ہجرت کا گیارہواں سال

-: جیش اُسامہ

-: جیش اُسامہ

اس لشکر کا دوسرا نام ” سریہ اُسامہ ” بھی ہے۔ یہ سب سے آخری فوج ہے جس کے روانہ کرنے کا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا۔ ۲۶ صفر ۱۱ ھ دو شنبہ کے دن حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے رومیوں سے جنگ کی تیاری کا حکم دیا اور دوسرے دن حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو بلا کر فرمایا کہ میں نے تم کو اس فوج کا امیر لشکر مقرر کیا تم اپنے باپ کی شہادت گاہ مقام ” اُبنٰی ” میں جاؤ اور نہایت تیزی کے ساتھ سفر کر کے ان کفار پر اچانک حملہ کر دو تا کہ وہ لوگ جنگ کی تیاری نہ کر سکیں۔ باوجودیکہ مزاج اقدس ناساز تھا مگر اسی حالت میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خود اپنے دست مبارک سے جھنڈا باندھا اور یہ نشانِ اسلام حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں دے کر ارشاد فرمایا :

اُغْزُ بِسْمِ اللهِ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَقَاتِلْ مَنْ کَفَرَ بِاللّٰهِ

اﷲ کے نام سے اور اﷲ کی راہ میں جہاد کرو اور کافروں کیساتھ جنگ کرو۔

حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت بریدہ بن الحضیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو علمبردار بنایا اور مدینہ سے نکل کر ایک کوس دور مقام ” جرف ” میں پڑاؤ کیا تا کہ وہاں پورا لشکر جمع ہو جائے۔ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے تمام معززین کو بھی اس لشکر میں شامل ہو جانے کا حکم دے دیا۔ بعض لوگوں پر یہ شاق گزرا کہ ایسا لشکر جس میں انصار و مہاجرین کے اکابر و عمائد موجود ہیں ایک نو عمر لڑکا جس کی عمر بیس برس سے زائد نہیں کس طرح امیر لشکر بنا دیا گیا ؟ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس اعتراض کی خبر ملی تو آپ کے قلب نازک پر صدمہ گزرا اور آپ نے علالت کے باوجود سر میں پٹی باندھے ہوئے ایک چادر اوڑھ کر منبر پر ایک خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا کہ اگر تم لوگوں نے اُسامہ کی سپہ سالاری پر طعنہ زنی کی ہے تو تم لوگوں نے اس سے قبل اس کے باپ کے سپہ سالار ہونے پر بھی طعنہ زنی کی تھی حالانکہ خدا کی قسم ! اس کا باپ (زید بن حارثہ) سپہ سالار ہونے کے لائق تھا اور اس کے بعد اس کا بیٹا (اُسامہ بن زید) بھی سپہ سالار ہونے کے قابل ہے اور یہ میرے نزدیک میرے محبوب ترین صحابہ میں سے ہے جیسا کہ اس کا باپ میرے محبوب ترین اصحاب میں سے تھا لہٰذا اُسامہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) کے بارے میں تم لوگ میری نیک وصیت کو قبول کرو کہ وہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے۔

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم یہ خطبہ دے کر مکان میں تشریف لے گئے اور آپ کی علالت میں کچھ اور بھی اضافہ ہو گیا۔

حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حکم نبوی کی تکمیل کرتے ہوئے مقام جرف میں پہنچ گئے تھے اور وہاں لشکر اسلام کا اجتماع ہوتا رہا یہاں تک کہ ایک عظیم لشکر تیار ہوگیا۔ ۱۰ ربیع الاول ۱۱ ھ کو جہاد میں جانے والے خواص حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے رخصت ہونے کے لئے آئے اور رخصت ہو کر مقام جرف میں پہنچ گئے۔ اس کے دوسرے دن حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی علالت نے اور زیادہ شدت اختیار کر لی۔ حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مزاج پرسی اور رخصت ہونے کے لئے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو دیکھا مگر ضعف کی وجہ سے کچھ بول نہ سکے، بار بار دست مبارک کو آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اور ان کے بدن پر اپنا مقدس ہاتھ پھیرتے تھے۔ حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ اس سے میں نے یہ سمجھا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میرے لئے دعا فرما رہے ہیں۔ اس کے بعد حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ رخصت ہو کر اپنی فوج میں تشریف لے گئے اور ۱۲ ربیع الاول ۱۱ ھ کو کوچ کرنے کا اعلان بھی فرما دیا۔ اب سوار ہونے کے لئے تیاری کر رہے تھے کہ ان کی والدہ حضرت اُمِ ایمن رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا فرستادہ آدمی پہنچا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نزع کی حالت میں ہیں۔ یہ ہوش ربا خبر سن کر حضرت اُسامہ و حضرت عمر و حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم وغیرہ فوراً ہی مدینہ آئے تو یہ دیکھا کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سکرات کے عالم میں ہیں اور اسی دن دوپہر کو یا سہ پہر کے وقت آپ کا وصال ہو گیا۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ یہ خبر سن کر حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا لشکر مدینہ واپس چلا آیا مگر جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مسند خلافت پر رونق افروز ہو گئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بعض لوگوں کی مخالفت کے باوجود ربیع الآخر کی آخری تاریخوں میں اس لشکر کو روانہ فرمایا اور حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مقام ” اُبنٰی ” میں تشریف لے گئے اور وہاں بہت ہی خونریز جنگ کے بعد لشکر اسلام فتح یاب ہوا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے باپ کے قاتل اور دوسرے کفار کو قتل کیا اور بے شمار مال غنیمت لے کر چالیس دن کے بعد مدینہ واپس تشریف لائے۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۴۰۹ تا ص۴۱۱ و زرقانی ج۳ ص۱۰۷ تا ۱۱۲)

