ہجرت کا چوتھا سال

-: سریہ ابو سلمہ

ہجرت کا چوتھا سال بھی کفار کے ساتھ چھوٹی بڑی لڑائیوں ہی میں گزرا۔ جنگ ِ بدر کی فتح مبین سے مسلمانوں کا رعب تمام قبائل عرب پر بیٹھ گیا تھا اس لئے تمام قبیلے کچھ دنوں کے لئے خاموش بیٹھ گئے تھے لیکن جنگ ِ اُحد میں مسلمانوں کے جانی نقصان کا چرچا ہو جانے سے دوبارہ تمام قبائل دفعۃً اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کے لئے کھڑے ہو گئے اور مجبوراً مسلمانوں کو بھی اپنے دفاع کے لئے لڑائیوں میں حصہ لینا پڑا۔ ۴ ھ کی مشہور لڑائیوں میں سے چند یہ ہیں:

-: سریہ ابو سلمہ

یکم محرم ۴ ھ کو ناگہاں ایک شخص نے مدینہ میں یہ خبر پہنچائی کہ طلیحہ بن خویلد اور سلمہ بن خویلد دونوں بھائی کفار کا لشکر جمع کر کے مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لئے نکل پڑے ہیں۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس لشکر کے مقابلہ میں حضرت ابو سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ڈیڑھ سو مجاہدین کے ساتھ روانہ فرمایا جس میں حضرت ابو سبرہ اور حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما جیسے معزز مہاجرین و انصار بھی تھے، لیکن کفار کو جب پتہ چلا کہ مسلمانوں کا لشکر آ رہا ہے تو وہ لوگ بہت سے اونٹ اور بکریاں چھوڑ کر بھاگ گئے جن کو مسلمان مجاہدین نے مال غنیمت بنا لیا اور لڑائی کی نوبت ہی نہیں آئی۔

(زرقانی ج۲ ص۶۲)

-: سریہ عبداﷲ بن انیس

-: سریہ عبداﷲ بن انیس

محرم ۴ ھ کو اطلاع ملی کہ ” خالد بن سفیان ہزلی ” مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے فوج جمع کر رہا ہے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کے مقابلہ کے لئے حضرت عبداﷲ بن انیس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بھیج دیا۔ آپ نے موقع پا کر خالد بن سفیان ہزلی کو قتل کر دیا اور اس کا سر کاٹ کر مدینہ لائے اور تاجدارِ دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عبداﷲ بن انیس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بہادری اور جان بازی سے خوش ہو کر ان کو اپنا عصا (چھڑی) عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تم اسی عصا کو ہاتھ میں لیکر جنت میں چہل قدمی کرو گے۔ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم قیامت کے دن یہ مبارک عصا میرے پاس نشانی کے طور پر رہے گا۔ چنانچہ انتقال کے وقت انہوں نے یہ وصیت فرمائی کہ اس عصا کو میرے کفن میں رکھ دیا جائے۔

(زرقانی ج۲ ص۶۴)

-: حادثۂ رجیع

-: حادثۂ رجیع

عسفان و مکہ کے درمیان ایک مقام کا نام ” رجیع ” ہے۔ یہاں کی زمین سات مقدس صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے خون سے رنگین ہوئی اس لئے یہ واقعہ ” سریۂ رجیع ” کے نام سے مشہور ہے۔ یہ درد ناک سانحہ بھی ۴ ھ میں پیش آیا۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ قبیلہ عضل و قارہ کے چند آدمی بارگاہ رسالت میں آئے اور عرض کیا کہ ہمارے قبیلہ والوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اب آپ چند صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو وہاں بھیج دیں تا کہ وہ ہماری قوم کو عقائد و اعمال اسلام سکھا دیں۔ ان لوگوں کی درخواست پر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دس منتخب صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو حضرت عاصم بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ماتحتی میں بھیج دیا۔ جب یہ مقدس قافلہ مقام رجیع پر پہنچا تو غدار کفار نے بدعہدی کی اور قبیلۂ بنو لحیان کے کافروں نے دو سو کی تعداد میں جمع ہو کر ان دس مسلمانوں پر حملہ کر دیا مسلمان اپنے بچاؤ کے لئے ایک اونچے ٹیلہ پر چڑھ گئے۔

