس نے قرآن میں اس طرح بیان فرمایا کہ

اَيُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْکُمْ اِذْ جَآءَتْکُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا ط وَ کَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا

(احزاب)

اے ایمان والو ! خدا کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم پر فوجیں آ پڑیں تو ہم نے ان پر آندھی بھیج دی۔ اور ایسی فوجیں بھیجیں جو تمہیں نظر نہیں آتی تھیں اور اﷲ تمہارے کاموں کو دیکھنے والا ہے۔

ابو سفیان نے اپنی فوج میں اعلان کرا دیا کہ راشن ختم ہو چکا، موسم انتہائی خراب ہے، یہودیوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا لہٰذا اب محاصرہ بے کار ہے، یہ کہہ کر کوچ کا نقارہ بجا دینے کا حکم دے دیا اور بھاگ نکلا قبیلہ غطفان کا لشکر بھی چل دیا بنو قریظہ بھی محاصرہ چھوڑ کر اپنے قلعوں میں چلے آئے اور ان لوگوں کے بھاگ جانے سے مدینہ کا مطلع کفار کے گردو غبار سے صاف ہو گیا۔

(مدارج ج۲ ص۱۷۲ و زرقانی ج۲ ص۱۱۶ تا ۱۱۸)

-: غزوہ بنی قریظہ

-: غزوہ بنی قریظہ

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جنگ خندق سے فارغ ہو کر اپنے مکان میں تشریف لائے اور ہتھیار اتار کر غسل فرمایا، ابھی اطمینان کے ساتھ بیٹھے بھی نہ تھے کہ ناگہاں حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور کہا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آپ نے ہتھیار اتار دیا لیکن ہم فرشتوں کی جماعت نے ابھی تک ہتھیار نہیں اتارا ہے اﷲ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بنی قریظہ کی طرف چلیں کیونکہ ان لوگوں نے معاہدہ توڑ کر علانیہ جنگ خندق میں کفار کے ساتھ مل کر مدینہ پر حملہ کیا ہے۔

(مسلم باب جواز قتال من نقض العهد ج ۲ ص۹۵)

چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اعلان کر دیا کہ لوگ ابھی ہتھیار نہ اتاریں اور بنی قریظہ کی طرف روانہ ہو جائیں، حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خود بھی ہتھیار زیب تن فرمایا، اپنے گھوڑے پر جس کا نام ” لحیف ” تھا سوار ہو کر لشکر کے ساتھ چل پڑے اور بنی قریظہ کے ایک کنویں کے پاس پہنچ کر نزول فرمایا۔

(زرقانی ج۲ ص۱۲۸)

بنی قریظہ بھی جنگ کے لئے بالکل تیار تھے چنانچہ جب حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ان کے قلعوں کے پاس پہنچے تو ان ظالم اور عہد شکن یہودیوں نے حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو (معاذ اﷲ) گالیاں دیں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے قلعوں کا محاصرہ فرما لیا اور تقریباً ایک مہینہ تک یہ محاصرہ جاری رہا یہودیوں نے تنگ آکر یہ درخواست پیش کی کہ ” حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہمارے بارے میں جو فیصلہ کر دیں وہ ہمیں منظور ہے۔ “

حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جنگ خندق میں ایک تیر کھا کر شدید طور پر زخمی تھے مگر اسی حالت میں وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر بنی قریظہ گئے اور انہوں نے یہودیوں کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا کہ

“لڑنے والی فوجوں کو قتل کر دیا جائے، عورتیں اور بچے قیدی بنا لئے جائیں اور یہودیوں کا مال و اسباب مال غنیمت بنا کر مجاہدوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ “

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی زبان سے یہ فیصلہ سن کر ارشاد فرمایا کہ یقینا بلا شبہ تم نے ان یہودیوں کے بارے میں وہی فیصلہ سنایا ہے جو اللہ کا فیصلہ ہے۔

(مسلم جلد۲ ص۹۵)

اس فیصلہ کے مطابق بنی قریظہ کی لڑاکا فوجیں قتل کی گئیں اور عورتوں بچوں کو قیدی بنا لیا گیا اور ان کے مال و سامان کو مجاہدین اسلام نے مال غنیمت بنا لیا اور اس شریر و بدعہد قبیلہ کے شر و فساد سے ہمیشہ کے لئے مسلمان پرامن و محفوظ ہو گئے۔

یہودیوں کا سردار حیی بن اخطب جب قتل کیلئے مقتل میں لایا گیا تو اس نے قتل ہونے سے پہلے یہ الفاظ کہے کہ

اے محمد ! (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) خدا کی قسم ! مجھے اس کا ذرا بھی افسوس نہیں ہے کہ میں نے کیوں تم سے عداوت کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو خدا کو چھوڑ دیتا ہے، خدا بھی اس کو چھوڑ دیتا ہے، لوگو! خدا کے حکم کی تعمیل میں کوئی مضائقہ نہیں بنی قریظہ کا قتل ہونا یہ ایک حکم الٰہی تھا یہ (توراۃ) میں لکھا ہوا تھایہ ایک سزا تھی جو خدا نے بنی اسرائیل پر لکھی تھی۔

(سيرت ابن هشام غزوه بنو قريظه ج۳ ص۲۴۱)

یہ حیی بن اخطب وہی بدنصیب ہے کہ جب وہ مدینہ سے جلا وطن ہو کر خیبر جا رہا تھا تو اس نے یہ معاہدہ کیا تھا کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مخالفت پر میں کسی کو مدد نہ دوں گا اور اس عہد پر اس نے خدا کو ضامن بنایا تھا لیکن جنگ خندق کے موقع پر اس نے اس معاہدہ کو کس طرح توڑ ڈالا یہ آپ گزشتہ اوراق میں پڑھ چکے کہ اس ظالم نے تمام کفار عرب کے پاس دورہ کرکے سب کو مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے ابھارا پھر بنو قریظہ کو بھی معاہدہ توڑنے پر اکسایا پھر خود جنگ خندق میں کفار کے ساتھ مل کر لڑائی میں شامل ہوا۔

۵ ھ کے متفرق واقعات :-

۵ ھ کے متفرق واقعات :-

{۱} اس سال حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت بی بی زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا۔

{۲} اسی سال مسلمان عورتوں پر پردہ فرض کردیا گیا۔

{۳} اسی سال حد قذف (کسی پر زنا کی تہمت لگانے کی سزا) اور لعان و ظہار کے احکام نازل ہوئے۔

{۴} اسی سال تیمم کی آیت نازل ہوئی۔

{۵} اسی سال نماز خوف کا حکم نازل ہوا۔