-: وفاتِ اقدس

-: وفاتِ اقدس

حضور رحمۃ للعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا اس عالم میں تشریف لانا صرف اس لئے تھا کہ آپ خدا کے آخری اور قطعی پیغام یعنی دین اسلام کے احکام اُس کے بندوں تک پہنچا دیں اور خدا کی حجت تمام فرما دیں۔ اس کام کو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے کیونکر انجام دیا ؟ اور اس میں آپ کو کتنی کامیابی حاصل ہوئی ؟ اس کا اجمالی جواب یہ ہے کہ جب سے یہ دنیا عالَمِ وجود میں آئی ہزاروں انبیاء و رُسل علیہم السلام اس عظیم الشان کام کو انجام دینے کے لئے اس عالم میں تشریف لائے مگر تمام انبیاء و مرسلین کے تبلیغی کارناموں کو اگر جمع کر لیا جائے تو وہ حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے تبلیغی شاہکاروں کے مقابلہ میں ایسے ہی نظر آئیں گے جیسے آفتاب عالم تاب کے مقابلہ میں ایک چراغ یا ایک صحرا کے مقابلہ میں ایک ذرہ یا ایک سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تبلیغ نے عالم میں ایسا انقلاب پیدا کر دیا کہ کائنات ہستی کی ہر پستی کو معراج کمال کی سربلندی عطا فرما کر ذلت کی زمین کو عزت کا آسمان بنا دیا اور دین حنیف کے اس مقدس اور نورانی محل کو جس کی تعمیر کے لئے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء و رسل معمار بنا کر بھیجے جاتے رہے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خاتم النبیین کی شان سے اس قصر ہدایت کو اس طرح مکمل فرما دیا کہ حضرت حق جل جلالہ نے اس پر اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ کی مہر لگا دی۔

جب دین اسلام مکمل ہو چکا اور دنیا میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے تشریف لانے کا مقصد پورا ہو چکا تو اﷲ تعالیٰ کے وعدہ محکم اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ کے پورا ہونے کا وقت آ گیا۔

-: حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنی وفات کا علم

-: حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنی وفات کا علم

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو بہت پہلے سے اپنی وفات کا علم حاصل ہو گیا تھا اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر لوگوں کو اس کی خبر بھی دے دی تھی۔ چنانچہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے لوگوں کو یہ فرما کر رخصت فرمایا تھا : ” شاید اس کے بعد میں تمہارے ساتھ حج نہ کر سکوں گا۔ “

اسی طرح ” غدیر خم ” کے خطبہ میں اسی انداز سے کچھ اسی قسم کے الفاظ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے ادا ہوئے تھے اگرچہ ان دونوں خطبات میں لفظ لعل (شاید) فرما کر ذرا پردہ ڈالتے ہوئے اپنی وفات کی خبر دی مگر حجۃ الوداع سے واپس آ کر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جو خطبات ارشاد فرمائے اس میں لَعَلَّ(شاید) کا لفظ آپ نے نہیں فرمایا بلکہ صاف صاف اور یقین کے ساتھ اپنی وفات کی خبر سے لوگوں کو آگاہ فرما دیا۔

چنانچہ بخاری شریف میں حضرت عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لے گئے اور شہداء احد کی قبروں پر اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر نماز پڑھی جاتی ہے پھر پلٹ کر منبر پر رونق افروز ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ میں تمہارا پیش رو (تم سے پہلے وفات پانے والا) ہوں اور تمہارا گواہ ہوں اور میں خدا کی قسم! اپنے حوض کو اس وقت دیکھ رہا ہوں۔

(بخاری کتاب الحوض ج۲ ص۹۷۵)

اس حدیث میں اِنِّيْ فَرَطٌ لَّكُمْ فرمایا یعنی میں اب تم لوگوں سے پہلے ہی وفات پا کر جا رہا ہوں تا کہ وہاں جا کر تم لوگوں کے لئے حوض کوثر وغیرہ کا انتظام کروں۔

یہ قصہ مرض وفات شروع ہونے سے پہلے کا ہے لیکن اس قصہ کو بیان فرمانے کے وقت آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اسکا یقینی علم حاصل ہو چکا تھا کہ میں کب اور کس وقت دنیا سے جانے والا ہوں اور مرض وفات شروع ہونے کے بعد تو اپنی صاحبزادی حضرت بی بی فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو صاف صاف لفظوں میں بغیر ” شاید ” کا لفظ فرماتے ہوئے اپنی وفات کی خبر دے دی۔ ْ