کافروں نے ترک چلانا شروع کیا اور مسلمانوں نے ٹیلے کی بلندی سے سنگ باری کی۔ کفار نے سمجھ لیا کہ ہم ہتھیاروں سے ان مسلمانوں کو ختم نہیں کر سکتے تو ان لوگوں نے دھوکہ دیا اور کہا کہ اے مسلمانو ! ہم تم لوگوں کو امان دیتے ہیں اور اپنی پناہ میں لیتے ہیں اس لئے تم لوگ ٹیلے سے اتر آؤ حضرت عاصم بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں کسی کافر کی پناہ میں آنا گوارا نہیں کر سکتا۔ یہ کہہ کر خدا سے دعا مانگی کہ ” یا اﷲ ! تو اپنے رسول کو ہمارے حال سے مطلع فرما دے۔ ” پھر وہ جوش جہاد میں بھرے ہوئے ٹیلے سے اترے اور کفار سے دست بدست لڑتے ہوئے اپنے چھ ساتھوں کے ساتھ شہید ہو گئے۔ چونکہ حضرت عاصم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جنگ ِ بدر کے دن بڑے بڑے کفار قریش کو قتل کیا تھا اس لئے جب کفار مکہ کو حضرت عاصم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا پتہ چلا تو کفار مکہ نے چند آدمیوں کو مقام رجیع میں بھیجا تا کہ ان کے بدن کا کوئی ایسا حصہ کاٹ کر لائیں جس سے شناخت ہو جائے کہ واقعی حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ قتل ہو گئے ہیں لیکن جب کفار آپ کی لاش کی تلاش میں اس مقام پر پہنچے تو اس شہید کی یہ کرامت دیکھی کہ لاکھوں کی تعداد میں شہد کی مکھیوں نے ان کی لاش کے پاس اس طرح گھیرا ڈال رکھا ہے جس سے وہاں تک پہنچنا ہی نا ممکن ہوگیا ہے اس لئے کفارِ مکہ نا کام واپس چلے گئے۔

(زرقانی ج۲ ص۷۳ و بخاری ج۲ ص۵۶۹)

باقی تین اشخاص حضرت خبیب و حضرت زید بن دثنہ و حضرت عبداﷲ بن طارق رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کفار کی پناہ پر اعتماد کر کے نیچے اترے تو کفار نے بد عہدی کی اور اپنی کمان کی تانتوں سے ان لوگوں کو باندھنا شروع کر دیا، یہ منظر دیکھ کر حضرت عبداﷲ بن طارق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ تم لوگوں کی پہلی بد عہدی ہے اور میرے لئے اپنے ساتھیوں کی طرح شہید ہو جانا بہتر ہے۔ چنانچہ وہ ان کافروں سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔

(بخاری ج۲ ص۵۶۸ و زُرقانی ج۲ ص۶۷)

لیکن حضرت خبیب اور حضرت زید بن دثنہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو کافروں نے باندھ دیا تھا اس لئے یہ دونوں مجبور ہو گئے تھے۔ ان دونوں کو کفار نے مکہ میں لے جا کر بیچ ڈالا۔ حضرت خبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جنگ ِ اُحد میں حارث بن عامر کو قتل کام تھا اس لئے اس کے لڑکوں نے ان کو خرید لیا تا کہ ان کو قتل کر کے باپ کے خون کا بدلہ لیا جائے اور حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اُمیہ کے بیٹے صفوان نے قتل کرنے کے ارادہ سے خریدا۔ حضرت خبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو کافروں نے چند دن قید میں رکھا پھر حدود ِ حرم کے باہر لے جا کر سولی پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قاتلوں سے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت طلب کی، قاتلوں نے اجازت دے دی۔ آپ نے بہت مختصر طور پر دو رکعت نماز ادا فرمائی اور فرمایا کہ اے گروہ کفار ! میرا دل تو یہی چاہتا تھا کہ دیر تک نماز پڑھتا رہوں کیونکہ یہ میری زندگی کی آخری نماز تھی مگر مجھ کو یہ خیال آ گیا کہ کہیں تم لوگ یہ نہ سمجھ لو کہ میں موت سے ڈر رہا ہوں۔ کفار نے آپ کو سولی پر چڑھا دیا اس وقت آپ نے یہ اشعار پڑھے ؎

