ہجرت کا چوتھا سال


ہجرت کا چوتھا سال بھی کفار کے ساتھ چھوٹی بڑی لڑائیوں ہی میں گزرا۔ جنگ ِ بدر کی فتح مبین سے مسلمانوں کا رعب تمام قبائل عرب پر بیٹھ گیا تھا اس لئے تمام قبیلے کچھ دنوں کے لئے خاموش بیٹھ گئے تھے لیکن جنگ ِ اُحد میں مسلمانوں کے جانی نقصان کا چرچا ہو جانے سے دوبارہ تمام قبائل دفعۃً اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کے لئے کھڑے ہو گئے اور مجبوراً مسلمانوں کو بھی اپنے دفاع کے لئے لڑائیوں میں حصہ لینا پڑا۔ ۴ ھ کی مشہور لڑائیوں میں سے چند یہ ہیں:

سریہ ابو سلمہ :۔

یکم محرم ۴ ھ کو ناگہاں ایک شخص نے مدینہ میں یہ خبر پہنچائی کہ طلیحہ بن خویلد اور سلمہ بن خویلد دونوں بھائی کفار کا لشکر جمع کر کے مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لئے نکل پڑے ہیں۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس لشکر کے مقابلہ میں حضرت ابو سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ڈیڑھ سو مجاہدین کے ساتھ روانہ فرمایا جس میں حضرت ابو سبرہ اور حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما جیسے معزز مہاجرین و انصار بھی تھے، لیکن کفار کو جب پتہ چلا کہ مسلمانوں کا لشکر آ رہا ہے تو وہ لوگ بہت سے اونٹ اور بکریاں چھوڑ کر بھاگ گئے جن کو مسلمان مجاہدین نے مال غنیمت بنا لیا اور لڑائی کی نوبت ہی نہیں آئی۔ (زرقانی ج۲ ص۶۲)

سریہ عبداﷲ بن انیس :۔

محرم ۴ ھ کو اطلاع ملی کہ ” خالد بن سفیان ہزلی ” مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے فوج جمع کر رہا ہے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کے مقابلہ کے لئے حضرت عبداﷲ بن انیس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بھیج دیا۔ آپ نے موقع پا کر خالد بن سفیان ہزلی کو قتل کر دیا اور اس کا سر کاٹ کر مدینہ لائے اور تاجدارِ دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عبداﷲ بن انیس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بہادری اور جان بازی سے خوش ہو کر ان کو اپنا عصا (چھڑی) عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تم اسی عصا کو ہاتھ میں لیکر جنت میں چہل قدمی کرو گے۔ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم قیامت کے دن یہ مبارک عصا میرے پاس نشانی کے طور پر رہے گا۔ چنانچہ انتقال کے وقت انہوں نے یہ وصیت فرمائی کہ اس عصا کو میرے کفن میں رکھ دیا جائے۔ (زرقانی ج۲ ص۶۴)