چنانچہ بخاری شریف کی روایت ہے کہs

اپنے مرض وفات میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو بلایا اور چپکے چپکے ان سے کچھ فرمایا تو وہ رو پڑیں۔ پھر بلایا اور چپکے چپکے کچھ فرمایا تو وہ ہنس پڑیں جب ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن نے اس کے بارے میں حضرت بی بی فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے آہستہ آہستہ مجھ سے یہ فرمایا کہ میں اسی بیماری میں وفات پا جاؤں گا تو میں رو پڑی۔ پھر چپکے چپکے مجھ سے فرمایا کہ میرے بعد میرے گھر والوں میں سے سب سے پہلے تم وفات پا کر میرے پیچھے آؤ گی تو میں ہنس پڑی۔

(بخاری باب مرض النبی ج۲ ص۶۳۸)

بہر حال حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنی وفات سے پہلے اپنی وفات کے وقت کا علم حاصل ہو چکا تھا کیوں نہ ہو کہ جب دوسرے لوگوں کی وفات کے اوقات سے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اﷲ عزوجل نے آگاہ فرما دیا تھا تو اگر خداوند علام الغیوب کے بتا دینے سے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنی وفات کے وقت کا قبل از وقت علم ہو گیا تو اس میں کونسا استبعاد ہے ؟ اﷲ تعالیٰ نے تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو علم ما کان و ما یکون عطا فرمایا۔ یعنی جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے سب کا علم عطا فرما کر آپ کو دنیا سے اٹھایا۔

-: علالت کی ابتداء

-: علالت کی ابتداء

مرض کی ابتداء کب ہوئی ؟ اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کتنے دنوں تک علیل رہے ؟ اس میں مؤرخین کا اختلاف ہے۔ بہر حال ۲۰ یا ۲۲ صفر ۱۱ ھ کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جنۃ البقیع میں جو عام مسلمانوں کا قبرستان ہے آدھی رات میں تشریف لے گئے وہاں سے واپس تشریف لائے تو مزاج اقدس ناساز ہو گیا یہ حضرت میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی باری کا دن تھا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۴۱۷ و زرقانی ج۳ ص۱۱۰)

دو شنبہ کے دن آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی علالت بہت شدید ہو گئی۔ آپ کی خواہش پر تمام ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن نے اجازت دے دی کہ آپ حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے یہاں قیام فرمائیں۔ چنانچہ حضرت عباس و حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے سہارا دے کر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے حجرۂ مبارکہ میں پہنچا دیا۔ جب تک طاقت رہی آپ خود مسجد نبوی میں نمازیں پڑھاتے رہے۔ جب کمزوری بہت زیادہ بڑھ گئی تو آپ نے حکم دیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ میرے مصلی پر امامت کریں۔ چنانچہ سترہ نمازیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے پڑھائیں۔

ایک دن ظہر کی نماز کے وقت مرض میں کچھ افاقہ محسوس ہوا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سات پانی کی مشکیں میرے اوپر ڈالی جائیں۔ جب آپ غسل فرما چکے تو حضرت عباس اور حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہما آپ کا مقدس بازو تھام کر آپ کو مسجد میں لائے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نماز پڑھا رہے تھے آہٹ پاکر پیچھے ہٹنے لگے مگر آپ نے اشارہ سے ان کو روکا اور ان کے پہلو میں بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھ کر حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور دوسرے مقتدی لوگ ارکان نماز ادا کرتے رہے۔ نماز کے بعد آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک خطبہ بھی دیا جس میں بہت سی وصیتیں اور احکام اسلام بیان فرما کر انصار کے فضائل اور ان کے حقوق کے بارے میں کچھ کلمات ارشاد فرمائے اور سورۂ و العصر اور ایک آیت بھی تلاوت فرمائی۔

(مدارج النبوۃ ج۲ ص۴۲۵ و بخاری ج۲ ص۶۳۹)

گھر میں سات دینار رکھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ تم ان دیناروں کو لاؤ تا کہ میں ان دیناروں کو خدا کی راہ میں خرچ کر دوں۔ چنانچہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ذریعے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان دیناروں کو تقسیم کر دیا اور اپنے گھر میں ایک ذرہ بھر بھی سونا یا چاندی نہیں چھوڑا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۴۲۴)

آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مرض میں کمی بیشی ہوتی رہتی تھی۔ خاص وفات کے دن یعنی دو شنبہ کے روز طبیعت اچھی تھی۔ حجرہ مسجد سے متصل ہی تھا۔ آپ نے پردہ اٹھا کر دیکھا تو لوگ نماز فجر پڑھ رہے تھے۔ یہ دیکھ کر خوشی سے آپ ہنس پڑے لوگوں نے سمجھا کہ آپ مسجد میں آنا چاہتے ہیں مارے خوشی کے تمام لوگ بے قابو ہو گئے مگر آپ نے اشارہ سے روکا اور حجرہ میں داخل ہو کر پردہ ڈال دیا یہ سب سے آخری موقع تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے جمال نبوت کی زیارت کی۔ حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا رُخِ انور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا قرآن کا کوئی ورق ہے۔ یعنی سفید ہو گیا تھا۔

(بخاری ج۲ ص۶۴۰ باب مرض النبي صلي الله تعالیٰ عليه وسلم وغیره)