وَذَالِكَ فِيْ ذَاتِ الْاِ لٰهِ وَاِنْ يَّشَأْ

يُبَارِكْ عَلٰي اَوْصَالِ شِلْوٍ مُّمَزَّعٖ

یہ سب کچھ خدا کے لئے ہے اگر وہ چاہے گا تو میرے کٹے پٹے جسم کے ٹکڑوں پر برکت نازل فرمائے گا۔

حارث بن عامر کے لڑکے ” ابو سروعہ ” نے آپ کو قتل کیا مگر خدا کی شان کہ یہی ابو سروعہ اور ان کے دونوں بھائی ” عقبہ ” اور ” حجیر ” پھر بعد میں مشرف بہ اسلام ہو کر صحابیت کے شرف و اعزاز سے سرفراز ہو گئے۔

(بخاری ج۲ ص۵۶۹ و زُرقانی ج۲ ص۶۴ تا ۷۸)

-: حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر

-: حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ حضرت خبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شہادت سے مطلع فرمایا۔ آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ جو شخص خبیب کی لاش کو سولی سے اتار لائے اس کے لئے جنت ہے۔ یہ بشارت سن کر حضرت زبیر بن العوام و حضرت مقداد بن الاسود رضی اﷲ تعالیٰ عنہما راتوں کو سفر کرتے اور دن کو چھپتے ہوئے مقام ” تنعیم ” میں حضرت خبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی سولی کے پاس پہنچے۔ چالیس کفار سولی کے پہرہ دار بن کر سو رہے تھے ان دونوں حضرات نے سولی سے لاش کو اُتارا اور گھوڑے پر رکھ کر چل دیئے۔ چالیس دن گزر جانے کے باوجود لاش ترو تازہ تھی اور زخموں سے تازہ خون ٹپک رہا تھا۔ صبح کو قریش کے ستر سوار تیز رفتار گھوڑوں پر تعاقب میں چل پڑے اور ان دونوں حضرات کے پاس پہنچ گئے، ان حضرات نے جب دیکھا کہ قریش کے سوار ہم کو گرفتار کر لیں گے تو انہوں نے حضرت خبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی لاش مبارک کو گھوڑے سے اتار کر زمین پر رکھ دیا۔ خدا کی شان کہ ایک دم زمین پھٹ گئی اور لاش مبارک کو نگل گئی اور پھر زمین اس طرح برابر ہو گئی کہ پھٹنے کا نشان بھی باقی نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت خبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا لقب ” بلیع الارض ” (جن کو زمین نگل گئی) ہے۔

اس کے بعد ان حضرات رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کفار سے کہا کہ ہم دو شیر ہیں جو اپنے جنگل میں جا رہے ہیں اگر تم لوگوں سے ہو سکے تو ہمارا راستہ روک کر دیکھو ورنہ اپنا راستہ لو۔ کفار نے ان حضرات کے پاس لاش نہیں دیکھی اس لئے مکہ واپس چلے گئے۔ جب دونوں صحابہ کرام نے بارگاہ رسالت میں سارا ماجرا عرض کیا تو حضرت جبریل علیہ السلام بھی حاضر دربار تھے۔ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آپ کے ان دونوں یاروں کے اس کارنامہ پر ہم فرشتوں کی جماعت کو بھی فخر ہے۔

(مدارج النبوۃ جلد۲ ص۱۴۱)

-: حضرت زید کی شہادت

-: حضرت زید کی شہادت

حضرت زید بن دثنہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے قتل کا تماشہ دیکھنے کے لئے کفار قریش کثیر تعداد میں جمع ہو گئے جن میں ابو سفیان بھی تھے۔ جب ان کو سولی پر چڑھا کر قاتل نے تلوار ہاتھ میں لی تو ابو سفیان نے کہا کہ کیوں ؟ اے زید ! سچ کہنا، اگر اس وقت تمہاری جگہ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اس طرح قتل کئے جاتے تو کیا تم اس کو پسند کرتے ؟ حضرت زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ابو سفیان کی اس طعنہ زنی کو سن کر تڑپ گئے اور جذبات سے بھری ہوئی آواز میں فرمایا کہ اے ابو سفیان ! خدا کی قسم ! میں اپنی جان کو قربان کر دینا عزیز سمجھتا ہوں مگر میرے پیارے رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقدس پاؤں کے تلوے میں ایک کانٹا بھی چبھ جائے۔ مجھے کبھی بھی یہ گوارا نہیں ہو سکتا۔ ؎

مجھے ہو ناز قسمت پر اگر نام محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) پر

یہ سر کٹ جائے اور تیرا کف پا اس کو ٹھکرائے

یہ سب کچھ ہے گوارا پر یہ مجھ سے ہو نہیں سکتا

کہ انکے پاؤں کے تلوے میں اک کانٹا بھی چبھ جائے

یہ سن کر ابو سفیان نے کہا کہ میں نے بڑے بڑے محبت کرنے والوں کو دیکھا ہے۔ مگر محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے عاشقوں کی مثال نہیں مل سکتی۔ صفوان کے غلام ” نسطاس ” نے تلوار سے ان کی گردن ماری۔

(زرقانی ج۲ ص۷۳)

-: واقعہ ٔ بیر معونہ

-: واقعہ ٔ بیر معونہ

ماہ صفر ۴ ھ میں ” بیر معونہ ” کا مشہور واقعہ پیش آیا۔ ابو براء عامر بن مالک جو اپنی بہادری کی وجہ سے ” ملاعب الاسنہ ” (برچھیوں سے کھیلنے والا) کہلاتا تھا، بارگاہ رسالت میں آیا، حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو اسلام کی دعوت دی، اس نے نہ تو اسلام قبول کیا نہ اس سے کوئی نفرت ظاہر کی بلکہ یہ درخواست کی کہ آپ اپنے چند منتخب صحابہ کو ہمارے دیار میں بھیج دیجئے مجھے امید ہے کہ وہ لوگ اسلام کی دعوت قبول کر لیں گے۔ آ پ نے فرمایا کہ مجھے نجد کے کفار کی طرف سے خطرہ ہے۔ ابو براء نے کہا کہ میں آپ کے اصحاب کی جان و مال کی حفاظت کا ضامن ہوں۔

اس کے بعد حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ میں سے ستر منتخب صالحین کو جو ” قراء ” کہلاتے تھے بھیج دیا۔ یہ حضرات جب مقام ” بیر معونہ ” پر پہنچے تو ٹھہر گئے اور صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے قافلہ سالار حضرت حرام بن ملحان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا خط لے کر عامر بن طفیل کے پاس اکیلے تشریف لے گئے جو قبیلہ کا رئیس اور ابو براء کا بھتیجا تھا۔ اس نے خط کو پڑھا بھی نہیں اور ایک شخص کو اشارہ کر دیا جس نے پیچھے سے حضرت حرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو نیزہ مار کر شہید کر دیا اور آس پاس کے قبائل یعنی رعل و ذکوان اور عصیہ و بنو لحیان وغیرہ کو جمع کر کے ایک لشکر تیار کر لیا اور صحابہ کرام پر حملہ کے لئے روانہ ہو گیا۔ حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم بیر معونہ کے پاس بہت دیر تک حضرت حرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی واپسی کا انتظار کرتے رہے مگر جب بہت زیادہ دیر ہو گئی تو یہ لوگ آگے بڑھے راستہ میں عامر بن طفیل کی فوج کا سامنا ہوا اور جنگ شروع ہو گئی کفار نے حضرت عمر و بن امیہ ضمری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے سوا تمام صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو شہید کر دیا، انہی شہداء کرام میں حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی تھے۔ جن کے بارے میں عامر بن طفیل کا بیان ہے کہ قتل ہونے کے بعد ان کی لاش بلند ہو کر آسمان تک پہنچی پھر زمین پر آ گئی، اس کے بعد ان کی لاش تلاش کرنے پر بھی نہیں ملی کیونکہ فرشتوں نے انہیں دفن کر دیا۔

(بخاری ج۲ ص۵۸۷ باب غزوة الرجيع)