اس کے بعد بار بار غشی طاری ہونے لگی۔ حضرت فاطمہ زہراء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی زبان سے شدت غم میں یہ لفظ نکل گیا : وَاكَرْبَ اَبَاه ہائے رے میرے باپ کی بے چینی ! حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بیٹی ! تمہارا باپ آج کے بعد کبھی بے چین نہ ہو گا۔

(بخاری ج۲ ص۶۴۱ باب مرض النبي صلي الله تعالیٰ عليه وسلم)

اس کے بعد بار بار آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم یہ فرماتے رہے کہ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ یعنی ان لوگوں کے ساتھ جن پر خدا کا انعام ہے اور کبھی یہ فرماتے کہ اَللّٰهُمَّ فِي الرَّفِيْقِ الْاَعْلٰي خداوندا ! بڑے رفیق میں اور لَا اِلٰهَ اِلَا اللّٰهُ بھی پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ بے شک موت کے لئے سختیاں ہیں۔ حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ تندرستی کی حالت میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ پیغمبروں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ خواہ وفات کو قبول کریں یا حیاتِ دنیا کو۔ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی زَبانِ مبارک پر یہ کلمات جاری ہوئے تو میں نے سمجھ لیا کہ آپ نے آخرت کو قبول فرما لیا۔

(بخاری ج۲ ص۶۴۰ و ص۶۴۱ باب آخر ماتكلم النبي صلي الله تعالیٰ عليه وسلم)

وفات سے تھوڑی دیر پہلے حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے بھائی عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تازہ مسواک ہاتھ میں لئے حاضر ہوئے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی طرف نظر جما کر دیکھا۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے سمجھا کہ مسواک کی خواہش ہے۔ انہوں نے فوراً ہی مسواک لے کر اپنے دانتوں سے نرم کی اور دست اقدس میں دے دی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسواک فرمائی سہ پہر کا وقت تھا کہ سینۂ اقدس میں سانس کی گھرگھراہٹ محسوس ہونے لگی اتنے میں لب مبارک ہلے تو لوگوں نے یہ الفاظ سنے کہ اَلصَّلٰوةَ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُم نماز اور لونڈی غلاموں کا خیال رکھو۔

پاس میں پانی کی ایک لگن تھی اس میں بار بار ہاتھ ڈالتے اور چہرۂ اقدس پر ملتے اور کلمہ پڑھتے۔ چادر مبارک کو کبھی منہ پر ڈالتے کبھی ہٹا دیتے۔ حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سر اقدس کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی ہوئی تھیں۔ اتنے میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھا کر انگلی سے اشارہ فرمایا اور تین مرتبہ یہ فرمایا کہ بَلِ الرَّفِيْقُ الْاَعْلٰي (اب کوئی نہیں) بلکہ وہ بڑا رفیق چاہیے۔ یہی الفاظ زبانِ اقدس پر تھے کہ ناگہاں مقدس ہاتھ لٹک گئے اور آنکھیں چھت کی طرف دیکھتے ہوئے کھلی کی کھلی رہیں اور آپ کی قدسی روح عالَمِ قدس میں پہنچ گئی۔

(اِنَّا ِﷲِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ) اَللّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلٰي سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ اَجْمَعِيْنَ

(بخاری ج۲ ص۶۴۰ و ص۶۴۱ باب مرض النبی صلی الله تعالیٰ عليه وسلم)

تاریخ وفات میں مؤرخین کا بڑا اختلاف ہے لیکن اس پر تمام علماء سیرت کا اتفاق ہے کہ دو شنبہ کا دن اور ربیع الاول کا مہینہ تھا بہر حال عام طور پر یہی مشہور ہے کہ ۱۲ ربیع الاول ۱۱ ھ دو شنبہ کے دن تیسرے پہر آپ نے وصال فرمایا۔ (واﷲ تعالیٰ اعلم)

-: وفات کا اثر

-: وفات کا اثر

حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات سے حضرات صحابہ کرام اور اہل بیت عظام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو کتنا بڑا صدمہ پہنچا ؟ اور اہل مدینہ کا کیا حال ہو گیا ؟ اس کی تصویر کشی کے لئے ہزاروں صفحات بھی متحمل نہیں ہو سکتے۔ وہ شمع نبوت کے پروانے جو چند دنوں تک جمال نبوت کادیدار نہ کرتے تو ان کے دل بے قرار اور ان کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی تھیں۔ ظاہر ہے کہ ان عاشقانِ رسول پر جان عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دائمی فراق کا کتنا روح فرسا اور کس قدر جانکاہ صدمہ عظیم ہوا ہو گا ؟ جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بلا مبالغہ ہوش و حواس کھو بیٹھے، ان کی عقلیں گم ہو گئیں، آوازیں بند ہو گئیں اور وہ اس قدر مخبوط الحواس ہو گئے کہ ان کے لئے یہ سوچنا بھی مشکل ہو گیا کہ کیا کہیں ؟ اور کیا کریں ؟ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پر ایسا سکتہ طاری ہو گیا کہ وہ اِدھر اُدھر بھاگے بھاگے پھرتے تھے مگر کسی سے نہ کچھ کہتے تھے نہ کسی کی کچھ سنتے تھے۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ رنج و ملال میں نڈھال ہو کر اس طرح بیٹھ رہے کہ ان میں اٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے کی سکت ہی نہیں رہی۔ حضرت عبداﷲ بن انیس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے قلب پر ایسا دھچکا لگا کہ وہ اس صدمہ کو برداشت نہ کر سکے اور ان کا ہارٹ فیل ہو گیا۔

حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس قدر ہوش و حواس کھو بیٹھے کہ انہوں نے تلوار کھینچ لی اور ننگی تلوار لے کر مدینہ کی گلیوں میں اِدھر اُدھر آتے جاتے تھے اور یہ کہتے پھرتے تھے کہ اگر کسی نے یہ کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں اِس تلوار سے اس کی گردن اڑا دوں گا۔

حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ وفات کے بعد حضرت عمر و حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما اجازت لے کر مکان میں داخل ہوئے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھ کر کہا کہ بہت ہی سخت غشی طاری ہوگئی ہے۔ جب وہ وہاں سے چلنے لگے تو حضرت مغیرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے عمر ! تمہیں کچھ خبر بھی ہے ؟ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ آپے سے باہر ہو گئے اور تڑپ کر بولے کہ اے مغیرہ ! تم جھوٹے ہو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا اس وقت تک انتقال نہیں ہو سکتا جب تک دنیا سے ایک ایک منافق کا خاتمہ نہ ہو جائے۔

مواہب لدنیہ میں طبری سے منقول ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات کے وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ” سُنح ” میں تھے جو مسجد نبوی سے ایک میل کے فاصلہ پر ہے۔ ان کی بیوی حضرت حبیبہ بنت خارجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا وہیں رہتی تھیں۔ چونکہ دو شنبہ کی صبح کو مرض میں کمی نظر آئی اور کچھ سکون معلوم ہوا اس لئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خود حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اجازت دے دی تھی کہ تم ” سُنح ” چلے جاؤ اور بیوی بچوں کو دیکھتے آؤ۔

بخاری شریف وغیرہ میں ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ” سُنح ” سے آئے اور کسی سے کوئی بات نہ کہی نہ سنی۔ سیدھے حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے حجرے میں چلے گئے اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے رخ انور سے چادر ہٹا کر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر جھکے اور آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان نہایت گرم جوشی کے ساتھ ایک بوسہ دیا اور کہا کہ آپ اپنی حیات اور وفات دونوں حالتوں میں پاکیزہ رہے۔ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ہرگز خداوند تعالیٰ آپ پر دو موتوں کو جمع نہیں فرمائے گا۔ آپ کی جو موت لکھی ہوئی تھی آپ اس موت کے ساتھ وفات پا چکے۔ اسکے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مسجد میں تشریف لائے تو اس وقت حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لوگوں کے سامنے تقریر کر رہے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے عمر ! بیٹھ جاؤ۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بیٹھنے سے انکار کر دیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے انہیں چھوڑ دیا اور خود لوگوں کو متوجہ کرنے کے لئے خطبہ دینا شروع کر دیا کہ

اما بعد ! جو شخص تم میں سے محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو شخص تم میں سے خدا عزوجل کی پرستش کرتا تھا تو خدا زندہ ہے وہ کبھی نہیں مرے گا۔پھر اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے سورۂ آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی:

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ط اَفَاْئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓي اَعْقَابِكُمْ ط وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰي عَقِبَيْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَيْئًا ط وَ سَیَجْزِي اللّٰهُ الشّٰکِرِيْنَ

(آل عمران)

اور محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) تو ایک رسول ہیں ان سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے تو کیا اگر وہ انتقال فرما جائیں یا شہید ہو جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ اور جو الٹے پاؤں پھرے گا اﷲ کا کچھ نقصان نہ کرے گا اور عنقریب اﷲ شکر ادا کرنے والوں کو ثواب دے گا۔

حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی تو معلوم ہوتا تھا کہ گویا کوئی اس آیت کو جانتا ہی نہ تھا۔ ان سے سن کر ہر شخص اسی آیت کو پڑھنے لگا۔

(بخاری ج۱ ص۱۶۶ باب الدخول علي المیت الخ و مدارج النبوة ج۲ ص۴۳۳)

حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی زبان سے سورۂ آلِ عمران کی یہ آیت سنی تو مجھے معلوم ہو گیا کہ واقعی نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ پھر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اضطراب کی حالت میں ننگی شمشیر لے کر جو اعلان کرتے پھرتے تھے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا وصال نہیں ہوا اس سے رجوع کیا اور ان کے صاحبزادے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ گویا ہم پر ایک پردہ پڑا ہوا تھا کہ اس آیت کی طرف ہمارا دھیان ہی نہیں گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے خطبہ نے اس پردہ کو اٹھا دیا۔

(مدارج النبوۃ ج۲ ص۴۳۴)

-: تجہیز و تکفین

-: تجہیز و تکفین

چونکہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے وصیت فرما دی تھی کہ میری تجہیز و تکفین میرے اہل بیت اور اہل خاندان کریں۔ اس لئے یہ خدمت آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے خاندان ہی کے لوگوں نے انجام دی۔ چنانچہ حضرت فضل بن عباس و حضرت قثم بن عباس و حضرت علی و حضرت عباس و حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے مل جل کر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو غسل دیا اور ناف مبارک اور پلکوں پر جو پانی کے قطرات اور تری جمع تھی حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جوش محبت اور فرط عقیدت سے اس کو زبان سے چاٹ کر پی لیا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۴۳۸ و ص۴۳۹)