حضرت عمرو بن اُمیہ ضمری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو عامر بن طفیل نے یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ میری ماں نے ایک غلام آزاد کرنے کی منت مانی تھی اس لئے میں تم کو آزاد کرتا ہوں یہ کہا اور ان کی چوٹی کا بال کاٹ کر ان کو چھوڑ دیا۔ حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ وہاں سے چل کر جب مقامِ ” قرقرہ ” میں آئے تو ایک درخت کے سائے میں ٹھہرے وہیں قبیلۂ بنو کلاب کے دو آدمی بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔ جب وہ دونوں سو گئے تو حضرت عامر بن اُمیہ ضمری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں کافروں کو قتل کر دیا اور یہ سوچ کر دل میں خوش ہو رہے تھے کہ میں نے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے خون کا بدلہ لے لیا ہے مگر ان دونوں شخصوں کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم امان دے چکے تھے جس کا حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو علم نہ تھا۔ جب مدینہ پہنچ کر انہوں نے سارا حال دربار رسالت میں بیان کیا تو اصحاب بیر معونہ کی شہادت کی خبر سن کر سرکار رسالت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اتنا عظیم صدمہ پہنچا کہ تمام عمر شریف میں کبھی بھی اتنا رنج و صدمہ نہیں پہنچا تھا۔ چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مہینہ بھر تک قبائل رعل و ذکوان اور عصیہ و بنو لحیان پر نماز فجر میں لعنت بھیجتے رہے اور حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جن دو شخصوں کو قتل کر دیا تھا حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان دونوں کے خون بہا ادا کرنے کا اعلان فرمایا۔

(بخاری ج۱ ص۱۳۶ و زُرقانی ج۲ ص۷۴ تا ۷۸)

-: غزوۂ بنو نضیر

-: غزوۂ بنو نضیر

حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے قبیلۂ بنو کلاب کے جن دو شخصوں کو قتل کر دیا تھا اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان دونوں کا خون بہا ادا کرنے کا اعلان فرما دیا تھا اسی معاملہ کے متعلق گفتگو کرنے کے لئے حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم قبیلۂ بنو نضیر کے یہودیوں کے پاس تشریف لے گئے کیونکہ ان یہودیوں سے آپ کا معاہدہ تھا مگر یہودی در حقیقت بہت ہی بد باطن ذہنیت والی قوم ہیں معاہدہ کر لینے کے باوجود ان خبیثوں کے دلوں میں پیغمبر اسلام صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی دشمنی اور عناد کی آگ بھری ہوئی تھی۔ ہر چند حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان بد باطنوں سے اہل کتاب ہونے کی بنا پر اچھا سلوک فرماتے تھے مگر یہ لوگ ہمیشہ اسلام کی بیخ کنی اور بانیٔ اسلام کی دشمنی میں مصروف رہے۔ مسلمانوں سے بغض و عناد اور کفار و منافقین سے ساز باز اور اتحاد یہی ہمیشہ ان غداروں کا طرزِ عمل رہا۔ چنانچہ اس موقع پر جب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان یہودیوں کے پاس تشریف لے گئے تو ان لوگوں نے بظاہر تو بڑے اخلاق کا مظاہرہ کیا مگر اندرونی طور پر بڑی ہی خوفناک سازش اور انتہائی خطرناک اسکیم کا منصوبہ بنا لیا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوبکر و حضرت عمر و حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہم بھی تھے یہودیوں نے ان سب حضرات کو ایک دیوار کے نیچے بڑے احترام کے ساتھ بٹھایااور آپس میں یہ مشورہ کیا کہ چھت پر سے ایک بہت ہی بڑا اور وزنی پتھر ان حضرات پر گرا دیں تا کہ یہ سب لوگ دب کر ہلاک ہوجائیں۔ چنانچہ عمرو بن جحاش اس مقصد کے لئے چھت کے اوپر چڑھ گیا، محافظ ِ حقیقی پروردگار عالم عزوجل نے اپنے حبیب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہودیوں کی اس ناپاک سازش سے بذریعہ وحی مطلع فرما دیااس لئے فوراً ہی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کر چپ چاپ اپنے ہمراہیوں کے ساتھ چلے آئے اور مدینہ تشریف لا کر صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو یہودیوں کی اس سازش سے آگاہ فرمایااور انصار و مہاجرین سے مشورہ کے بعد ان یہودیوں کے پاس قاصد بھیج دیا کہ چونکہ تم لوگوں نے اپنی اس دسیسہ کاری اور قاتلانہ سازش سے معاہدہ توڑ دیا اس لئے اب تم لوگوں کو دس دن کی مہلت دی جاتی ہے کہ تم اس مدت میں مدینہ سے نکل جاؤ، اس کے بعد جو شخص بھی تم میں کا یہاں پایا جائے گا قتل کر دیا جائے گا۔ شہنشاہ مدینہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن کر بنو نضیر کے یہودی جلا وطن ہونے کے لئے تیار ہو گئے تھے مگر منافقوں کا سردار عبداﷲ ابن ابی ان یہودیوں کا حامی بن گیا اور اس نے کہلا بھیجا کہ تم لوگ ہرگز ہرگز مدینہ سے نہ نکلو ہم دو ہزار آدمیوں سے تمہاری مدد کرنے کو تیار ہیں اس کے علاوہ بنو قریظہ اور بنو غطفان یہودیوں کے دو طاقتور قبیلے بھی تمہاری مدد کریں گے۔ بنو نضیر کے یہودیوں کو جب اتنا بڑا سہارا مل گیا تو وہ شیر ہوگئے اور انہوں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس کہلا بھیجا کہ ہم مدینہ چھوڑ کر نہیں جا سکتے آپ کے جو دل میں آئے کر لیجیے۔