غسل کے بعد تین سوتی کپڑوں کا جو ” سحول ” گاؤں کے بنے ہوئے تھے کفن بنایا گیا ان میں قمیص و عمامہ نہ تھا۔

(بخاری ج۱ ص۱۶۹ باب الثیاب البیض للکفن)

-: نماز جنازہ

-: نماز جنازہ

جنازہ تیار ہوا تو لوگ نماز جنازہ کے لئے ٹوٹ پڑے۔ پہلے مردوں نے پھر عورتوں نے پھر بچوں نے نماز جنازہ پڑھی۔ جنازہ مبارکہ حجرہ مقدسہ کے اندر ہی تھا۔ باری باری سے تھوڑے تھوڑے لوگ اندر جاتے تھے اور نماز پڑھ کر چلے آتے تھے لیکن کوئی امام نہ تھا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۲۴۰ و ابن ماجه ص۱۱۸ باب ذکر و فاتہ)

-: قبر انور

-: قبر انور

حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے قبر شریف تیار کی جو بغلی تھی۔ جسم اطہر کو حضرت علی و حضرت فضل بن عباس و حضرت عباس و حضرت قثم بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے قبر منور میں اتارا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۴۴۲)

لیکن ابو داؤد کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اُسامہ اور عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہم بھی قبر میں اترے تھے۔

(ابو داؤد ج۲ ص۴۵۸ باب کم یدخل القبر)

صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں یہ اختلاف رونما ہوا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو کہاں دفن کیا جائے کچھ لوگوں نے کہا کہ مسجد نبوی میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا مدفن ہونا چاہیے اور کچھ نے یہ رائے دی کہ آپ کو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے قبرستان میں دفن کرنا چاہیے۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے کہ ہر نبی اپنی وفات کے بعد اسی جگہ دفن کیا جاتا ہے جس جگہ اس کی وفات ہوئی ہو۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو سن کر لوگوں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بچھونے کو اٹھایا اور اسی جگہ (حجرۂ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) میں آپ کی قبر تیار کی اور آپ اسی میں مدفون ہوئے۔

(ابن ماجه ص۱۱۸ باب ذکر و فاته)

حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے غسل شریف اور تجہیز و تکفین کی سعادت میں حصہ لینے کے لئے ظاہر ہے کہ شمع نبوت کے پروانے کس قدر بے قرار رہے ہوں گے ؟ مگر جیسا کہ ہم تحریر کر چکے کہ چونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود ہی یہ وصیت فرما دی تھی کہ میرے غسل اور تجہیز و تکفین میرے اہل بیت ہی کریں۔ پھر امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بھی بحیثیت امیر المؤمنین ہونے کے یہی حکم دیا کہ ” یہ اہل بیت ہی کا حق ہے ” اس لئے حضرت عباس اور اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کواڑ بند کر کے غسل دیا اور کفن پہنایا مگر شروع سے آخر تک خود حضرت امیر المؤمنین اور دوسرے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم حجرہ مقدسہ کے باہر حاضر رہے۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۴۳۷)

-: حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ترکہ

-: حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ترکہ

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس زندگی اس قدر زاہدانہ تھی کہ کچھ اپنے پاس رکھتے ہی نہیں تھے۔ اس لئے ظاہر ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے وفات کے بعد کیا چھوڑا ہو گا ؟ چنانچہ حضرت عمرو بن الحارث رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ

مَا تَرَكَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰي عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهٖ دِرْهَمًا وَّ لَا دِيْنَارًا وَّ لَا عَبْدًا وَّ لَا اَمَةً وَّ لَا شَيْئًا اِلَّا بَغَلَتَهٗ الْبَيْضَاءَ وَ سِلَاحَهٗ وَ اَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت نہ درہم و دینار چھوڑا نہ لونڈی و غلام نہ اور کچھ صرف اپنا سفید خچر اور ہتھیار اور کچھ زمین جو عام مسلمانوں پر صدقہ کر گئے چھوڑا تھا۔

(بخاری ج۱ ص۳۸۲ کتاب الوصایا)

بہر حال پھر بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے متروکات میں تین چیزیں تھیں۔ (۱) بنو نضیر، فدک، خیبر کی زمینیں (۲) سواری کا جانور (۳) ہتھیار۔ یہ تینوں چیزیں قابل ذکر ہیں۔

-: زمین

-: زمین

بنو نضرح، فدک، خیبر کی زمینوں کے باغات وغیرہ کی آمدنیاں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے اور اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے سال بھر کے اخراجات اور فقراء و مساکین اور عام مسلمانوں کی حاجات میں صرف فرماتے تھے۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۴۴۵ و ابو داؤد ج۲ ص۴۱۲ باب فی صفایا رسول الله)

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد حضرت عباس اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور بعض ازواج مطہرات رضی اﷲ تعالیٰ عنہن چاہتی تھیں کہ ان جائیدادوں کو میراث کے طور پر وارثوں کے درمیان تقسیم ہو جانا چاہیے۔ چنانچہ حضرت امیر المؤمنین ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے سامنے ان لوگوں نے اس کی درخواست پیش کی مگر آپ اور حضرت عمر وغیرہ اکابر صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے ان لوگوں کو یہ حدیث سنا دی کہ لَا نُوْرَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ

(ابو داؤد ج۲ ص۴۱۳ و بخاری ج۱ ص۴۳۶ (باب فرض الخمس)

ہم (انبیاء) کا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم نے جو کچھ چھوڑا وہ مسلمانوں پر صدقہ ہے۔

اور اس حدیث کی روشنی میں صاف صاف کہہ دیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی وصیت کے بموجب یہ جائیدادیں وقف ہو چکی ہیں۔ لہٰذا حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی مقدس زندگی میں جن مدآت و مصارف میں ان کی آمدنیاں خرچ فرمایا کرتے تھے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں حضرت عباس و حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے اصرار سے بنو نضیر کی جائیداد کا ان دونوں کو اس شرط پر متولی بنا دیا تھا کہ اس جائیداد کی آمدنیاں انہیں مصارف میں خرچ کرتے رہیں گے جن میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خرچ فرمایا کرتے تھے۔ پھر ان دونوں میں کچھ ان بن ہو گئی اور ان دونوں حضرات نے یہ خواہش ظاہر کی کہ بنو نضیر کی جائیداد تقسیم کر کے آدھی حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی تولیت میں دے دی جائے اور آدھی کے متولی حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ رہیں مگر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس درخواست کو نا منظور فرما دیا۔

(ابو داؤد ج۲ ص۴۱۳ باب فی وصایا رسول الله و بخاری ج۱ ص۴۳۶ باب فرض الخمس)

لیکن خیبر اور فدک کی زمینیں حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زمانے تک خلفاء ہی کے ہاتھوں میں رہیں حاکم مدینہ مروان بن الحکم نے اس کو اپنی جاگیر بنا لی تھی مگر حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں پھر وہی عملدر آمد جاری کر دیا جو حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے دور خلافت میں تھا۔

(ابو داؤد ج۲ ص۴۱۷ باب فی وصایا رسول اﷲ مطبوعه نامی پریس)

-: سواری کے جانور

-: سواری کے جانور

زرقانی علی المواہب وغیرہ میں لکھا ہوا ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ملکیت میں سات گھوڑے، پانچ خچر، تین گدھے، دو اونٹنیاں تھیں۔

(زرقانی ج۳ ص۳۸۶ تا ص۳۹۱)

لیکن اس میں یہ تشریح نہیں ہے کہ بوقت وفات ان میں سے کتنے جانور موجود تھے کیونکہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے جانور دوسروں کو عطا فرماتے رہتے تھے۔ کچھ نئے خریدتے کچھ ہدایا اور نذرانوں میں ملتے بھی رہے۔

بہر حال روایات صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وفات اقدس کے وقت جو سواری کے جانور موجود تھے ان میں ایک گھوڑا تھا جس کا نام ” لحیف ” تھا ایک سفید خچر تھا جس کا نام ” دلدل ” تھا یہ بہت ہی عمر دراز ہوا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زمانے تک زندہ رہا اتنا بوڑھا ہو گیا تھا کہ اس کے تمام دانت گر گئے تھے اور آخر میں اندھا بھی ہو گیا تھا۔ ابن عساکر کی تاریخ میں ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی جنگ خوارج میں اس پر سوار ہوئے تھے۔

(زرقانی ج۳ ص۳۸۹)

ایک عربی گدھا تھا جس کا نام ” عفیر ” تھا ایک اونٹنی تھی جس کا نام ” عضباء و قصواء ” تھا یہ وہی اونٹنی تھی جس کو بوقت ہجرت آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے خریدا تھا اس اونٹنی پر آپ نے ہجرت فرمائی اور اس کی پشت پر حجۃ الوداع میں آپ نے عرفات و منیٰ کا خطبہ پڑھا تھا۔ (واﷲ تعالیٰ اعلم)

-: ہتھیار

-: ہتھیار

چونکہ جہاد کی ضرورت ہر وقت درپیش رہتی تھی اس لئے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اسلحہ خانہ میں نو یا دس تلواریں، سات لوہے کی زر ہیں، چھ کمانیں، ایک تیر دان، ایک ڈھال، پانچ برچھیاں، دو مغفر، تین جبے، ایک سیاہ رنگ کا بڑا جھنڈا باقی سفید و زرد رنگ کے چھوٹے چھوٹے جھنڈے تھے اور ایک خیمہ بھی تھا۔

ہتھیاروں میں تلواروں کے بارے میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تحریر فرمایا کہ مجھے اس کا علم نہیں کہ یہ سب تلواریں بیک وقت جمع تھیں یا مختلف اوقات میں آپ کے پاس رہیں۔

(مدارج النبوة ج۳ ص۵۹۵)