(مدارج جلد۲ ص۱۴۷)

یہودیوں کے اس جواب کے بعد حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کی امامت حضرت ابن اُمِ مکتوم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے سپرد فرما کر خود بنو نضیر کا قصد فرمایا اور ان یہودیوں کے قلعہ کا محاصرہ کر لیا یہ محاصرہ پندرہ دن تک قائم رہا قلعہ میں باہر سے ہر قسم کے سامانوں کا آنا جانا بند ہو گیا اور یہودی بالکل ہی محصور و مجبور ہو کر رہ گئے مگر اس موقع پر نہ تو منافقوں کا سردار عبداﷲ بن ابی یہودیوں کی مدد کے لئے آیا نہ بنو قریظہ اور بنو غطفان نے کوئی مدد کی۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے ان دغابازوں کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ

كَمَثَلِ الشَّيْطٰنِ اِذْ قَالَ لِـلْاِنْسَانِ اكْفُرْج فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّيْ بَرِيْٓيٌ مِّنْكَ اِنِّيْٓ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ (سوره حشر)

ان لوگوں کی مثال شیطان جیسی ہے جب اس نے آدمی سے کہا کہ تو کفر کر پھر جب اس نے کفر کیا تو بولا کہ میں تجھ سے الگ ہوں میں اﷲ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا پالنے والا ہے۔

یعنی جس طرح شیطان آدمی کو کفر پر ابھارتا ہے لیکن جب آدمی شیطان کے ور غلانے سے کفر میں مبتلا ہو جاتا ہے تو شیطان چپکے سے کھسک کر پیچھے ہٹ جاتا ہے اسی طرح منافقوں نے بنو نضیر کے یہودیوں کو شہ دے کر دلیر بنا دیا اور اﷲ کے حبیب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے لڑا دیا لیکن جب بنو نضیر کے یہودیوں کو جنگ کا سامنا ہوا تو منافق چھپ کر اپنے گھروں میں بیٹھ رہے۔

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قلعہ کے محاصرہ کے ساتھ قلعہ کے آس پاس کھجوروں کے کچھ درختوں کو بھی کٹوا دیا کیونکہ ممکن تھا کہ درختوں کے جھنڈ میں یہودی چھپ کر اسلامی لشکر پر چھاپا مارتے اور جنگ میں مسلمانوں کو دشواری ہو جاتی۔

ان درختوں کو کاٹنے کے بارے میں مسلمانوں کے دو گروہ ہو گئے، کچھ لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ درخت نہ کاٹے جائیں کیونکہ فتح کے بعد یہ سب درخت مالِ غنیمت بن جائیں گے اور مسلمان ان سے نفع اٹھائیں گے اور کچھ لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ درختوں کے جھنڈ کو کاٹ کر صاف کر دینے سے یہودیوں کی کمین گاہوں کو برباد کرنا اور ان کو نقصان پہنچا کر غیظ و غضب میں ڈالنا مقصود ہے، لہٰذا ان درختوں کو کاٹ دینا ہی بہتر ہے اس موقع پر سورۂ حشر کی یہ آیت اتری:

مَاقَطَعْتُمْ مِّنْ لِّيْنَةٍ اَوْ تَرَکْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰي اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَلِيُخْزِيَ الْفٰسِقِيْنَ

جو درخت تم نے کاٹے یا جن کو انکی جڑوں پر قائم چھوڑ دیے یہ سب اﷲ کے حکم سے تھا تا کہ خدا فاسقوں کو رسوا کرے

مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں میں جو درخت کاٹنے والے ہیں ان کا عمل بھی درست ہے اور جو کاٹنا نہیں چاہتے وہ بھی ٹھیک کہتے ہیں کیونکہ کچھ درختوں کو کاٹنا اور کچھ کو چھوڑ دینا یہ دونوں اﷲ تعالیٰ کے حکم اور اس کی اجازت سے ہیں۔

بہر حال آخر کار محاصرہ سے تنگ آ کر بنو نضیر کے یہودی اس بات پر تیار ہو گئے کہ وہ اپنا اپنا مکان اور قلعہ چھوڑ کر اس شرط پر مدینہ سے باہر چلے جائیں گے کہ جس قدر مال و اسباب وہ اونٹوں پر لے جا سکیں لے جائیں، حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہودیوں کی اس شرط کو منظور فرما لیااور بنو نضیر کے سب یہودی چھ سو اونٹوں پر اپنا مال و سامان لاد کر ایک جلوس کی شکل میں گاتے بجاتے ہوئے مدینہ سے نکلے کچھ تو ” خیبر ” چلے گئے اور زیادہ تعداد میں ملک شام جا کر ” اذرعات ” اور ” اریحاء ” میں آباد ہو گئے۔

ان لوگوں کے چلے جانے کے بعد ان کے گھروں کی مسلمانوں نے جب تلاشی لی تو پچاس لوہے کی ٹوپیاں، پچاس زرہیں، تین سو چالیس تلواریں نکلیں جو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قبضہ میں آئیں۔

(زرقانی ج۲ ص۷۹ تا ۸۵)

هُوَ الَّذِيْٓ اَخْرَجَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْکِتٰبِ مِنْ دِيَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ ط مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ يَّخْرُجُوْا وَظَنُّوْآ اَنَّهُمْ مَّا نِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰـهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوْا وَقَذَفَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُوْنَ بُيُوْتَهُمْ بِاَيْدِيْهِمْ وَاَيْدِي الْمُؤْمِنِيْنَق فَاعْتَبِرُوْا يٰٓـاُولِي الْاَبْصَارِ (حشر)

اﷲ وہی ہے جس نے کافر کتابیوں کو ان کے گھروں سے نکالا ان کے پہلے حشر کیلئے (اے مسلمانوں !) تمہیں یہ گمان نہ تھا کہ وہ نکلیں گے اور وہ سمجھتے تھے کہ انکے قلعے انہیں اﷲ سے بچا لیں گے تو اﷲ کا حکم ان کے پاس آ گیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا اور اس نے ان کے دلوں میں خوف ڈال دیا کہ وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے ویران کرتے ہیں تو عبرت پکڑو اے نگاہ والو !

-: بدر صغریٰ

-: بدر صغریٰ

جنگ ِ اُحد سے لوٹتے وقت ابو سفیان نے کہا تھا کہ آئندہ سال بدر میں ہمارا تمہارا مقابلہ ہو گا۔ چنانچہ شعبان یا ذوالقعدہ ۴ ھ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ کے نظم و نسق کا انتظام حضرت عبداﷲ بن رواحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے سپرد فرما کر لشکر کے ساتھ بدر میں تشریف لے گئے۔ آٹھ روز تک کفار کا انتظار کیا ادھر ابو سفیان بھی فوج کے ساتھ چلا، ایک منزل چلا تھا کہ اس نے اپنے لشکر سے یہ کہا کہ یہ سال جنگ کے لئے مناسب نہیں ہے۔ کیونکہ اتنا زبردست قحط پڑا ہوا ہے کہ نہ آدمیوں کے لئے دانہ پانی ہے نہ جانوروں کے لئے گھاس چارا، یہ کہہ کر ابو سفیان مکہ واپس چلا گیا، مسلمانوں کے پاس کچھ مال تجارت بھی ساتھ تھا جب جنگ نہیں ہوئی تو مسلمانوں نے تجارت کرکے خوب نفع کمایا اور مدینہ واپس چلے آئے۔