-: ظروف و مختلف سامان

-: ظروف و مختلف سامان

ظروف اور برتنوں میں کئی پیالے تھے ایک شیشہ کا پیالہ بھی تھا۔ ایک پیالہ لکڑی کا تھا جو پھٹ گیا تھا تو حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کے شگاف کو بند کرنے کیلئے ایک چاندی کی زنجیر سے اس کو جکڑ دیا تھا۔

(بخاری ج۱ ص۴۳۸ باب ما ذکر من ورع النبی)

چمڑے کا ایک ڈول، ایک پرانی مشک، ایک پتھر کا تغار، ایک بڑا سا پیالہ جس کا نام ” السعہ ” تھا، ایک چمڑے کا تھیلا جس میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آئینہ، قینچی اور مسواک رکھتے تھے، ایک کنگھی، ایک سرمہ دانی، ایک بہت بڑا پیالہ جس کا نام ” الغراء ” تھا، صاع اور مد دو ناپنے کے پیمانے۔

ان کے علاوہ ایک چارپائی جس کے پائے سیاہ لکڑی کے تھے۔ یہ چارپائی حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہدیۃً خدمت اقدس میں پیش کی تھی۔ بچھونا اور تکیہ چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، مقدس جوتیاں، یہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اسباب و سامانوں کی ایک فہرست ہے جن کا تذکرہ احادیث میں متفرق طور پر آتا ہے۔

-: تبرکاتِ نبوت

-: تبرکاتِ نبوت

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ان متروکہ سامانوں کے علاوہ بعض یادگاری تبرکات بھی تھے جن کو عاشقانِ رسول فرطِ عقیدت سے اپنے اپنے گھروں میں محفوظ کئے ہوئے تھے اور ان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ چنانچہ موئے مبارک، نعلین شریفین اور ایک لکڑی کا پیالہ جو چاندی کے تاروں سے جوڑا ہوا تھا حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان تینوں آثار متبرکہ کو اپنے گھر میں محفوظ رکھا تھا۔

(بخاری ج۱ ص۴۳۸ باب ما ذکر من ورع النبی صلی الله تعالیٰ علیه وسلم الخ)

اسی طرح ایک موٹا کمبل حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس تھا جن کو وہ بطور تبرک اپنے پاس رکھے ہوئے تھیں اور لوگوں کو اس کی زیارت کراتی تھیں۔ چنانچہ حضرت ابوبردہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ہم لوگوں کو حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی خدمت مبارکہ میں حاضری کا شرف حاصل ہوا تو انہوں نے ایک موٹا کمبل نکالا اور فرمایا کہ یہ وہی کمبل ہے جس میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے وفات پائی۔

(بخاری ج۱ ص۴۳۸ باب ما ذکر من ورع النبی صلی الله تعالیٰ علیه وسلم)

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایک تلوار جس کا نام ” ذوالفقار ” تھا حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس تھی ان کے بعد ان کے خاندان میں رہی یہاں تک کہ یہ تلوار کربلا میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھی۔ اس کے بعد ان کے فرزند و جانشین حضرت امام زین العابدین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس رہی۔ چنانچہ حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد جب حضرت امام زین العابدین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ یزیدبن معاویہ کے پاس سے رخصت ہو کر مدینہ تشریف لائے تو مشہور صحابی حضرت مسور بن مخرمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ اگر آپ کو کوئی حاجت ہو یا میرے لائق کوئی کار خدمت ہو تو آپ مجھے حکم دیں میں آپ کے حکم کی تعمیل کے لئے حاضر ہوں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا مجھے کوئی حاجت نہیں پھر حضرت مسور بن مخرمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ گزارش کی کہ آپ کے پاس رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی جو تلوار (ذوالفقار) ہے کیا آپ وہ مجھے عنایت فرما سکتے ہیں ؟ کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ کہیں یزید کی قوم آپ پر غالب آ جائے اور یہ تبرک آپ کے ہاتھ سے جاتا رہے اور اگر آپ نے اس مقدس تلوار کو مجھے عطا فرما دیا تو خدا کی قسم ! جب تک میری ایک سانس باقی رہے گی ان لوگوں کی اس تلوار تک رسائی بھی نہیں ہو سکتی مگر حضرت امام زین العابدین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس مقدس تلوار کو اپنے سے جدا کرنا گوارا نہیں فرمایا۔

(بخاری ج۱ ص۴۳۸ باب ما ذکر من ورع النبی صلی الله تعالیٰ علیه وسلم)

آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی انگوٹھی اور عصائے مبارک پر جانشین ہونے کی بنا پر خلفائے کرام حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق و حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اپنے اپنے دور خلافت میں قابض رہے مگر انگوٹھی حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سے کنوئیں میں گر کر ضائع ہو گئی۔ اس کنوئیں کا نام ” بیر اریس ” ہے جس کو لوگ ” بیر خاتم ” بھی کہتے ہیں۔

(بخاری ج۲ ص۸۷۲ باب خاتم الفضه)

اسی قسم کے دوسرے اور بھی تبرکات نبویہ ہیں جو مختلف صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے پاس محفوظ تھے جن کا تذکرہ احادیث اور سیرت کی کتابوں میں جا بجا متفرق طور پر مذکور ہے اور ان مقدس تبرکات سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور تابعین عظام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کو اس قدر والہانہ محبت تھی کہ وہ ان کو اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز سمجھتے تھے۔