(مدارج جلد۲ ص۱۵۱ وغيرہ)

۴ ھ کے متفرق واقعات :-

۴ ھ کے متفرق واقعات :-

{۱} اسی سال غزوۂ بنو نضیر کے بعد جب انصار نے کہا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بنو نضیر کے جو اموال غنیمت میں ملے ہیں وہ سب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہمارے مہاجر بھائیوں کو دے دیجیے ہم اس میں سے کسی چیز کے طلب گار نہیں ہیں تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خوش ہو کر یہ دعا فرمائی کہ

اَللّٰهُمَّ ارْحَمِ الْاَنْصَارَ وَاَبْنَآيَ الْاَنْصَارِ وَاَبْنَآيَ اَبْنَآئِ الْاَنْصَارِ

اے اﷲ! عزوجل انصار پر، اور انصار کے بیٹوں پر اور انصار کے بیٹوں کے بیٹوں پر رحم فرما۔

(مدارج جلد۲ ص۱۴۸)

{۲} اسی سال حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے نواسے حضرت عبداﷲ بن عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کی آنکھ میں ایک مرغ نے چونچ مار دی جس کے صدمے سے وہ دو رات تڑپ کر وفات پا گئے۔

(مدارج جلد ۲ ص۱۵۰)

{۳} اسی سال حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی زوجۂ مطہرہ حضرت بی بی زینب بنت خزیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی وفات ہوئی۔

(مدارج جلد ۲ ص۱۵۰)

{۴} اسی سال حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ام المؤمنین بی بی اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا۔

(مدارج جلد۲ ص۱۵۰)

{۵} اسی سال حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی فاطمہ بنت اسد رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے وفات پائی، حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنا مقدس پیراہن ان کے کفن کیلئے عطا فرمایا اور ان کی قبر میں اتر کر ان کی میت کو اپنے دست مبارک سے قبر میں اتارا اور فرمایا کہ فاطمہ بنت اسد کے سوا کوئی شخص بھی قبر کے دبوچنے سے نہیں بچا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صرف پانچ ہی میت ایسی خوش نصیب ہوئی ہیں جن کی قبر میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خود اترے: اوّل: حضرت بی بی خدیجہ، دوم:حضرت بی بی خدیجہ کا ایک لڑکا،سوم: عبداﷲ مزنی جن کا لقب ذوالبجادین ہے، چہارم:حضرت بی بی عائشہ کی ماں حضرت اُمِ رومان،پنجم: حضرت فاطمہ بنت اسد حضرت علی کی والدہ۔ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین)

(مدارج جلد۲ ص۱۵۰)

{۶} اسی سال ۴ شعبان ۴ ھ کو حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی پیدائش ہوئی۔

(مدارج جلد ۲ ص۱۵۱)

{۷} اسی سال ایک یہودی نے ایک یہودی کی عورت کے ساتھ زنا کیااور یہودیوں نے یہ مقدمہ بارگاہ نبوت میں پیش کیا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تورات و قرآن دونوں کتابوں کے فرمان سے اس کو سنگسار کرنے کا فیصلہ فرمایا۔

(مدارج جلد۲ ص۱۵۲)

{۸} اسی سال طعمہ بن ابیرق نے جو مسلمان تھا چوری کی تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قرآن کے حکم سے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا، اس پر وہ بھاگ نکلا اور مکہ چلا گیا۔ وہاں بھی اس نے چوری کی اہل مکہ نے اس کو قتل کر ڈالا یا اس پر دیوار گر پڑی اور مر گیا یا دریا میں پھینک دیا گیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ مرتد ہو گیا تھا۔

(مدارج جلد۲ ص۱۵۳)

{۹} بعض مؤرخین کے نزدیک شراب کی حرمت کا حکم بھی اسی سال نازل ہوا اور بعض کے نزدیک ۶ ھ میں اور بعض نے کہا کہ ۸ ھ میں شراب حرام کی گئی۔

(مدارج جلد ۲ ص۱۵۳)